’بیلاروس کی ایتھلیٹ کو سیاسی پناہ دینا اعزاز کی بات ہو گی‘ | کھیل | DW | 02.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

’بیلاروس کی ایتھلیٹ کو سیاسی پناہ دینا اعزاز کی بات ہو گی‘

بیلاروس کی ایتھلیٹ کرسٹینا نے کہا ہے کہ وہ یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔ اولمپک مقابلوں میں شرکت کے لیے جاپان میں موجود کرسٹینا کو ان کی ٹیم نے مبینہ طور پر زبردستی واپس ملک بھجوانے کی کوشش کی تھی۔

اتوار کے دن ٹوکیو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا، جب تیز دوڑ کے مقابلوں کی ماہر بیلاروس کی کرسٹینا سوانوسکایا نے جہاز میں بیٹھے سے انکار کر دیا۔ انہیں مبینہ طور پر واپس منسک روانہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

کرسٹینا نے الزام عائد کیا ہے کہ کوچنگ عملے کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں ملک واپس بھجوانے کی کوشش کی گئی تاہم جاپانی پولیس کی مدد انہوں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ منسک حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بیلاروس، ریاستی اہلکاروں نے خاتون اپوزیشن رہنما کو حراست میں لے لیا

کرسٹینا کو مدد فراہم کرنے والے انسانی حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ اب اگر کرسٹینا کو واپس بیلاروس بھیجا گیا تو ان کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ یہ نوجوان ایتھلیٹ ٹوکیو میں آسڑیا کے سفارتخانے کی مدد سے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

Krystsina Tsimanouskaya

بیلاروس کی ایتھلیٹ کرسٹینا سوانوسکایا نے کہا ہے کہ وہ یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی

کرسٹینا نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہیں اپنی قومی ٹیم کے کوچز کی طرف سے دباؤ کا سامنا تھا، اس لیے انہوں نے اولمپک کمیٹی سے مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ بیلارس کی ٹیم انہیں ان کی مرضی کے برخلاف واپس بھجوانا چاہتی تھی۔

کرسٹینا نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر اپنی ٹیم کی منیجمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا تھا کہ انہیں 4x400 کی ریلے ریس میں حصہ لینے کو کہا گیا حالانکہ انہوں نے اس فارمیٹ میں کبھی حصہ نہیں لیا ہے۔

کرسٹینا کے اس بیان کے بعد مبینہ طور پر انہیں اولمپک مقابلوں سے شرکت سے روکنے کی خاطر واپس بلوانے کی کوشش کی گئی۔

بیلاروس کی اولمپک کمیٹی گزشتہ پچیس برسوں مطلق العنان صدر الیگزینڈ لوکا شینکو اور ان کے بیٹے وکٹور کی سرپرستی میں ہے۔ الزامات عائد کیے جاتے ہیں کہ کھلاڑیوں کو تنقید سے روکنے کی خاطر منسک حکومت انہیں دباؤ کا نشانہ بھی بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’یورپ کے آخری آمر‘ کی اپنا اقتدار بچانے کی کوششیں

کرسٹینا کی طرف سے یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی درخواست کے بعد یورپی امور کے فرانسیسی وزیر نے پیر کے دن کہا کہ اگر یورپ کرسٹینا کو سیاسی پناہ فراہم کرتا ہے تو یہ ایک اعزاز کی بات ہو گی۔

ٹوکیو میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے کہا ہے کہ کرسٹینا 'محفوظ‘ ہیں اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ کرسٹینا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اتوار کو جاپانی پولیس نے مداخلت کی اور انہیں وطن واپس روانہ ہونے سے بچا لیا گیا جبکہ پیر کی صبح وہ ٹوکیو کے ایک پولیس اسٹیشن میں تھیں۔

ع ب /  ج ا  (اے پی، روئٹرز)

DW.COM