بھارت کے ساتھ مذاکرات کے امکانات′بہت محدود′ ہیں، پاکستانی وزیر خارجہ | حالات حاضرہ | DW | 20.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کے ساتھ مذاکرات کے امکانات'بہت محدود' ہیں، پاکستانی وزیر خارجہ

پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات پر نکتہ چینی کی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ انہیں بھارت کے ساتھ مذاکرات کے امکانات 'بہت محدود' دکھائی دیتے ہیں۔

 اقوام متحدہ کے دورے پر آئے پاکستان کے نئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک ایسے ملک کے ساتھ معاملہ کرنا بہت مشکل ہے جو''بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی نسل پرستانہ پالیسیاں نافذ کر رہا ہے۔"

انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا"ہم سب اس بات سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں کہ اقتصادی سرگرمیاں، مذاکرات، سفارت کاری ہی وہ راستے اور طریقے ہیں جو ملکوں کے مابین آپسی اختلافات کو حل کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔لیکن میں نے یہ بات نوٹ کی ہے، اور بالخصوص اس وقت جو جارحانہ اور مخالفانہ رویہ ہے، اس نے عملی طور پر ایسا کرنے کے مواقع کو بہت محدود کردیا ہے۔"

خیال رہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے سن 2019میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے نئی انتخابی حدبندیوں کی بھی نکتہ چینی کی۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس کا اصل مقصد کشمیر میں مسلم ووٹ کی اہمیت کو ختم کرنا ہے۔گوکہ وزیر اعظم مودی نے اقتدار سنبھالنے کے ایک برس بعد سن 2015میں پاکستان کااچانک دورہ کیا تھا لیکن حالیہ برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات کافی کشیدہ رہے ہیں۔

قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اس عالمی ادارے کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جانے کے سبب کشمیری اپنی سرزمین اور اپنے گھر میں اقلیت میں تبدیل ہورہے ہیں۔جو کہ سلامتی کونسل اور اس کی قراردادوں اور جنیوا کنونش کی توہین ہے، عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطے میں اس ادارے کی جانب سے اقدامات نہ کرنا اس کی خلاف ورزی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری فوڈ سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے تھے لیکن اس دوران انہوں نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بھی ملاقات کی۔

'امریکہ اور بھارت تعلقات سے پاکستان کو کوئی پریشانی نہیں'

بلاول اور بلنکن کی ملاقات کے بعد امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ دونوں رہنماوں نے ایک ''مضبوط اور خوشحال باہمی تعلقات کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا۔"

نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ"دونوں رہنماوں نے علاقائی امن، انسداد دہشت گردی، افغانستان میں استحکام، یوکرین کے لیے امداد اور جمہوری اصولوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔"

بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے پڑوسی بھارت کے امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر کوئی تشویش نہیں ہے۔"ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر کسی طرح کے عدم تحفظ کا شکار نہیں ہیں اور ہمیں یہ یقین ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ہی یہ دنیا بہت بڑی ہے۔ "

عمران خان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن

عمران خان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن

عمران خان کے دورہ روس کا دفاع

پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کا دفاع کیا۔

انہوں نے نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہاکہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست، ان کے منشور اور ان کی حکومت کا دفاع نہیں کر سکتے لیکن جہاں تک بطور وزیر اعظم ان کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے، بالخصوص روس کے دورے کے حوالے سے،تووہ عمران خان کا دفاع کریں گے کہ ان کو نہیں معلوم تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ عین اسی دن شروع ہو جائے گا جب وہ ماسکو میں دورے پر تھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا،"کسی کی چھٹی حس نہیں ہوتی، کوئی مستقبل کا حال نہیں بتا سکتا، اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ تنازعے کا آغاز اس وقت ہو جائے گا اور اتنے معصومانہ فعل کے لیے پاکستان کو سزا دینا بدقسمتی ہے۔"

روس یوکرین جنگ کے حوالے سے پاکستان کے موقف کے متعلق ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا"پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہم روس سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں اور کسی ایک ملک سے بھی دشمنی کے متمنی نہیں ہیں۔"

'طالبان اپنے وعدے پورے کریں'

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں جنگ کے اثرات دیکھے ہیں اس لیے وہ چاہتا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعہ نکالا جائے اور امن کو جنگ پر فوقیت دی جائے۔

انہوں نے طالبان حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ دنیا کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدے پورے کریں اور خواتین کی تعلیم اور تمام انسانی حقوق کا احترام کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا بھی افغانستان کے اندر غربت اور معاشی مشکلات کا ادراک کرے اور انسانی بنیادوں پر افغان عوام کی مدد کرے تاکہ افغان عوام کو یہ احساس نہ ہوکہ دنیا ایک بار پھر ان کو راستے میں چھوڑ کر چلی گئی ہے۔

 

'اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے'

اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پائیدار ترقی کا ہدف حاصل کر نے کی دہائی میں ہمیں بحرانوں کے سلسلے کا سامنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ کی وبا، معاشی کساد بازاری، قیمتوں میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات جیسے بحرانوں کا سامنا ہے، 30 برسوں میں غربت اور بھوک میں بدترین اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے اغراض و مقاصد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات کا حل، جنگ کا خاتمہ، امن قائم کرنا، بھوک، غربت اور پسماندگی کے خلاف جنگ کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ تنازعات کی وجہ سے انسانی بحران جنم لے رہے ہیں اور غذائی قلت کا سامنا ہے اور اس حوالے سے قائدانہ کردار کے لیے ہم اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں۔

دریں اثنا جب بلاول بھٹو اپنا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان جا رہے تھے، نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر تحریک انصاف کے حامیوں نے عمران خان حکومت کے خاتمے اور شہباز شریف کی اتحادی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے عمران خان کے حق اور بلاول بھٹو اور دیگر اتحادی راہنماوں کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

ج ا/ ص ز (روئٹرز، اے پی، اے ایف پی، ایجنسیاں)

 

DW.COM