بھارت کے حوالے سے امریکی بیان پر چین کا سخت رد عمل | حالات حاضرہ | DW | 07.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کے حوالے سے امریکی بیان پر چین کا سخت رد عمل

چین نے امریکا کے اس بیان پر سخت اعتراض کیا ہے جس میں کہا گيا تھا کہ ایل اے سی پر بھارت کے خلاف "چینی جارحیت" پر قابو پانے کے لیے نئی دہلی اور واشنگٹن نے قریبی تعاون کیا۔ 

چین نے امریکا پر بھارت اور چین کے درمیان سرحدی اختلافات میں بے جا دخل اندازی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے سرحدی تنازعات کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔ چین کا کہنا ہے کہ امریکا کو دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے کسی ایک خاص ملک کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

امریکا کا بیان 

اس سے قبل نئی دہلی میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر کین جسٹر نے اپنے الوداعی خطاب میں لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی عوام کی سکیورٹی کے لیے کوئی بھی ملک اتنا نہیں کر سکتا جتنا امریکا نے بھارت کے لیے کیا ہے۔

اس موقع پر امریکی سفیر نے کہا، "جب سرحد پر، شاید مستقل طور پر،  بھارت کا مقابلہ جارہانہ چینی سرگرمیوں سے رہا، تو اس وقت کا ہمارا قریبی کوآرڈینیشن بہت اہم رہا۔" ان کا کہنا تھا اس دوران بھارت اور امریکا کے درمیان روابط و تعاون بہت مثبت تھے۔

لیکن جب صحافیوں نے امریکی سفیر سے اس تعاون کے بارے میں وضاحت کرنے چاہی کہ کن شعبوں میں امریکا نے خصوصی تعان کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اس سوال کو ٹال دیا کہ ان امور پر بات کرنے کا انہیں اختیار نہیں اور، ’’اگر بھارتی حکومت چاہے تو وہ خود ان کی وضاحت کر سکتی ہے۔‘‘

چین کا جواب

نئی دہلی میں چین کے سفیر سن ویڈونگ نے امریکی سفیر کے اس بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چین کے حوالے سے امریکی ریمارکس کو دیکھا ہے۔ چینی سفیر نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ’’ہم چین - بھارت سرحدی مسئلے میں کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کے سخت مخالف ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے امریکا کسی ایک خاص ملک کو نشانہ نہیں بنائے گا۔‘‘

امریکا اور بھارت میں تعاون

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چین نے بھارت اور چینی تنازعات کے حوالے سے امریکی بیانات کو  مسترد  کیا ہو۔ گزشتہ برس جون کے وسط میں جب لداخ کی وادی گلوان میں بھارت کے بیس فوجی ہلاک ہوئے تھے تب بھی امریکا نے بھارت کی حمایت میں بیان دیا تھا اور اس وقت بھی چین نے امریکی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں تیسرے فریق کی مداخلت نا قابل قبول ہے۔

ایشیا میں بدلتی صورت حال میں امریکا اور بھارت دفاعی نقطہ نظر سے ایک دوسرے سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکا ہر مشکل میں بھارت کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ 

ویڈیو دیکھیے 02:52

لداخ میں بھارتی فوج کی بھاری تعیناتی، لوگوں میں پریشانی

خطہ لداخ کی مشرقی سرحد پر بھارت اور چین کی فوجیں گزشتہ تقریبا آٹھ مہینوں سے آمنے سامنے کھڑی ہیں جہاں موسم سرما میں شدید سردی ہوتی ہے۔ امریکا نے بھارت کی مدد کے لیے ایسے موسم کے لیے فوجیوں کو خصوصی گرم کپڑے مہیا کیے ہیں اور ڈیٹا شیئرنگ کے وعدے کے ساتھ ساتھ بھارت کو اضافی جنگی ساز و سامان بھی مہیا کیا ہے۔

بھارت امریکی تعلقات میں مشکلیں 

 تمام کوششوں کے باوجود امریکا اور بھارت  کے درمیان رشتے ویسے نہیں ہیں جس کی امریکا کو توقع تھی۔ امریکی سفیر نے بات چيت کے دوران اس جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بھارت کی ’آتم نربھر‘ (خود پر انحصار)  اور میک ان انڈيا جیسی پالیسیاں ایک بڑا رخنہ ہیں۔

امریکی سفیر نے کہا کہ  بھارت کی بعض پابندیوں اور اضافی ٹیکسز کی وجہ سے بہت سے امریکی ساز و سامان اور کمپنیوں کی بھارت کے بازار تک رسائی  نہیں ہو پا رہی ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے  روسی ایس - 400 میزائل کی سودے بازی کے حوالے سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس معاملے پر زیادہ بات چيت نہیں ہوئی تاہم مستقبل میں یہ مسئلہ بھی ضرور زیر بحث آئے گا۔

DW.COM