بھارت: وکلا کے دفاتر پر چھاپے، مودی حکومت کی انتقامی کارروائی؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: وکلا کے دفاتر پر چھاپے، مودی حکومت کی انتقامی کارروائی؟

معروف بھارتی وکلا اور حقوق انسانی کی علمبردار اندرا جے سنگھ اور ان کے شوہر کی رہائش گاہ اور دفاتر پر بھارتی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے آج چھاپے مارے۔ اس کارروائی کو حکومت مخالف آوازوں کودبانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے سپریم کورٹ کی معروف وکیل اندرا جے سنگھ اور ان کے وکیل شوہر آنند گروور کے دہلی اور ممبئی میں واقع رہائش گاہوں اور ان کی غیر حکومتی تنظیم 'لائرز کلیکٹیو‘ کے دفاتر پر چھاپے مارے۔ان پر اپنی این جی او کے لیے بیرونی ملکوں سے حاصل فنڈ کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔

یہ کارروائی بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے سی بی آئی میں درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے شکایت کی تھی کہ لائرز کلیکٹیو نے 2006-07 اور 2014-15 کے درمیان 32.39 کروڑ روپے سے زائد حاصل کردہ غیر ملکی امدا د کامبینہ غلط استعمال کیا۔ وزارت داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ اس این جی او کی رجسٹریشن غیر ملکی اعانت حاصل کرنے سے متعلق قانون کے تحت 2016 میں ہی معطل کردی گئی گیا تھی کیوں کہ اس نے بے ضابطگی کے الزامات کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا تھا۔

لائرز کلیکٹیو کے خلاف غیر ملکی چندہ میں مبینہ گڑبڑ کے متعلق پہلا الزام 2015 میں بی جے پی حکومت نے لگایا تھا۔ حالاں کہ ممبئی ہائی کورٹ نے این جی او کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کرنے پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا تھا لیکن حکمراں جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کے 'لیگل سیل‘ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والے ایک وکیل نے نئی عرضی دائر کردی تھی۔

اندرا جے سنگھ نے تاہم بے ضابطگی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی این جی او کے خلاف مقدمہ حقائق کی روشنی میں اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے درج نہیں کیا گیا بلکہ انتقام لینے کے مقصد سے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں اور ان کی شوہر کوانسانی حقوق کے لیے کام کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواڈ نے ایک بیان میں اس کارروائی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اس کارروائی کو مودی حکومت کے مخالفین کے خلاف ایک انتقامی کارروائی قرار دیا۔

حقوق انسانی کے ایک اور کارکن اور سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ''اپنے این جی او کے لیے غیر ملکی چندہ کے غلط استعمال کے الزام میں اندرا جے سنگھ اور آنند گروور کے گھر پر سی بی آئی کا چھاپہ پوری طرح سے سیاسی انتقام کا معاملہ ہے۔ حکومتی ایجنسیوں کی طرف سے چھاپے اور مقدمات دائر کرنا اب مخالفین کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔"

اس معاملے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کرلیا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے چھاپے ماری کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ''میں سینیئر وکیل اندرا جے سنگھ اور آنند گروور کے گھروں پر سی بی آئی کے چھاپے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ قانون کو اپنا کام کرنے دیجیے۔ لیکن ان سینیئر وکلا کو پریشان کرنا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قانون اور آئینی قدروں کے لیے وقف کردی، ایک واضح انتقام ہے۔‘‘ مارکسی رہنما اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سکریٹری سیتا رام یچوری کا کہنا تھا”قانون کو اپنا کام ضرور کرنا چاہئے لیکن ایجنسیوں کے ذریعہ معروف اور سینئر وکیلوں کو نشانہ بنانا حکومت کے منشا پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔"

خیال رہے کہ اندرا جے سنگھ اور آنند گروور نے بھارت میں جنسی مساوات، انصاف، مزدوروں کے حقوق، عوام کے ہیلتھ کیئر سے متعلق حقوق اور امتیازی سلوک کے خلاف متعدد اہم مقدمات لڑے اور کامیابی حاصل کی۔ وہ کانگریس کی قیادت والی سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے دوران سن 2009 سے 2014 تک 'ایڈیشنل سالسٹر جنرل‘ بھی رہیں۔ وہ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق  قوا م متحدہ کی کمیٹی کے لیے بھی منتخب ہوئیں اور مسلسل چھ برس تک صحت سے متعلق اقوا م متحدہ کی خصوصی رپورٹر رہ چکی ہیں۔ انہیں 2004 میں بھارت کا اہم شہری اعزاز 'پدم شری‘ سے نوازا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا تاہم کہنا ہے کہ وہ کافی پہلے سے مودی حکومت کے نشانے پر تھیں۔ وہ اسی وقت حکومت کے نشانے پر آ گئی تھیں جب انھوں نے جج بی ایچ لویا کی پراسرار موت کے معاملہ میں دوبارہ جانچ کے لیے سپریم کورٹ میں داخل عرضی کے حق میں بحث کی تھی۔ جج لویا کے موت پر شک کی سوئی اقتدار سے وابستہ متعدد افراد کی طرف جاتی ہے اور اگر اس معاملے کی جانچ شروع ہوجاتی تو اقتدار سے وابستہ بعض لوگوں کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ لویا معاملہ میں بی جے پی کے قومی صدر اور موجودہ وزیر داخلہ امت شاہ کا بھی ذکر آیا تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات