بھارت کے شماریاتی اداروں کا وقار خاک میں، ماہرین اقتصادیات | حالات حاضرہ | DW | 15.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت کے شماریاتی اداروں کا وقار خاک میں، ماہرین اقتصادیات

ایک سو سے زائد بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات اور ماہرین سماجیات نے بھارت میں شماریاتی اعداد وشمار کو سیاسی مفادات کو سامنے رکھ کر تیار اور پیش کرنے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

ان ماہرین اقتصادیات نے دنیا کے دیگر ماہرین اقتصادیات سے بھی اپیل کی ہے کہ ان کی نظریاتی سوچ خواہ کچھ بھی ہو لیکن وہ حکومت وقت پردباؤ ڈالیں کہ تمام اعدادوشمار کواصل شکل میں عام کرے اور شماریاتی اداروں کی آزادی اور دیانت داری کو بحال کرے۔
یہ اپیل ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب بھارت میں عام انتخابات کا موسم ہے اور اپوزیشن جماعتیں نریندر مودی حکومت پر پچھلے پانچ برسوں کے دوران حقیقی ترقیاتی کام کرنے کے بجائے محض زبانی جمع خرچ کا الزام لگا رہی ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات کی اس اپیل کے بعداپوزیشن کو مودی حکومت پر حملہ کرنے کے لیے ایک اور ہتھیار مل گیا ہے۔
سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مودی حکومت پر بھارت کے وقارکو خاک میں ملا دینے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئیٹ کرکے کہا، ’’بھارت کا عالمی وقار اور اعتبار کو مودی حکومت سے زیادہ کسی نے نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ ایک سو آٹھ بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات اور ماہرین سماجیات فکر مند ہیں اور آپ کوبھی فکر مند ہونا چاہیے۔‘‘ سرجے والا نے مزید کہا، ’’اس پارٹی کو اقتدار سے باہرکردیجیے جو اعداد و شمار میں پھیر بدل کر کے اپنی بڑی بڑی ناکامیوں کو چھپاتی ہے۔‘‘

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے بھی ٹوئٹ کر کے کہا، ’’نریندر مودی ملک میں بے روزگاری کے اعداد و شمار کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘

Indien - Phone digital payments

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے بھی ٹوئٹ کر کے کہا کہ نریندر مودی ملک میں بے روزگاری کے اعداد و شمار کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں.

کانگریس کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا، ’’108 معروف ماہرین اقتصادیات اور دانشوروں نے بے روزگاری کے ناموافق اعدادو شمار کو چھپانے کے لیے مودی حکومت پر  نکتہ چینی کی ہے۔ حکومت کا ممکنہ ردعمل ... یہ لوگ ملک دشمن ہیں۔‘‘
جن افراد نے مودی حکومت سے اپیل کی ہے ان میں میساچیوسٹس یونیورسٹی کے جیمز بوائس، ہارورڈ یونیورسٹی کی ایملی بریزا، برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پیٹرک فرانکوئس، ایم آئی ٹی امریکا کے ابھیجیت بینرجی اور ایسٹر ڈفلو، بھارت کی الہ آباد یونیورسٹی کے جیاں ڈیریز، جواہر لا ل نہرو یونیورسٹی کے ابھیجیت سین، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ارون چندرشیکھر، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس ممبئی کے آر کمار اور دہلی یونیورسٹی کے ستیش دیش پانڈے وغیرہ شامل ہیں۔
ماہرین کے اس گروپ نے اپنی اپیل میں اعداد و شمار میں الٹ پھیر کے کئی واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے قومی شماریاتی ادارہ (این ایس او) کے 2016-17 کے جی ڈی پی کے حوالے سے ترمیم شدہ اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے۔ ترمیم شدہ اعداد و شمار کو پہلے کے مقابلے میں 1.1فیصد بڑھا کر 8.2 فیصد کردیا گیا تھا جوکہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین نے اس پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن (این ایس ایس او) کی طرف سے وقفے وقفے سے چائلڈ لیبر پر شائع ہونے والے اعداد و شمار کو روک دینے اور 2017-18 کے اعدادو شمار کو منسوخ کردینے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ مودی حکومت نے اپنے ایک پرعزم پروگرام مدرا یوجنا کے تحت ملنے والے روزگار کے اعدادو شمار کو انتخابات کے بعد ہی شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ مودی حکومت کی طرف سے بے روزگاری کے اعدادو شمار جاری کرنے پر روک لگا دینے سے ناراض این ایس او کے سربراہ پی سی موہنن نے جنوری میں اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا تھا۔ حالانکہ بعد میں یہ اعدداو شمار لیک ہوگئے تھے جس سے پتہ چلا کہ جون 2018 میں بے روزگاری کی شرح 6.17 فیصد رہی جو کہ 45 برس میں بے روزگاری کی سب سے اونچی شرح تھی۔ پی سی موہنن نے ماہرین اقتصادیات کی مذکورہ اپیل پر اپنے ردعمل میں کہا، ’’حالیہ واقعات کے مدنظر ان تمام اہم لوگوں کے اعتراضات نہایت ہی بر وقت اور معروضی ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہم انہیں سنجیدگی سے لیں۔‘‘

Indien - Federal Reserve Bank of India

گزشتہ ماہ جاری رپورٹ میں کانگریس کی قیادت والی سابقہ یو پی اے حکومت کے دور میں جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو تکنیکی بنیاد پر گھٹا کر پیش کیا گیا تھا۔


نریندر مودی حکومت کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروند سبرامنیم نے بھی جی ڈی پی کا تعین کرنے کے مودی حکومت کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا، ’’جی ڈی پی کی گنتی ماہرین ہی کریں تو اچھا ہوگا، ورنہ اس پر شبہ پیدا ہونا لازمی ہے۔ جن لوگوں کے پاس جی ڈی پی کی گنتی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ان کو اس عمل میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘سبرامنیم نے بھارت میں ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے والے ادارے نیتی آیوگ کے ذریعہ جی ڈی پی رپورٹ تیار کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ خیال رہے کہ سی ایس او کی طرف سے گزشتہ ماہ جاری رپورٹ میں کانگریس کی قیادت والی سابقہ یو پی اے حکومت کے دور میں جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو تکنیکی بنیاد پر گھٹا کر پیش کیا گیا تھا۔ اس پر کانگریس اور بی جے پی میں لفظی جنگ بھی شروع ہوگئی تھی اور نیتی آیوگ کی دیانت داری پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
ماہرین اقتصادیات اور ماہرین سماجیات نے کہا کہ بھارت کے شماریاتی ڈھانچے کو اقتصادی اور سماجی معیارات پر اعدادوشمار کو اپنے معتبر ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں اعتبار اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں حکومتوں کی طرف سے ترقیاتی کامو ں کے حوالے سے پیش کیے جانے والے اعدادو شمار پر نکتہ چینی تو ہوتی تھی لیکن ان کے طریقہ کار اور ان پر سیاسی مداخلت سے متاثر ہونے کا الزام کبھی نہیں لگا تھا۔ لیکن بھارتی شماریاتی اداروں کی طرف سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کا سیاسی فائدے کے لیے جس طرح استعمال کیا گیا اس سے ان اداروں کا وقار خاک میں مل گیا ہے۔

DW.COM

اشتہار