بھارت کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ساتواں ملک بن گیا | حالات حاضرہ | DW | 01.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ساتواں ملک بن گیا

بھارت ایک دن میں ریکارڈ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار نئے کیسز کے ساتھ جرمنی اور فرانس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ساتواں ملک بن گیا ہے۔

ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت میں کووڈ انیس جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کے مدنظر اگلے چند دنوں میں یہ اسپین اور اٹلی کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے پانچواں سب سے متاثرہ ملک بن جائے گا۔ کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اتنا بڑا اضافہ صرف تین دنوں میں ہوا ہے جب بھارت نویں نمبر پر تھا۔

بھارتی وزارت صحت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کووڈ انیس سے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار 622 ہوچکی ہے، جبکہ اب تک 5408 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اتوار کو صرف ایک دن میں 193ہلاکتیں اور 8380 نئے کیسز درج کیے گئے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اب تک 91 ہزار سے زائد مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

متاثرین کی تعداد میں یہ زبردست اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب حکومت نے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے ملک گیر لاک ڈاون کو تقریباً دو ماہ کے بعد مرحلہ وار طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے گوکہ لاک ڈاون کی مدت 30 جون تک بڑھا دی ہے تاہم پیر یکم جون سے کاروباری اور دیگر سرگرمیوں کو مرحلہ وار کھولا جارہا ہے۔ اس کے تحت انتہائی متاثرہ علاقوں کو چھوڑ کر دیگر تمام علاقوں میں مالز، ہوٹل، ریستوراں اور تمام مذہبی عبادت گاہوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں آنے جانے پر عائد پابندیاں بھی ختم کردی گئی ہیں۔ تاہم رات نو بجے سے صبح پانچ بجے تک کا کرفیو بدستور جاری رہے گا۔ دوسری طرف اسکولوں، سنیما ہالوں اور بین الاقوامی پروازوں کو کھولنے کا فیصلہ صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اگلے چند ہفتے کے بعد کیا جائے گا۔

مہاراشٹر میں متاثرین کی تعداد 67 ہزار سے متجاوز

دریں اثنا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹر میں پچھلے 24 گھنٹے میں کورونا کے 2487 نئے کیسز سامنے آئے اور 89 افراد کی موت ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں متاثرین کی تعداد 67 ہزار  655 ہوگئی ہے جبکہ ریاست میں اب تک 2286 لوگو ں کی موت ہوچکی ہے۔ صرف ممبئی میں ہی پچھلے 24 گھنٹے میں کورونا وائرس کے 1244 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ 

Indien Wanderarbeiter verlassen Neu Delhi wegen der Corona Pandemie (Reuters/A. Abidi)

حکومت نے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے ملک گیر لاک ڈاون کو تقریباً دو ماہ کے بعد مرحلہ وار طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

دہلی میں متاثرین کی تعداد تقریباً 20 ہزار

اس دوران قومی دارالحکومت دہلی میں پچھلے 24 گھنٹے میں کووڈ انیس کے ریکارڈ کیسز سامنے آئے۔ دہلی میں مسلسل چوتھے دن کورونا وائرس کے ایک ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ دہلی میں اتوار کو 1295 نئے کیسز درج کیے گئے جس کے ساتھ ہی متاثرین کی تعداد 19ہزار 844ہوگئی ہے، جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 473  تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ میونسپل کارپوریشنوں کے ریکارڈ کے مطابق چند دنوں قبل تک ہی کووڈ انیس سے ہلاک ہونے والے 600 سے زائد افراد کی تدفین اور آخری رسومات ادا کی جاچکی ہیں۔

68 دن میں 94 سرکاری احکامات

بھارت میں کووڈ انیس پر قابو پانے کے لیے ملک گیر لاک ڈاون کے آغاز کے بعد سے اتوار تک پچھلے 68 دنوں کے اندر مرکزی وزارت داخلہ 94 سرکاری احکامات جاری کرچکی ہے گویا وزارت نے روزانہ اوسطاً1.3 آرڈر جاری کیے۔

یہ احکامات ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت ملک میں پہلی مرتبہ جاری کیے گئے۔ یہ قانون 2004میں آئے سونامی کے بعد بنایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت ہی لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف معاملات درج کیے جارہے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:02

بھارت: ٹرین سروس کی جزوی بحالی، متاثرہ افراد پھر بھی پریشان

DW.COM