بھارت نے مسعود اظہر اور حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دے دیا | حالات حاضرہ | DW | 04.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت نے مسعود اظہر اور حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دے دیا

بھارتی حکومت نے ایک نئے قانون کے ذریعے پاکستان میں قائم دو جنگجو تنظیموں کے رہنماؤں کو سرکاری طور پر دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھارتی حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیش محمد کے رہنما مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید احمد کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ان دونوں انتہا پسند عسکری تنظیموں کو پہلے ہی سے کالعدم قرار دے رکھا ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 'غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ترمیمی ایکٹ‘ میں ترمیم کرتے ہوئے ان دونوں افراد کو باقاعدہ اور سرکاری طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

مسعود اظہر کو پہلے ہی سے اقوام متحدہ کی طرف سے بھی پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس تنظیم نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ میں رواں برس فروری میں کیے گئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں چالیس بھارتی سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

پلوامہ حملے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر بھی آ گئے تھے۔ اقوام متحدہ نے پلوامہ حملے کے بعد مئی میں مسعود اظہر پر سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں جبکہ ان کے بیرون ملک اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے تھے۔

حافظ محمد سعید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں جماعت الدعوہ چلا رہے ہیں۔ یہ ایک خیراتی ادارہ ہے لیکن الزام عائد کیا جاتا ہے کہ دراصل یہ کالعدم لشکر طیبہ کا ہی ایک ونگ ہے۔ اس تنظیم پر الزام ہے کہ وہ سن دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث تھی، جن کے باعث 166 افراد مارے گئے تھے۔

بھارت میں منظور کیے گئے اس نئے قانون کے تحت حکومت کسی بھی ایسے شخص کو دہشت گرد قرار دے سکتی ہے، جو دہشت گردی کے کسی واقعے کی منصوبہ بندی یا تیاری میں ملوث رہا ہو یا اس نے ایسے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ اس طرح ایسے افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، ان کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف پاکستان نے بھی کالعدم تنظیموں کے مدرسوں، مساجد اور ہسپتالوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔ اسلام آباد حکومت کے مطابق اس ایکشن کا مقصد ملک سے انتہا پسندی اور عسکری پسندی کا خاتمہ ہے۔

ع ب / م م / خبر رساں ادارے

DW.COM