بھارت: کورونا کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی ہوئی | حالات حاضرہ | DW | 31.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: کورونا کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی ہوئی

بھارت میں کورونا کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران 54 ہزار نئے کیسز اور 354 اموات ہوئیں، جو سال رواں میں ایک دن میں اب تک کی ریکارڈ تعداد ہے۔

بھارت میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ نئے کیسز کی تعداد میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جب کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح میں کمی آرہی ہے۔

کووڈ ویکسین کے انتظام و انصرام کے حوالے سے ماہرین کی قومی کمیٹی کے چیئرمین وی کے پال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،”ہم کورونا پر قابو پالینے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور اب رجحانات سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ یہ وائرس اب بھی بہت سرگرم ہے۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران حالات بد سے بدتر ہوئے ہیں۔“

انہوں نے کورونا پر قابو پانے کے لیے مناسب اقدامات سختی سے نافذ کرنے کے لیے ریاستوں پر زور دیتے ہوئے کہا،”قانون کا احترام نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کریں...لوگوں کو ماسک پہننے کی ضرورت ہے۔“

ویڈیو دیکھیے 01:52

’ہندو فیسٹیول سیزن کورونا کیس بڑھا سکتا ہے‘

ایک کروڑ بائیس لاکھ متاثرین

بھارتی وزارت صحت کی طرف سے بدھ 31 مارچ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ روز رواں برس میں ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز درج کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 53480 نئے کیسز درج ہوئے جب کہ 354 افراد کی موت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی بھارت میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ بائیس لاکھ کے قریب ہو گئی ہے جب کہ ایک لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران کورونا کے سب سے زیادہ نئے کیسز مغربی صوبہ مہاراشٹر میں سامنے آئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے کئی اضلاع میں رات کا ’کرفیو‘نافذ کر دیا ہے۔قومی دارالحکومت دہلی، مدھیہ پردیش، پنجاب اور کرناٹک میں بھی کورونا کے نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، پڈوچیری اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں لیکن انتخابی جلسوں میں کورونا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کو واضح طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:01

کورونا ویکسین لگوائیں یا نہیں، پاکستانی عوام کی سوچ منقسم

یومیہ اموات میں چار گنا اضافہ

بھارت میں منصوبہ بندی کے قومی ادارے نیتی آیوگ میں صحت کے امور کے ذمہ دار ڈاکٹر وی کے پال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک کو کئی اضلاع میں انتہائی خطرناک صورت حال کا سامنا ہے۔ پورے ملک پر خطرہ ہے اور وائرس کو روکنے اور لوگوں کی جان بچانے کے لیے سب کو کوشش کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر پال کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہو گیا ہے،”چنددنوں قبل تک نئے کیسز کی یومیہ تعداد تقریباً نو ہزار تھی جو اب بڑھ کر68 ہزار ہو گئی ہے۔جوکہ چھ سے سات گنا زیادہ ہے۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ ہم بھارت میں یومیہ سب سے کم شرح اموات پر فخر کر رہے تھے لیکن یومیہ 77 اموات سے یہ اب بڑھ کر چار گنا زیادہ ہو گئی ہے۔“

ویڈیو دیکھیے 01:19

پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کا پھیلاؤ

45 برس سے زیادہ عمر کے ہر ایک کو ویکسین

کورونا کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے مدنظر حکومت نے ویکسینیشن کے تیسرے مرحلے میں یکم اپریل سے 45 برس سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو کووڈ ویکسین لگانے کی اجازت دے دی ہے۔

بھارتی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا سے مرنے والوں کی 90 فیصد تعداد 45 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف تو کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے طرح طرح کے اقدامات کا اعلان کرتی ہے دوسری طرف عوامی سطح کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی اس کی کھلے عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔اس کے علاوہ حکومت پر اقدامات عائد کرنے میں مذہبی جانبداری سے کام لینے کے الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:24

بال کٹوانے کے ليے کورونا ٹيسٹ لازمی

DW.COM