’بہاولپور میں تعلیم نے معلم قتل کر دیا‘ | حالات حاضرہ | DW | 21.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’بہاولپور میں تعلیم نے معلم قتل کر دیا‘

پاکستانی صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر بہاولپور میں ایک ڈگری کالج میں ایک طالب علم نے اپنے پروفیسر کو غیراسلامی ویلکم‘ پارٹی کے انعقاد پر قتل کر دیا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان میں ایک مرتبہ پھر یہ بحث جاری ہے کہ کیا اس قتل کے اصل ذمہ دار نصابی کتب اور میڈیا پر نشر کیا جانے والا مواد تو نہیں۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں طالب علم نہایت اطمینان سے اپنے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیتا نظر آتا ہے اور اس کی گفت گو سے ذرا نہیں لگتا کہ اسے اس قتل پر ملال ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق بہاولپور کے گورنمٹ صادق ایگرٹن کالج کے شعبہ انگریزی کے سربراہ مقتول پروفیسر خالد حمید کو ان کے ایک طالب علم نے چھریاں مار کر قتل کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق طالب علم نے اپنے پروفیسر کے پیٹ اور سر میں چھریوں کے وار کیے، جس کے بعد انہیں انتہائی تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

اس واقعےکے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے نہ صرف شدید الفاظ میں مذمت کی، بلکہ نیوزی لینڈ میں مساجد میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جینسڈا آرڈرن کے بیان کے پرتو میں لکھا گیا کہ اس واقعے میں ملوث نوجوان کو ’ہیرو‘ نہیں بننے دیا جائے گا اور اس کا نام تک نہیں لیا جائے گا۔ وزیراعظم آرڈرن نے بھی واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور کی بابت کہا تھا کہ اس واقعے میں ملوث حملہ آور کو دہشت گرد، مجرم اور شدت پسند کے نام سے پکارا جائے گا تاہم اس کا نام نہیں لیا جائے گا۔

مقامی پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے میں ملوث نوجوان شعبہ انگریزی میں بی ایس کے پانچویں سمسٹر کا طالب علم تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید اور قاتل طالب کے درمیان ’ویلکم پارٹی‘ کے انعقاد کے معاملے پر تلخ گفت گو ہوئی۔ پولیس کے مطابق مبینہ قاتل نے اس پارٹی کو ’غیراسلامی‘ قرار دیا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ شدت پسندی کا عنصر مذہبی مدرسوں کے علاوہ عام تعلیمی اداروں اور خصوصاﹰ اعلی تعلیم یافتہ افراد میں کس قدر بڑھ رہا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں چند برس قبل ایک بس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث افراد سے متعلق بھی یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبہ تھے۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارف مونا عالم نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے کی مذمت، جی، بہاولپور میں ہونے والے حملے کی مذمت۔ جی۔ یہ وقت ہے کہ ایسی سوچ کے خلاف بھرپور قوت سے کارروائی کی جائے۔‘‘

سوشل میڈیا صارف عابد علی کہتے ہیں، ’’یہ واقعہ تعلیمی نظام میں مذہب کو دیگر چیزوں کے ساتھ ملانے کا نتیجہ ہے۔ انگریزی کے پانچویں سمسٹر کا طالب علم یورپ مخالف اور اسلام کا حامی ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ انگریزی میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا کیوں کہ انگریزی آپ کو محبت، رومانویت اور زندگی کی خوب صورتی کا سبق دیتی ہے۔‘‘

سوشل میڈیا صارف عزیر سالار اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں کہتے ہیں، ’’ جب کوئی شخص انتہاپسند ہو تو صرف وہی ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ  سوسائیٹی اور ماحول زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے جس نے ایک انتہاپسند کی پرورش کی۔ سزا کی رٹ لگانے کی بجائے اصلاحات پر سنجیدہ بات ہونی چاہئیے۔‘‘

سوشل میڈیا پر مختلف صارفین ایسی پوسٹ بھی شیئر کر رہے ہیں، جن میں شدت پسندی کے فروغ سے متعلق پاکستانی نصابی کتب سے ماخوذ اقتباسات ہیں۔