بھارت کے چیف جسٹس آبدیدہ ہوگئے | حالات حاضرہ | DW | 25.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے چیف جسٹس آبدیدہ ہوگئے

بھارت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر عدالتوں کو درپیش مسائل، ججوں کی کمی اور ان پر مختلف حلقوں سے پڑنے والے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگئے۔ بھارتی تاریخ میں غالباً یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

یہ غیرمعمولی واقعہ اس وقت پیش آیا، جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر قانون ڈی وی سدانند گوڑا بھی موجود تھے۔

بھارت میں عدالتوں کو اس وقت زبردست دباؤ میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں زیر التوا مقدمات کا انبار ہے، وہیں گزرتے وقت کے ساتھ ان کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود عدالتیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی حتی الامکان کوشش کررہی ہیں۔ اس وقت بھارت کا ہر وہ شہری جس کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کو ترجیح دیتا ہے کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ اگر انصاف کی گنجائش کہیں باقی ہے تو وہ صرف عدالت ہے۔ لیکن عدالت پر لوگوں کا اعتماد خود عدالت اور ججوں کے لیے پریشانی کا موجب بن گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسی کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ1987 میں ملک میں ہر دس لاکھ شہریوں پر دس جج تھے اور اس وقت لاء کمیشن آف انڈیا نے کہا تھا کہ یہ تعداد ناکافی ہے اور سفارش کی تھی کہ ہر دس لاکھ شہریوں پر پچاس جج ہونا چاہئیں لیکن کمیشن کی سفارشات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے عدالتوں کو بہتر بنانے کے لیے فنڈز کی فراہمی، انفراسٹرکچر اور دیگر امور پر مرکزی او ریاستی حکومتوں کے درمیان رسہ کشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔



بھارت کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 1950میں جب سپریم کورٹ کی شروعات ہوئی تو آٹھ جج اور 1215مقدمات زیر التوا تھے، 1960میں ججوں کی تعداد 14ہوگئی اور زیر التوا معاملات کی تعداد بڑھ کر3247ہوگئی ۔ سال 1977 میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کرکے 18کیا گیا اور لیکن زیرالتوامعاملات کی تعداد 14501ہوگئی۔ 1986میں ججوں کی تعداد 26 کردی گئی تاہم زیر التوامقدمات بڑھ کر 27ہزار 881ہوگئے ۔ 2009آتے آتے عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تعداد 31ہوئی اور زیر التوا معاملات 77181 ہوگئے۔ 2014 میں بھی31ججوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے پاس 81ہزار 83مقدمات زیرالتوا ہیں۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کی سپریم کورٹ سال بھر میں 81 مقدمات نمٹاتی ہے جب کہ بھارت کا ایک جج ایک سال میں 2600مقدمات نمٹاتا ہے۔
دوسری طرف دکش نامی ایک این جی او کی طرف سے کرائے گئے مطالعے کے مطابق ہائی کورٹ کا ایک جج کسی مقدمہ کی سماعت پر اوسطاً صرف پانچ منٹ کا وقت دے پاتا ہے۔ سب سے زیادہ اطمینان سے سماعت کرنے والے جج ہر کیس پر زیادہ سے زیادہ پندرہ سولہ منٹ دیتے ہیں جب کہ مصروف ترین جج ہر کیس کو تقریباً ڈھائی منٹ میں نمٹا دیتے ہیں ۔کولکتہ، پٹنہ، حیدرآباد، جھارکھنڈ اور راجستھان ہائی کورٹ کے جج دو تا تین منت لیتے ہیں جب کہ الہ آباد، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور اوڈیشہ کے جج چار تا چھ منٹ میں معاملے کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہر جج کے پاس اوسطاً 1350کیس زیر التوا ہیں۔ مقدمات کا بروقت فیصلہ نہیں ہونے کی وجہ سے بہت سارے بے گناہ اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹ دینے پر مجبور ہیں۔

بھارت کے سابق چیف جسٹس ایچ ایل دتو کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں تقریباً تین کروڑ معاملات زیر التوا ہیں۔ یکم مارچ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق صرف سپریم کورٹ میں ہی 61,300مقدمات زیر التوا ہیں جب کہ 22.57لاکھ مقدمات ایسے ہیں جو دس سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں۔

چیف جسٹس ٹھاکر نے اعتراف کیا کہ عدالت کی پناہ میں آنے والے غریب عرضی گزار برسوں جیل میں سڑتے رہتے ہیں لیکن کیا کیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ جس تناسب سے ملک کی آبادی بڑھی ہے، اس تناسب سے ججوں کی تقرری نہیں کی گئی، جس کے سبب ججوں پر کام کا بوجھ بڑھتا گیا۔ جسٹس ٹھاکر کا مزید کہنا تھاکہ بھارت غیرملکی سرمایہ کاروں کو مدعوکررہا ہے، میک ان انڈیا مہم شروع کی گئی ہے لیکن انہیں کامیاب بنانے کے لیے عدالتوں کے انفراسٹرکچر کو بھی درست کرنا ہوگا۔ تیز رفتار عدالتی نظام کے بغیر اقتصادی اصلاحات صرف کاغذ تک محدود رہ جائیں گے۔

وزیر اعظم مودی کو گوکہ اس تقریب میں تقریر نہیں کرنا تھی تاہم انہوں نے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ججو ں کے درد کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ پر لوگوں کے اعتماد کو برقرار رکھنا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے اوروہ عدلیہ کو درپیش مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔