′بیلجیئم لیبیا کے قریب جنگی بحری جہاز واپس بلائے‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 17.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

'بیلجیئم لیبیا کے قریب جنگی بحری جہاز واپس بلائے‘

بیلجیئم کے وزیر برائے مہاجرت تھیو فرانکن نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے لیےیورپی یونین کے ایک امدادی مشن میں شامل  لیبیا کے قریب سمندر میں موجوداپنے فوجی بحری جہاز کو واپس بلائے۔

مہاجرت کے امور کے نگران وزیر تھیو فرانکن کا موقف ہے کہ سمندر میں امدادی کارروائیاں کرنے والے ایسے جہازوں کی موجودگی بحیرہ روم کا خطرناک سفر کرنے کے حوالے سے مہاجرین کے حوصلے بڑھاتی ہے۔

بیلجیئم کی حکومت نے لیبیا کے ساحل سے ذرا فاصلے پر یورپی یونین کے ایک مشن کے تحت ایک جنگی بحری جہاز بھیج رکھا ہے۔ اس مشن کا مقصد انسانی اسمگلروں کے اُس نیٹ ورک کو توڑنا ہے جو لیبیا کے ساحلوں سے مہاجرین کو خستہ حال کشتیوں پر اٹلی کے سفر پر روانہ کرتے ہیں۔

اگرچہ اس مشن میں شامل ملٹری بحری جہازوں کا بنیادی کام سمندر میں ڈوبتے تارکین وطن کو بچانا نہیں ہے تاہم اکثر انہیں ایسا کرنا پڑتا ہے۔ تھیو فرانکن نے بیلجیئین نشریاتی ادارے وی ٹی ایم کو ایک انٹرویو میں کہا،’’ میری ذاتی رائے میں ایسی کارروائیوں کو دہرائے جانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ محض حماقت ہے۔ اس کی کوئی عقلی دلیل نہیں۔‘‘

فرانکن  نے جو متعدد بار بحیرہ روم میں امدادی کارروائیوں میں شامل غیر سرکاری تنظیموں کے رویے پر تنقید کر چکے ہیں، مزید کہا،’’ اس پر کوئی بحث نہیں کہ ہمیں ان تارکین وطن کو بچانا چاہیے یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ بچانا چاہیے۔ لیکن اس کا نتیجہ مہاجرین کی مزید ہلاکتوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ یورپ کے لیے باعث شرم ہے۔‘‘

دوسری جانب بیلجیئم کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک صرف اُس صورت میں اس مشن میں شمولیت جاری رکھے گا جب لیبیا کی حکومت یورپی یونین کے جہازوں کو اپنے پانیوں میں رہنے کی اجازت دے۔

سن دو ہزار سترہ کی پہلی ششماہی میں قریب 85،000 تارکین وطن بحیرہ روم کے راستے اٹلی کے جنوبی ساحلوں پر پہنچے ہیں۔ یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برس اسی عرصے میں اٹلی پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

DW.COM

اشتہار