بھارت: 21 سالہ طالبہ ملکی تاریخ کی کم عمر ترین میئر بن گئیں | حالات حاضرہ | DW | 29.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: 21 سالہ طالبہ ملکی تاریخ کی کم عمر ترین میئر بن گئیں

اکیس سالہ آریہ راجندرن بھارتی تاریخ میں اب تک کی سب سے کم عمر میئر بن گئی ہیں۔ تاہم سب سے کم عمر کے میئر ہونے کا عالمی ریکارڈ مائیکل سیسنز کے نام ہے، جو اٹھارہ برس کی عمر میں ہلز ڈیل کے میئر منتخب ہوئے تھے۔

آریہ راجندرن نے بھارت کے جنوبی ریاست کیرالا کے دارالحکومت تھرواننت پورم کے نئے میئر کا عہدہ پیر کے روز سنبھالا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت میں اب تک کی سب سے کم عمر میئر کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے گزشتہ دنوں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالا تھا۔

آریہ راجندرن کے میئر کے عہدے پر فائز ہونے کو بھارت اور بالخصوص کیرالا میں نئی نسل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند عمل  قرار دیا جا رہا ہے۔ متعدد اہم سیاسی رہنماؤں نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

تعلیم یافتہ خواتین کی سیاست میں دلچسپی

کیرالا کے صحافی اور ملیالی روزنامے 'مادھیمم‘ کے دہلی بیورو چیف حسن البنا نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ''ریاست میں خواتین سیاسی طور پر کافی بیدار ہیں، وہ سیاستی امور اور انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ پہلے جہاں بلدیاتی انتخابات کے دوران خواتین کی محفوظ سیٹوں کے لیے امیدوار ملنا مشکل ہوتا تھا، وہیں اب الیکشن میں عام زمرے کی سیٹوں پر بھی خواتین کی بڑی تعداد امیدوار کے طور پر موجود نظر آتی ہے۔‘‘

حسن البنا نے بتایا کہ اعلی تعلیم یافتہ خواتین کی سیاست سے دلچسپی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملاپورم ضلعے میں ایک ایسی خاتون امیدوار کامیاب ہوئی ہیں، جنہوں نے بھارت کے معروف انجینئرنگ کالج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کالی کٹ سے الیکٹرانکس انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:36

بھارتی سیاست میں خواتین کا کردار

صحافی حسن البنا کہتے ہیں کہ کیرالا میں تمام فرقوں، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں، کی لڑکیاں بڑی تعداد میں اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اس وقت اسکولوں اور کالجوں میں 75 تا 80 فیصد لڑکیاں نظر آتی ہیں۔ بھارت کی مختلف سینٹرل یونیورسٹیوں میں بھی ان کی بڑی تعداد ہے۔"

حسن البنا اس حوالے سے مزید کہتے ہیں، ''کیرالا میں لڑکیوں کی شادی اور تعلیم کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بعض اوقات اگر ڈگری کورس میں تعلیم کے دوران بھی کسی لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے تو وہ اپنی تعلیم جاری رکھتی ہے۔ زیادہ تر سسرال والے نہ صرف اس کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔"

بھارت بھر کی نسبت کیرالا میں شرح خواندگی بھی سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں اوسط شرح خواندگی تقریبا 74 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں کیرالا میں یہ تقریباً94 فیصد بنتی ہے۔ خواتین کی شرح خواندگی تقریباً 92   فیصد ہے۔

آریہ سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہیں

آریہ راجندرن اس وقت تھرواننت پورم کے آل سینٹس کالج میں بی ایس سی میتھ میٹکس کے دوسرے سال کی طالبہ ہیں۔ وہ بائیں بازو کی جماعت مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے قریبی کانگریسی امیدوار کو شکست دی بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اپنا میئر بنانے کے خواب کو بھی چکنا چور کر دیا۔

بی جے پی اس جنوبی ریاست میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی اگلے برس تھرواننت پورم کا دورہ کرنے والے ہیں۔ بی جے پی کی خواہش تھی کہ اس موقع پر ان کی پارٹی کا میئر ملک کے وزیر اعظم کا استقبال کرے لیکن اب اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکے گی۔

الیکٹریشین والد اور انشورنس ایجنٹ والدہ کی بیٹی آریہ راجندرن کو بچپن سے ہی سیاست سے دلچپسی رہی ہے۔ وہ سی پی آئی ایم کے بچوں اور طلبہ تنظیم سے وابستہ رہی ہیں۔ آریہ راجندرن کہتی ہیں، ''اب مجھے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے اور تعلیم جاری رکھنے میں تھوڑی دشواری تو ضرور ہو گی لیکن میں اپنی تعلیم جاری رکھوں گی۔ میں پبلک ایڈمنسٹریشن میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں۔"

تھرواننت پورم بھارت کے سابق وفاقی وزیر اور کانگریس کے سینئر رکن پارلیمان ششی تھرور کا حلقہ انتخاب ہے۔ ایک میئر کی حیثیت سے آریہ راجندرن اپنی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”ہمارا شہر بہت خوبصورت ہے۔ اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے بہتر ویسٹ مینجمنٹ میری پہلی ترجیح ہوگی۔ لوگوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کچرا سڑکوں کے کناروں پر نہ پھینکیں۔"

مبارک باد کا سلسلہ

آریہ راجندرن کے میئر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد متعدد سیاسی اور سماجی رہنماوں کے علاوہ فلمی ستاروں نے بھی انہیں مبارک باد دی ہے۔ ششی تھرور نے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کامیابی بہت ہی خاص ہے۔ فلم اداکار کمل ہاسن نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا، ''کامریڈ آریہ راجندرن کو مبارک باد، جنہوں نے انتہائی کم عمر میں تھرواننت پورم کے میئر کا عہدہ سنبھالا۔ تامل ناڈو میں بھی 'ماں کی قوت‘ تبدیلی کے لیے تیار ہو رہی ہے۔" کمل ہاسن کا تعلق تامل ناڈو سے ہے۔ وہ ان دنوں سیاست میں کافی سرگرم ہو گئے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:47

جے پور کی خواتین قاضی

بی جے پی کی غلط بیانی

سب سے کم عمر میئر کا عالمی ریکارڈ امریکا کے مائیکل سیسنز کے نام ہیں،  جو 2005ء میں 18برس کی عمر میں ہلز ڈیل کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ بھارت میں اس سے قبل کیرالا کی سبیتھا بیگم نے 23 برس کی عمر میں کولم میونسپل کارپوریشن کے میئر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ تامل ناڈو کی ریکھا پریہ درشنی 24 برس کی عمر میں سالیم کی میئر منتخب ہوئی تھیں جبکہ بی جے پی کے رہنما اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس 27 برس کی عمر میں ناگپور کے میئر بنائے گئے تھے۔

حکمراں بی جے پی نے آریہ راجندرن کے سب سے کم عمر میں میئر بننے کے ریکارڈ کو غلط ثابت کرنے کے لیے دعوی کیا کہ اس کی پارٹی کی سمن کولی 2009ء میں 21 برس کی عمر میں راجستھان کے بھرت پور کی میئر بن چکی ہیں۔

مبینہ طور پر بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے ویکی پیڈیا میں بھی اس کا اندراج کر دیا۔ تاہم جب لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ 2009ء میں تو بھرت پور میونسپل کارپوریشن کا وجود ہی نہیں تھا اور اس کا قیام 2014ء میں عمل میں آیا تھا تو بی جے پی آئی ٹی سیل نے بڑی خاموشی کے ساتھ اپنے دعوے کو حذف کر دیا۔

DW.COM