بھارت: گاندھی خاندان کے خلاف قانونی اقدام یا سیاسی انتقام؟ | NRS-Import | DW | 08.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

NRS-Import

بھارت: گاندھی خاندان کے خلاف قانونی اقدام یا سیاسی انتقام؟

بھارت میں مودی حکومت نے گاندھی خاندان کے ماتحت چلنے والے بعض اہم ٹرسٹ اور خیراتی اداروں کی جانب سے مبینہ منی لانڈرنگ اور بیرونی فنڈز سے متعلق قانونی خلاف ورزیوں کی تفتیش کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

 کانگریس پارٹی کا تاہم کہنا ہے کہ ان اداروں کی جانب سے کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں ہوا ہے اور حکومت صرف سیاسی انتقام کی غرض سے اس طرح کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ 

بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے نہرو گاندھی خاندان سے وابستہ اداروں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور قانون کی خلاف ورزیوں کی تفتیش سے متعلق ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس کے لیے جو تفتیشی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس کی قیادت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے خصوصی ڈائریکٹر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تفتیش میں ''منی لانڈرنگ کی روک تھام، انکم ٹیکس ایکٹ اور بیرونی فنڈز سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں پر توجہ مرکوز کی جائیگی۔''

وزارت داخلہ نے نہرو گاندھی خاندان سے وابستہ جن تین اداروں کے خلاف تفتیشی کارروائی کا آغاز کیا ہے اس میں 'راجیو گاندھی فاؤنڈیشن'' (آر جی ایف) راجیو گاندھی چیریٹیبل ٹرسٹ اور اندرا گاندھی میموریل ٹرسٹ جیسے باوقار ادارے شامل ہیں۔ کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی آر جی ایف اور راجیو گاندھی چیریٹیبل ٹرسٹ کی سربراہ ہیں جبکہ راہول گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پی چدمبرم جیسے کئی سرکردہ رہنما آر جی ایف کے اہم رکن ہیں۔

 حال ہی میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا نے ان اداروں کے خلاف مالی خرد برد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ منموہن سنگھ کی حکومت نے وزیراعظم کے قومی امدادی فنڈز کا پیسہ بھی آر جی ایف کو دیا تھا اور ادارے کو چین سے بھی فنڈز حاصل ہوئے ہیں۔ بی جے پی صدر کے ان الزامات کے بعد ہی وزیر داخلہ امیت شاہ نے تفتیش کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔

 کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی جانب سے کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں ہوا ہے اور حکومت صرف سیاسی انتقام کی غرض سے اس طرح کی کارروائیاں کر رہی ہے۔  پارٹی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت، معاشی مسائل، چین کے ساتھ سرحدی بحران اور کورونا وائرس سے نمٹنے اوردیگر محاذوں پر بری طرح ناکام رہی ہے اس لیے یہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کی سیاسی شعبدہ بازی کا سہارا لے رہی ہے۔

کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی ان تمام اہم مسائل کے حوالے سے ہر دن حکومت پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جی کی حکومت کو نکتہ چینی قطعی برداشت نہیں ہے اور چونکہ کانگریس پارٹی کے رہنما تقریباً ہر روز ہی حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں اس لیے امیت شاہ نے گاندھی خاندان کے لیے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔

گزشتہ روز ہی راہول گاندھی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ بیشتر بڑی کمپنیاں اس وقت شدید دباؤ سے دوچار ہیں جبکہ بینکوں کا برا حال ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا، ''میں نے اس بارے میں کئی ماہ قبل ہی معاشی سونامی سے آگاہ کیا تھا اور اس وقت ملک کو سچائی سے آگاہ کرنے پر میڈیا اور بی جے پی نے میرا مذاق اڑایا تھا۔'' 

راہول گاندھی اور سونیا گاندھی چین کے تعلق سے بھی مودی حکومت کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔  راہول گاندھی کہتے رہے ہیں کہ لداخ میں سرحد پر کشیدگی کے تعلق سے حکومت جھوٹ بولتی رہی ہے اور وہ قوم کو سچ بتانے سے گریز کرتی ہے۔

جون کے وسط میں لداخ میں چین کے ساتھ جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مودی نے کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی اور کہا تھا کہ بھارت کی ایک انچ سرزمین بھی کسی کے قبضے میں نہیں اور نہ ہی کوئی بھارت کے اندر داخل ہوا ہے۔  لیکن دو روز قبل جب یہ خبر آئی کی چینی فوجیں پیچھے ہٹ رہی ہیں تو راہول گاندھی نے کہا تھا کہ مودی کو جھوٹ بولنے کے لیے قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

DW.COM