1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
USA Sitzung des UN-Sicherheitsrats in New York
تصویر: Reuters/B. McDermid

بھارت کے لیے سلامتی کونسل کی صدارت اور پاکستانی تشویش

جاوید اختر، نئی دہلی
2 اگست 2021

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر کڑی نگاہ رکھے گا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران بھارتی حکومت پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ ایک ماہ کے لیے بھارت کی پہلی مدت صدارت اتوار یکم اگست سے شروع ہوئی۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4/a-58731814

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے ایک بیان میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کو یقینی طورپر دہشت گردی سمیت مختلف معاملات پر اپنے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرے گا۔ لیکن 'ہم اس کے طرز عمل کی کڑی نگرانی کریں گے اور اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ایسا کوئی قدم کامیاب نہ ہونے پائے جو پاکستان کے بنیادی مفادات کے خلاف ہو‘۔

قبل ازیں اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقبل نمائندے ٹی ایس تریمورتی نے ایک ٹوئٹ کر کے کہا تھا کہ اپنی مدت صدارت کے دوران بھارت میری ٹائم سکیورٹی، قیام امن اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تین اعلی سطح کے اجلاسوں کا اہتمام کرے گا۔ 

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سلامتی کونسل کی صدارت بھارت کو ملنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ 'اعتدال پسندی کی آواز‘ رہے گا اور بین الاقوامی قوانین پر بات چیت اور اس کے نفاذ کی وکالت کرے گا۔

بھارت، پاکستان اور چین کو پریشان کرسکتا ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں ہر ملک کی صدارت کا سب سے اہم جزو اس کا 'پروگرام آف ورک' ہوتا ہے، جس میں ایک ماہ کے دور ان اس کی ترجیحات درج ہوتی ہیں۔ ان تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے 'پروگرام آف ورک' سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کا استعمال اپنے علاقائی حریفوں پاکستان اور چین کو پریشان کرنے کے لیے کرسکتا ہے کیونکہ اس نے اس دوران انسداد دہشت گردی اور میری ٹائم سکیورٹی پر بحث کرانے کا اعلان کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے کی بنیاد دراصل ٹی ایس تریمورتی کا وہ مضمون بھی ہے جو انہوں نے ایک بھارتی اخبار میں لکھا ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ بھارت، 'ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے کی کوشش کے خلاف ڈٹا ہے اور دہشت گردوں کی مدد اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو بے نقاب کیا ہے‘۔ انہوں نے مزید لکھا ہے 'دہشت گردی ہمارے پڑوس میں ہے اور اے آئی، ڈرون، بلاک چین ٹیکنالوجی اور آن لائن فائناسنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال زیادہ تشویش ناک ہیں‘۔

بھارت سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کا صدر نامزد

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے تریمورتی نے میری ٹائم سکیورٹی کے حوالے سے لکھا ہے، ”مشترکہ خوشحالی کے لیے میری ٹائم سکیورٹی پر جامع نقطہ نظر لازمی ہے کیونکہ یہ قانونی سرگرمیوں کا تحفظ کر کے سمندری دائرہ کار میں ابھرتی ہوئی دشمنی، غیر قانونی یا خطرناک کارروائیوں کو روکنا اور خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی کے وزیر اعظم مودی کے وژن کا احاطہ کرتا ہے‘۔

پاکستان کی امیدیں

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے بھارت مثبت رویہ اختیار کرے گا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت کی ایک ماہ طویل مدت کے دوران منصفانہ طرز عمل اختیار کرے گا اور 'سکیورٹی کونسل کی صدارت کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرے گا‘۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کے لیے بھارت کی حمایت کر دی 

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت ملکوں کے انگریزی حروف تہجی میں ناموں کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر تبدیل ہوتی ہے۔ بھارت یکم جنوری 2021 کو غیر مستقل رکن کے طور پر سلامتی کونسل میں شامل ہوا تھا، جو 31 دسمبر 2022 کو اپنی دو سالہ مدت کے دوران دو مرتبہ صدارت حاصل کرے گا۔ اس نے اتوار کے روز فرانس سے صدارت حاصل کی۔

USA Narendra Modi Rede UN-Generalversammlung
وزیر اعظم نریندر مودی بھی سلامتی کونسل سے خطاب کریں گےتصویر: Reuters/B. McDermid

بھارت کے لیے صدارت کی اہمیت

 بھارت سلامتی کونسل کی صدارت ایک ایسے وقت سنبھال رہا ہے کہ جب علاقائی اور عالمی سطح پر متعدد انتہائی امور پر اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ایک طرف جہاں بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کے دو سال مکمل ہوئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء مکمل ہونے کو ہے۔

نئے طے شدہ پروگرام کے تحت امریکی فوج 31 اگست تک افغانستان چھوڑ دے گی جبکہ دیگر ممالک کی فورسز کا انخلا مکمل ہو چکا ہے یا ان کے گنتی کے فوجی ہی اس جنگ زدہ ملک میں رہ گئے ہیں، جو جلد ہی واپس لوٹ جائیں گے۔

امید ہے کہ اس دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی سلامتی کونسل سے خطاب کریں گے۔

بھارت کا افغانستان کے حوالے سے پاکستان پر بالواسطہ حملہ

اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل نمائندے سید اکبر الدین کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت اور اس کی سیاسی قیادت اب آگے بڑھ کر قیادت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوکہ یہ ورچوئل خطاب ہو گا لیکن یہ اپنی نوعیت کی پہلی میٹنگ ہو گی۔ آخری مرتبہ سن 1992میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو نے سلامتی کونسل کی میٹنگ میں شرکت کی تھی۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Mohammed bin Salman

سعودی عرب: ولی عہد محمد بن سلمان اب وزیر اعظم بھی بن گئے

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں