بیلاروس کی اولمپک ایتھلیٹ کرسٹینا جلد ہی پولینڈ روانہ ہو جائیں گی | کھیل | DW | 03.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

بیلاروس کی اولمپک ایتھلیٹ کرسٹینا جلد ہی پولینڈ روانہ ہو جائیں گی

بیلاروس کی اولمپک ایتھلیٹ کرسٹینا سوانوسکایا ٹوکیو میں پولش سفارت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ امریکا نے انہیں زبردستی واپس ملک بھجوانے کی کوشش کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پولینڈ کی حکومت نے بیلاروس کی ایتھلیٹ کرسٹینا سوانوسکایا کو ویزہ جاری کر دیا ہے۔ چوبیس سالہ سپرنٹر کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیم نے انہیں اولمپک مقابلوں کے بیچ ہی زبردستی واپس بھجوانے کی کوشش کی تھی۔

اتوار کے دن ٹوکیو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کرسٹینا نے پولیس سے رابطہ کیا تھا تاکہ انہیں ان کی رضامندی کے بغیر بیلاروس نہ بھیجا جا سکے۔ اس کے بعد انہوں نے یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔

کرسٹینا کا کہنا ہے کہ انہیں خوف ہے کہ بیلاروس واپس جانے کے بعد ان کی سکیورٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوچنگ سٹاف کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد ان پر دباؤ ڈالا گیا۔

اس صورتحال کے پیش نظر ایتھلیٹس کی عالمی تنظیم نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ بیلاروس کی رکنیت معطل کر دی جائے۔ تاہم اولمپک کمیٹی کے مطابق پہلے کرسٹینا کے دعوؤں کی تصدیق کی جائے گی اور پھر اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ’بیلاروس کی ایتھلیٹ کو سیاسی پناہ دینا اعزاز کی بات ہو گی‘

کرسٹینا نے پیر اور منگل کی درمیانی رات پولش سفارت خانے میں بسر کی۔ وارسا حکومت نے کہا ہے کہ بیلاروس کی ایتھلیٹ کو اغوا کرنے کی 'مجرمانہ کوشش‘ کے بعد انسانی بنیادوں پر انہیں ویزہ جاری کر دیا گیا ہے۔

Tokio 2020 l Sport l Athletin Krystsina Tsimanouskaya, Belarus

کرسٹینا نے پیر اور منگل کی درمیانی رات پولش سفارت خانے میں بسر کی

وارسا کے لیے روانگی

پولش وزیر اعظم نے اپنے فیس بک اکاؤںٹ پر لکھا کہ انہوں نے یقینی بنایا کہ کرسٹینا ٹوکیو میں واقع پولش سفارت خانے میں محفوظ رہیں، ’اگر ضروری ہوا تو ہم انہیں موقع فراہم کریں گے کہ وہ اپنا پروفیشنل کیریئر جاری رکھ سکیں‘۔

بتایا گیا ہے کہ پولینڈ روانگی تک کرسٹینا پولش سفارت خانے میں ہی قیام کریں گی۔ توقع ہے کہ وہ اولپمک مقابلوں سے دستبردار ہوتے ہوئے بدھ کے دن وارسا کے لیے روانہ ہو جائیں گی۔

دوسری طرف کرسٹینا کے شوہر آرسینیے زڈانووَچ نے کہا ہے وہ بیلاروس سے فرار ہو گئے ہیں اور جلد ہی اپنی اہلیہ کے پاس پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ یوکرائن میں موجود پچیس سالہ فٹنس ٹرینر نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ میرا وہاں (بیلاروس) ہونا محفوظ نہیں تھا۔‘‘

امریکا کا ردعمل

ادھر امریکی وزیر خارجہ انٹوبنی بلنکن نے بیلاروس کے صدر لوکا شینکو پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اولمپک کھلاڑی کی طرف سے آزادی رائے کا اظہار کرنے پر انہیں ’جبر کا نشانہ‘ بنانے کی کوشش کی ہے۔

اپنی ایک ٹوئٹ میں بلنکن نے لکھا کہ ’ایسے اعمال اولمپک مقابلوں کی بنیادی اقدار اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں اور جو ناقابل برداشت ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیے: ’یورپ کے آخری آمر‘ کی اپنا اقتدار بچانے کی کوششیں

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ کرسٹینا کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے منسک حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور باضابطہ چھان بین کے بعد اس حوالے سے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

اولمپک مقابلوں میں شریک بیلاروس کے دستے میں شامل کوچنگ سٹاف اور ایتھلٹس کا کہنا ہے کہ کرسٹینا ٹوکیو پہنچتے ہی نفسیاتی دباؤ کا شکار تھیں اور انہوں نے اپنی ساتھی ایتھلیٹ کی طرف سے عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ع ب/ ص ز (اے ایف پی، اے پی)

DW.COM