بھارت کشمیر میں ’ریاستی دہشت گردی‘ کر رہا ہے، پاکستانی فوج | حالات حاضرہ | DW | 06.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کشمیر میں ’ریاستی دہشت گردی‘ کر رہا ہے، پاکستانی فوج

پاکستانی فوج نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیر میں ’ریاستی دہشت گردی‘ کا مرتکب ہو رہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان بھارت کے کسی بھی اقدام کا پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔

پاکستانی فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ان کی فوج 'ہر قربانی‘ کے لیے تیار ہے اور کسی بھی صورت میں کشمیری عوام کی حمایت کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی فوج کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار یوم دفاع پاکستان کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں کیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج متنازعہ علاقے کی کشمیری عوام کے حصول حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ باجوہ کے مطابق کشمیری عوام حق خود ارادیت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں چھ ستمبر سن 1965 میں کشمیر کے تنازعے پر شروع ہونے والی پاک بھارت جنگ کے چون برس مکمل ہونے پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان بھارت کے کسی بھی اقدام کا پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی بھارتی ایکشن کے جواب میں سامنے آنے والے تباہ کن نتائج کی ذمہ داری عالمی برادری پر عائد ہو گی۔

MSC Qamar Javed Bajwa Armeechef von Pakistan (picture-alliance/dpa/S. Hoppe)

چھ ستمبر سن 1965 میں کشمیر کے تنازعے پر شروع ہونے والی پاک بھارت جنگ کے چون برس مکمل ہونے پر پاکستان میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا

پاکستانی وزیراعظم نے بیان میں یہ بھی کہا کہ دنیا پر واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان جنگ کا خواہشمند نہیں ہے لیکن اگر پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو چیلنج کیا گیا تو پھر خاموش نہیں بیٹھا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے مطابق پاکستان دشمن کو پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ریاستی حکومت نے لینڈ لائن ٹیلیفون سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب ایک مہینے کے کمیونیکیشن بلیک آؤٹ اور سکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد بحال کی گئی ٹیلیفون سروس ابھی پوری طرح فعال نہیں ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بظاہر لینڈ لائن بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رابطے بحال کرنے سے ابھی بھی قاصر ہیں۔

بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں ہر قسم کے ٹیلی فونک رابطے پانچ اگست کو معطل کر دیے تھے۔ یہ کمیونیکشن بندش کشمیر کی خصوصی خود مختار حیثیت کو ختم کرنے کے دستوری اقدامات کے وقت عمل میں لائی گئی تھی۔

ع ح، ا ا، اے پی، روئٹرز

DW.COM