بھارت کے وزیر داخلہ کا دورہٴ کشمیر، ایک اور شخص کی ہلاکت | حالات حاضرہ | DW | 24.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے وزیر داخلہ کا دورہٴ کشمیر، ایک اور شخص کی ہلاکت

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین اور سکیورٹی افواج کے ساتھ تازہ جھڑپوں میں ایک اور شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ایسے وقت میں آئی ہے جب بھارتی وزیر داخلہ ریاست کے دورے پر ہیں۔

Kashmir Portest Indien

احتجاجی مظاہروں کے دوران کشمریوں اور سیکورٹی افواج کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں 66 افراد ہلاک اور کئی ہزار افراد زخمی ہوچکے ہیں

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی سیاسی قیادت، تاجروں اورعلاقائی قائدین سے ملاقاتیں کریں گے۔

پلوامہ شہر کے پولیس سپر انٹنڈنٹ رئیس محمد بھاٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی افواج نےمظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جو علاقے میں نافذ کرفیو کے باوجود گلیوں اور سٹرکوں پر نکل آئے تھے۔ بھاٹ نے بتایا،’’ ایک نوجوان پیلٹ گن کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔‘‘ دوسری جانب سری نگر میں ہونے والے مظاہرے کے بعد شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر نے بتایا کہ کم ازکم چودہ مظاہرین زخمی حمات میں ہسپتال پہنچائے گئے ہیں۔

Indien Unabhängigkeitstag in Neu-Delhi

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس ملک کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کے خاتمے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات پر زور دیا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ جولائی کے اُس واقعے کے بعد سے پرتشدد مظاہرے جاری ہیں، جب کشمیری عسکریت پسندوں کی تنظیم حزب المجاہدین کا ایک نوجوان اور مقبول کمانڈر برہان وانی بھارتی دستوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ کشمیر میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے کرفیو بھی مسلسل نافذ ہے۔ اس نوجوان کمانڈر کی ہلاکت کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کے دوران کشمریوں اور سیکورٹی افواج کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں 66 افراد ہلاک اور کئی ہزار افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو چھروں والی گولیوں کی فائرنگ کے باعث اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس ملک کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کے خاتمے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات پر زور دیا ہے۔

اگست سن 1947 میں برطانوی راج کے اختتام کے بعد کشمیر بھارت اور پاکستان میں متنازعہ طور پر تقسیم ہو گیا تھا۔ دونوں ممالک کشمیر کے مکمل علاقے کو اپنی سرزمین کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بھارت کے زیرانتطام کشمیر میں سن 1989 کے بعد سے کئی ہزار شہری بھارت کے خلاف مسلح مزاحمت میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس علاقے کے باغی گروہ یا تو کشیر کو ایک خودمختار ریاست بنانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں-

DW.COM