بیرونی فورسز کے انخلاء کے بعد ہی لیبیا میں استحکام ممکن ہے، یورپی یونین | حالات حاضرہ | DW | 05.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بیرونی فورسز کے انخلاء کے بعد ہی لیبیا میں استحکام ممکن ہے، یورپی یونین

یورپی یونین نے لیبیا سے تمام بیرونی جنگجوؤں کو ملک سے باہر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی اتحاد کی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین کونسل کے صدر شارل مشیل نے چار اپریل اتوار کے روز لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے اپنے دورے کے دوران کہا کہ تمام بیرونی جنگجوؤں کو لیبیا سے نکل جانا چاہیے۔ انہوں نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا، ''آپ نے اپنے ملک کی از سر نو تعمیر کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے، تاہم اس کی ایک شرط یہ ہے کہ تمام بیرونی جنگجو اور فورسز کو ملک سے نکل جا نا چاہیے۔''

اس موقع پر انہوں نے لیبیا کے مختلف سیاسی دھڑوں اور عسکری گروپوں پر زور دیا کہ وہ، ''ایک خود مختار، مستحکم اور خوشحال ملک کی تعمیر کا یہ انوکھا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔''

حالیہ ہفتوں میں لیبیا سے بیرونی فورسیز اور جنگجوؤں کو ملک سے باہر کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دسمبر تک شمالی افریقی ملک لیبیا میں تقریباً 20 ہزار کرائے کے جنگجو اور عسکری فورسیز موجود تھے۔ اس برس جنوری تک ان سب کے باہر چلے جانے کا وقت مقرر تھا جس سے عام طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

لیبیا میں کیا ہورہا ہے؟

 سن 2011 میں لیبیا کے حکمراں کرنل معمر قذافی کی معزولی کے بعد سے ہی ملک میں خانہ جنگی کے سبب افرا تفری کا ماحول ہے۔ ملک کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں الگ الگ حکومتیں قائم ہوئیں جو ایک دوسرے کی حریف رہی ہیں اور دونوں کو ہی بیرونی ممالک کی مدد حاصل رہی ہے۔

اس برس اکتوبر میں دونوں حریفوں میں لڑائی رک گئی اور جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا تھا۔ اسی کے بعد ایک قومی اتحاد پر مبنی حکومت قائم ہوئی  اور گزشتہ ماہ لیبیا کی پارلیمان نے بھی اس نئی حکومت کو تسلیم کر لیا۔

قومی اتحاد کی اس حکومت پر یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ تمام حریف گروپوں سے اداروں کو اپنے ماتحت لا کر تمام منقسم اداروں کو ایک میں ضم کرے۔ اسی حکومت پر آئندہ دسمبر میں نئے عام انتخابات کروانے اور مجموعی طور پر سکیورٹی کی بھی ذمہ داری ہے۔

یورپی یونین کی حمایت کی پیشکش

یورپی یونین کونسل کی صدر شارل مشیل نے عبوری وزیر اعظم عبدالحمید ذبیح سے ملاقات کے بعد کہا، ''ہم نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور اس کی حمایت بھی کریں گے۔ یوروپی یونین قومی مفاہمت کے عمل کی فعال طور پر حمایت کرتا ہے۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''معاشی بحالی، انتخابات اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جنگ کچھ ایسے مسائل ہیں جس میں یورپی یونین مدد کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک لیبیا اور یورپی یونین کے تعلقات کا سوال ہے اس میں امیگریشن ایک اہم موضوع ہے۔

جرمنی، فرانس اور اٹلی کے وزراء خارجہ نئی قومی حکومت کے قیام کے بعد اس کے ساتھ اپنی حمایت کا مظاہرہ کرنے کے لیے لیبیا کا دورہ کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ فرانس نے اپنا سفارت خانہ بھی دوبارہ کھول دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یونان کے وزیر اعظم کریا کوس مٹسوٹاکیس آئندہ ہفتے اپنے ملک کا سفارتخانہ کھولنے کے سلسلے میں طرابلس کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اسی موقع پر اٹلی کے وزیر اعظم بھی یونان کا دورہ کریں گے۔

مشیل کا کہنا کہ لیبیا میں آنے والے ہفتوں میں یورپی ممالک کے سفارت خانے کھل جائیں گے۔

ص ز/ ج ا  (اے ایف پی، اے پی)  

ویڈیو دیکھیے 02:54

لیبیا کے عوام معمول کی زندگی کے خواہاں

DW.COM