بھارت نے سکھ زائرین کو پاکستان جانے سے روک دیا  | حالات حاضرہ | DW | 18.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت نے سکھ زائرین کو پاکستان جانے سے روک دیا 

بھارتی وزارت داخلہ نے سکھ زائرین کو پاکستان جانے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا  کہ وہاں سلامتی  کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔ سکھ رہنماؤں نے حکومت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

بھارت نے چھ سو سکھوں پر مشتمل ایک گروپ کو پاکستان میں ننکانہ صاحب کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں سلامتی کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے اور وہاں کورونا وائرس کی وبا بھی پھیلی ہوئی ہے۔

'یہ غلط ہو رہا ہے‘

دہلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی منجندر سنگھ سرسا نے حکومت کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

 ڈی ڈبلیو اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے منجندر سنگھ سرسا نے کہا،”یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ یہ غلط ہو رہا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ صد سالہ تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ حکومت سکھوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرے گی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔" انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس حوالے سے اب بھی حکومتی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

بھارتی وزارت داخلہ کا خط

سکھوں کی نمائندہ تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کور بوگیوال کے نام بھیجے گئے خط میں بھارتی وزارت داخلہ نے کہا ”حکومت کو موصول ہونے والے حالیہ اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان جانے والے بھارتی شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو خطرہ لاحق ہے۔ چونکہ تقریباً چھ سو سکھوں کا یہ گروپ ایک ہفتے کے یاترا کے دوران پاکستان میں پانچ گردواروں کا درشن کرنے والا تھا اور ایسے میں ہمیں اس دورے کے دوران اتنی بڑی تعداد میں اپنے شہریوں کی تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔"

 بھارتی سکھوں کا یہ گروپ ننکانہ صاحب کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے جمعہ 19 فروری کو پاکستان روانہ ہونے والا تھا۔

اب کیوں روکا گیا؟

ایک سکھ رہنما کا کہنا تھا کہ بھارتی وزارت داخلہ کا یہ فیصلہ غیر معمولی ہے۔ ماضی میں سکھوں کو پاکستان جانے سے کبھی روکا نہیں گیا۔ ممبئی پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے یا پلوامہ حملے کے دوران بھی جب دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی خراب ہو گئے تھے اس وقت بھی سکھ زائرین کو پاکستان جانے سے نہیں روکا گیا۔ کسی فرد واحد کو جانے کی اجازت نہیں دینے کی مثالیں تو مل جائیں گی لیکن نومبر 2020ء میں بھی سکھ یاتریوں کے گروپوں کو پاکستان جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

نومبر 2020ء میں لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان زبردست فائرنگ ہوئی تھی، جس میں گیارہ شہریوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ویڈیو دیکھیے 02:11

’گرو نانک کے گردوارے میں عبادت کرنے کی خواہش پوری ہوگئی‘

پاکستان میں بنیادی طبی سہولیات کی کمی؟

بھارتی وزارت داخلہ نے شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر نام جمعرات کے روز ارسال کردہ خط میں سکھ گروپس کو یاترا کی اجازت نہیں دینے کا ایک سبب یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان کے طبی شعبے کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ نے اپنے خط میں لکھا ہے”کووڈ انیس کی وجہ سے پاکستان میں پانچ لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ دس ہزار سے زائد افراد اس وبا کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے  طبی شعبے میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔اور اس صورت حال کے مدنظر اپنے شہریوں کے اتنے بڑے گروپ کو ایک ہفتے کے لیے پاکستان جانے کی اجازت دینا مناسب نہیں ہو گا۔"

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان مارچ 2020ء سے ہی مسافروں کی آمدورفت اور تجارتی نقل و حمل بند ہے۔

خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سن 1974 کے ایک معاہدے کے تحت سکھو ں کے چار گروپس  کو ہر برس پاکستان میں اہم گردواروں کی زیارت کے لیے جانے کی اجازت ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:52

’عمران خان کے لیے دعا گو ہیں‘

DW.COM