بیلجیم میں نقاب پر پابندی درست ہے، یورپی عدالت کا فیصلہ | معاشرہ | DW | 11.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بیلجیم میں نقاب پر پابندی درست ہے، یورپی عدالت کا فیصلہ

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے بیلجیم کی حکومت کی جانب سے عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر لگائی جانے والی پابندی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ اس پابندی کے خلاف دو مسلم خواتین نے درخواست دائر کی تھی۔

فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں قائم یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کی طرف سے سنائے جانے والے اس فیصلے کے مطابق اس پابندی کا مقصد معاشرتی میل ملاپ کو یقینی بنانا اور حقوق اور دیگر افراد کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے اور یہ کہ یہ پابندی ایک جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے۔

بیلجیم میں پورے چہرے کے نقاب پر پابندی اُس قانون کے تحت عائد کی گئی تھی، جو جون 2011ء میں منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت عوامی مقامات پر اس طرح سے چہرے پر مکمل یا جزوی نقاب کے ساتھ جانا منع ہے، جو متعلقہ فرد (خاتون) کو ناقابل شناخت بنا دے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے یا سات دنوں تک جیل کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

فرانس وہ پہلا یورپی ملک تھا، جس نے اپریل 2011ء میں اپنے ہاں پورے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق فرانس میں اس پابندی کے خاتمے کے لیے دائر کی گئی ایک درخواست کو 2014ء میں ہی رد کر چکی ہے۔ اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ پابندی مذہبی آزادی کے خلاف اور متعلقہ فرد کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

بیلجیم کی طرف سے عائد کردہ اس پابندی کے خلاف درخواست بیلجیم ہی کی ایک خاتون مسلم شہری سمیعہ بلقاسمی اور ایک مراکشی نژاد مسلمہ یامینا اوسار کی طرف سے یورپی عدالت میں دائر کی گئی تھی۔ انہوں نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے نقاب لیتی ہیں، اور اس قانون سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جو کہ ایک امتیازی قانون بھی ہے۔

Europaeischer Gerichtshof für Menschenrechte Strassburg (picture-alliance/dpa/w.Rothermel)

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق فرانس میں اس پابندی کے خاتمے کے لیے دائر کی گئی ایک درخواست کو 2014ء میں ہی رد کر چکی ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیلجیم میں نقاب پر پابندی لگنے کے بعد بھی بلقاسمی نے نقاب لینے کا سلسلہ جاری رکھا تاہم سماجی دباؤ اور اس خوف کے باعث کہ انہیں جرمانہ ہو سکتا ہے، انہوں نے یہ سلسلہ ترک کر دیا۔ تاہم اوسار کے مطابق انہوں نے اس فیصلے کے بعد اپنے گھر پر ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 03:23
Now live
03:23 منٹ

آسٹریا میں چہرے کے نقاب اور برقعے پر پابندی

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار