بھارت: کامیڈین منور فاروقی کو ضمانت نہیں ملی | حالات حاضرہ | DW | 28.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: کامیڈین منور فاروقی کو ضمانت نہیں ملی

معروف نوجوان کامیڈین منور فاروقی پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کا الزام ہے جو گزشتہ تقریبا ایک ماہ سے جیل میں ہیں۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ نے نوجوان معروف کامیڈین منور فارقی کی ضمانت کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ملزم نے مذہب کی توہین کر کے ایک خاص طبقے کی توہین کی ہے۔ منور فاروقی کو دو جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا تب سے وہ جیل میں ہیں۔ 

ہائی کورٹ کے جج روہت آریہ  کا کہنا تھا کہ اس کیس کے سلسلے میں اب تک جو شواہد جمع کیے گے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے ایک خاص طبقے کے شہریوں کے مذہبی جذبات مجروح  کرنے کی کوشش کی گئی اس لیے ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

جج موصوف کا کہنا تھا، ’’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عوامی مقام پر تجارتی مقاصد کے تحت ’اسٹینڈ اپ‘  کامیڈی کے شو کی آڑ میں عرضی گزار نے دانستہ طور پر ایک طبقے کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔"

جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ عرضی گزار اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے خلاف یہ بھی شکایت ملی ہے کہ وہ بھگوان رام اور سیتا جیسے ہندو دیوی دیوتاؤں کے خلاف توہین آمیز پوسٹ سوشل میڈیا پر بھی شائع کرتے رہے ہیں جبکہ اس کے لیے ان کی مخالفت بھی کی گئی ہے۔ اور عرضی گزار نے اس کی تردید بھی نہیں کی ہے۔

فاروقی جیل میں کیوں ہیں؟

مدھیہ پردیش کی پولیس نے یکم جنوری کو منور فاروقی کے ایک کامیڈی شو سے عین قبل مونرو کیفے سے انہیں حراست میں لیا تھا اور پھر ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کے الزام میں انہیں دو جنوری کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گيا تھا۔ 

حیران کن بات یہ ہے کہ ان کا پروگرام شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ پولیس نے چھاپہ مار کر انہیں اور ان کے پانچ دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک مقامی رہنما کے بیٹے ایکلویہ سنگھ نے پولیس میں شکایت درج کی تھی اور ان کا پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی توڑ پھوڑ کی تھی۔ مسٹر سنگھ ایک سخت گیر مقامی ہندو تنظیم 'ہندو رکشا' کے سربراہ بھی ہیں۔   

فاروقی کے خلاف مذہبی جذبات بھڑکانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا مذاق اڑانے کے لیے مقدمہ درج کیا گيا تھا اور پھر ذیلی عدالت نے اسی بنیاد پر ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تو ان کے وکیل نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اب ہائی کورٹ نے بھی ان کی ضمانت مسترد کر دی ہے۔

عدالت میں سماعت

اس معاملے میں پولیس یہ بات آن ریکارڈ کہہ چکی ہے کہ اس کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ فاروقی نے مذہبی جذبات مجروح کیے۔ لیکن  ایکلویہ سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے فاروقی کو شو سے پہلے مشق کرتے ہوئے سنا تھا کہ وہ ہندو دیوی دیوتاؤں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

جج نے شکایت کردہ شحض کی اسی گواہی کی  بنیاد پر انہیں ضمانت نہیں دی۔ دفاعی وکیل نے بحث کے دوران کہا کہ جب فاروقی کا شو ہوا ہی نہیں تو پھر ان سے مذکورہ جرائم کیسے سرزد ہوئے اس پر جج نے کہا کہ گواہ  کی بات سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیا اور ابھی تو اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے اسی مقدمے کی سماعت کے دوران جج روہت آریہ نے دفاعی وکیل سے کہا تھا کہ وہ ضمانت کی درخواست واپس کیوں نہیں لے لیتے۔ جج نے فاروقی کے وکیل سے کہا،’’ لیکن آپ دوسرے کے مذہبی جذبات اور احساسات سے کیوں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں؟ تمہاری ایسی غلط ذہنیت کیوں ہے؟ آپ کاروباری فائدے کے لیے ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟"

 اس سے قبل اس معاملے پر ملک کی کئی سرکردہ شخصیات نے اپنے رد عمل میں فاروقی کی گرفتاری کو غلط کہا ہے۔ سابق وزیر داخلہ پی چدامبرم نے حال ہی میں کہا تھا کہ جب پولیس خود کہہ چکی ہے کہ ان کے خلاف اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے تو پھر ایک فنکار جیل میں کیوں بند ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:35

ٹک ٹاک پر پابندی اظہار رائے پر پابندی ہے، نگہت داد

DW.COM