بھارت کے لیے جاسوسی کرنے والے جرمن اہلکار کے خلاف مقدمہ | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے لیے جاسوسی کرنے والے جرمن اہلکار کے خلاف مقدمہ

جرمن دفتر خارجہ کے ایک ایسے اہلکار کے خلاف مقدمے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ جرمنی میں رہنے والے سکھوں کی معلومات بھارت کی خفیہ ایجنسی کو فراہم کر رہا تھا۔ اس کیس نے جرمن حکام کو بھی حیران کر دیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی وکلائے استغاثہ کا کارلزروہے کی عدالت میں کہنا تھا، ’’ہمیں یہ قوی شک ہے کہ ملزم کی خفیہ سرگرمیاں اپنے شعبے میں رازداری کے قانون کے منافی ہیں اور ملزم نے مجموعی طور پر پنتالیس مرتبہ ایسا کیا ہے۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ دفتر خارجہ میں کام کرنے والے جرمن اہلکار کی عمر اٹھاون برس ہے اور اس نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو ان افراد کی معلومات فراہم کیں، جو بھارت چھوڑ کر جرمنی میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔

وفاقی دفتر استغاثہ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی نے جرمن اہلکار کو یہ احکامات دے رکھے تھے کہ وہ ان بھارتیوں کی معلومات ان کو فراہم کرے، جن کا تعلق حکومتی اپوزیشن سے ہے اور ان سکھ مذہبی گروپوں کی بھی، جو بھارت کے خلاف بات کرتے ہیں۔

Deutschland Terror-Prozess in Frankfurt am Main

رواں برس فروری میں ہی اسے حراست میں لیتے ہوئے اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھا

بتایا گیا ہے کہ ملزم کی رسائی جرمنی کے معلوماتی پروگرام تک تھی اور اسی کا اس نے غلط استعمال بھی کیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اٹھاون سالہ ملزم دفتر خارجہ کے ایک مرکزی دفتر میں کام کرتا تھا اور رواں برس فروری میں ہی اسے حراست میں لیتے ہوئے اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔

ملزم کے خلاف یہ مقدمہ ریاستی سکیورٹی ڈویژن کی سفارش پر قائم کیا گیا ہے۔ ابھی تک ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملزم نے یہ معلومات فراہم کرنے کے عوض بھارت کی خفیہ ایجنسی سے کیا مراعات حاصل کی ہیں۔