بھارت کے بیانات نا قابل قبول ہیں، بنگلہ دیش | حالات حاضرہ | DW | 15.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کے بیانات نا قابل قبول ہیں، بنگلہ دیش

بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ کا پڑوسی ملک سے متعلق علم محدود ہے اسی لیے وہ ایسی بیان بازی کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش نے در اندازی سے متعلق بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین جب اس طرح کے گہرے رشتے ہوں تو ان کا ایسا بیان، ’’ناقابل قبول ہے۔‘‘

بنگلہ دیش کے وزير خارجہ اے کے عبد المومن کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش سے متعلق امیت شاہ کا علم بہت محدود ہے شاید اسی لیے انہوں نے ایسی بات کہی ہوں گی۔

بھارت کے وزير داخلہ اور مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ نے دو روز قبل اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں لوگوں کے پاس کھانے کو نہیں ہے اسی لیے وہ بھارت میں در اندازی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس سے متعلق جب ڈھاکہ کے ایک مقامی اخبار نے بنگلہ دیشی وزیر خارجہ اے کے عبد المومن سے سول کیا تو انہوں نے کہا،’’اس دنیا میں بہت سے عقل مند لوگ ہیں، کچھ تو دیکھنے کے بعد نظر انداز کر جاتے ہیں، وہ آگاہی کے باوجود بھی اسے سمجھنا نہیں چاہتے۔ لیکن اگر انہوں (امیت شاہ) نے ایسا کہا ہے تو میں یہی کہوں گا بنگلہ دیش سے متعلق ان کا علم بہت محدود ہے۔ بنگلہ دیش میں بھوک سے کوئی نہیں مرتا ہے۔ یہاں قحط سالی جیسی کوئی غربت نہیں ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے تبصرے،’’قطعی ناقابل قبول ہیں، خاص طور پر اس وقت جب، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان رشتے بہت گہرے ہیں۔ ایسے تبصروں سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔‘‘

امیت شاہ کا متنازعہ بیان

بھارت کی سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی ریاست مغربی بنگال کے اسبملی انتخابات میں کامیابی کے لیے پوری طاقت صرف کر رہی ہے۔ اس کے رہنما اپنی انتخابی ریلیوں میں کبھی پاکستان تو کبھی بنگلہ دیش کا نام لیتے رہے ہیں تاکہ ہندوؤں کے ایک طبقے کو اپنی جانب راغب کر سکیں۔

اسی مہم کے دوران ایک معروف بنگالی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں امیت شاہ نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے غریب لوگ بھارت اس لیے آتے ہیں کیونکہ،’’انہیں اپنے ملک میں اب بھی پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا ہے۔ اگر بی جے پی مغربی بنگال میں اقتدار میں آتی ہے تو بنگلہ دیش سے ہونے والی دراندازی رک جائے گی۔‘‘

ان کا کہنا تھا،’’جب ترقی پذیر ملک میں ترقیاتی کام ہوتے ہیں تو سب سے پہلے فائدہ امیروں کو ہوتا ہے، غریبوں کو نہیں۔ بنگلہ دیش ابھی اسی دور سے گزر رہا ہے۔ تو غربیوں کو تو کھانا تک نہیں مل پاتا ہے اسی لیے بھارت میں در اندازی کرتے ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:14

ڈھاکا میں مودی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

لیکن بنگلہ دیشی وزير خارجہ نے اس کے جواب میں کہا کہ بہت سے سماجی  سیکٹر میں بنگلہ دیش امیت شاہ کے ملک سے بھی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں تقریبا نوئے فیصد لوگ اچھی قسم کے بیت الخلاء کا استعمال کرتے ہیں جبکہ بھارت کی پچاس فیصد سے بھی زیادہ آبادی آج بھی ٹوائلٹ کی سہولیات سے محروم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں اعلی تعلیم یافتہ افراد کے لیے روزگار کی کمی ضرور ہے تاہم متوسط درجے کے تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ ایسا نہیں ہے،’’ایک لاکھ سے بھی زیادہ بھارتی شہری بنگلہ دیش میں کام کرتے ہیں۔ ہمیں بھارت جانے کی کیا ضرورت نہیں ہے۔‘‘ 

بنگلہ دیش کے کئی میڈیا اداروں نے بھی اس حوالے سے امیت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے بعض عالمی اداروں کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں اور کہا کہ ہندو قوم پرست جماعت انتخابات کے لیے بنگلہ دیش کے خلاف مسلسل بیان بازی کرتی رہی ہے۔

گزشتہ برس بھوک سے متعلق 107 ممالک کی ’ہنگر انڈیکس‘ میں بھارت کا مقام 94 ہے، جو پاکستان اور بنگلہ دیش بھی نیچے ہے۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش کا 75واں مقام ہے۔    

ریاست مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ٹی ایم سی کی ایک سرکردہ رہنما مہوا موائترا نے بھی بنگلہ دیش سے متعلق امیت شاہ کے بیان پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے کہ بھارتی معاشی ترقی کی شرح بنگلہ دیش سے بہتر نہیں ہے۔

انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: محترم وزیر داخلہ،’’درانداز مغربی بنگال کے حقوق اور راشن ہڑپ کر رہی ہے نا! پہلی حقیقت، بھارتی حکومت پارلیمان میں دراندازی کے اعداد و شمار پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دوسری حقیقت: بنگلہ دیش کی معیشت بھارت سے بہتر کر رہی ہے، بھارت کا راشن اور حقوق واپس لے آؤ نا۔ بنگالی تو بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد کے ساتھ ساتھ اپنی روح بھی شیئر کرتے ہیں۔‘‘ 

ویڈیو دیکھیے 03:17

روہنگیا مسلمانوں کے لیے بھارتی زمین بھی تنگ ہوتی ہوئی

DW.COM