بھارت میں ہتھنی کی ہلاکت: کہیں غم و غصہ کہیں سیاست | حالات حاضرہ | DW | 04.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت میں ہتھنی کی ہلاکت: کہیں غم و غصہ کہیں سیاست

بھارت میں ایک حاملہ ہتھنی کی ہلاکت کے واقعہ سے ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر ہے، ماحولیات، اسپورٹس اور بالی ووڈ سے وابستہ افراد سے لے کر معروف صنعت کار رتن ٹاٹا نے بھی قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف اس معاملے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کرلیا ہے، حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپوزیشن کانگریس اور کیرالا کی بایاں محا ذ حکومت کو کٹہرے میں کھڑاکرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔

بی جے پی کی رکن پارلیمان اور جانوروں کے حقوق کی علمبردار مینکا گاندھی نے جنوبی بھارت کے شہر ملاپورم میں ایک حاملہ ہتھنی کی ہلاکت کو سیاسی رخ دیتے ہوئے کہا کہ کیرالا میں ہر تیسرے دن ایک ہاتھی کو مار دیا جاتا ہے اورخاص طورملا پورم ضلع جانوروں ہی نہیں انسانوں پربربریت کے لیے ملک بھر میں بدنام ہے۔ انہوں نے کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا”راہول گاندھی اس علاقے سے رکن پارلیمان ہیں انہوں نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟“ 

خیال رہے کہ راہول گاندھی ملاپورم نہیں بلکہ وایناڈ حلقہ سے رکن پارلیمان ہیں۔

بی جے پی رہنما نے کیرالا کی بایاں محاذ حکومت پر بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پنارائی وجیئن حکومت ملاپورم میں کوئی کارروائی کرنے سے ڈرتی ہے۔”کیرالا میں مشہور ہے کہ وہاں کچھ بھی مارو کیرالا حکومت کوئی کارروائی نہیں کرنے والی۔ بہت ہی بھیانک حالت ہے ملا پورم کی۔“ خیال رہے کہ ملاپورم مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔2011 کی مردم شماری کے مطابق یہاں مسلمانوں کی تعداد 70.24 فیصد ہے۔

کانگریس کے ترجمان اور رکن پارلیمان ابھیشیک منو سنگھوی نے 15 سالہ ہتھنی کی ہلاکت کو انتہائی افسوس ناک قرا ر دیتے ہوئے کہا”میں عام طور پرآنکھ کے بدلے آنکھ کی بات نہیں کرتا لیکن ان اصلی جانوروں کو جنہوں نے ایسی حرکت کی ہے، کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا جانا چاہیے۔“

کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمان ششی تھرور نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا”یہ انتہائی سفاکانہ اور مجرمانہ واقعہ ہے جس نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے...لوگوں میں غصہ اس لیے بھی زیادہ ہے کیوں کہ کسی نے بھی کیرالا میں جنگلی جانوروں کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی امید نہیں کی ہوگی۔“

بھارت کے معروف صنعت کاررتن ٹاٹا نے بھی ہتھنی کی ہلاکت پر غم وغصہ کا اظہا رکیا ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا”میں یہ جان کر انتہائی دکھی اور حیرت زدہ ہوں کہ لوگوں کے ایک گروپ نے ایک بے قصور اور حاملہ ہتھنی کو پٹاخے بھرا انناس کھلا کر مار دیا۔ بے گناہ جانوروں کے خلاف ایسی مجرمانہ حرکتیں انسانوں کے سوچے سمجھے قتل سے کم نہیں۔ انصاف ہونا ہی چاہیے۔“


خیال رہے کہ کیرالا کے ملاپورم میں کچھ لوگوں نے ایک حاملہ ہتھنی کو مبینہ طورپر انناس میں پٹاخے رکھ کر کھلادیے۔  ہتھنی نے جیسے ہی انناس کھایا اس کے منہ میں پٹاخے پھوٹ گئے اور وہ بری طرح زخمی ہوگئی۔ وہ دوڑتے ہوئے ایک ندی میں جاکر کھڑی ہوگئی اور اپنا منہ پانی میں ڈالے رکھا۔ لیکن بچ نہیں سکی اور ندی میں ہی دم توڑ دیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرلیا ہے۔

 بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے کہا کہ وہ اس واقعہ سے صدمے میں ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا”ہمیں جانوروں کے ساتھ پیار سے پیش آنا چاہیے اور ان کے خلاف ایسی حرکتیں بند ہونی چاہئیں۔“ انہوں نے ہتھنی اور اس کے پیٹ میں پل رہے بچے کا کارٹون بھی پوسٹ کیا ہے۔


بھارتی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت، کے ایل راہل، سریش رینا نے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کرکٹ کھلاڑی ہربھجن سنگھ نے کئی ٹوئٹ کیے۔ انہوں نے کہا کہ قصورواروں کو سزا ملنی ہی چاہیے۔ ایک بے گناہ حاملہ ہتھنی کے ساتھ ایسی بربریت کیسے کی جاسکتی ہے۔

 بھارتی بیڈمنٹن اسٹار سائنانہوال نے ٹوئٹ کیا”یہ بہت تکلیف دہ ہے۔“  بھارتی فٹ بال ٹیم کے کپتان سنیل چھیتری نے ہتھنی کو ہلاک کرنے والوں کو راکشش قرار دیتے ہوئے کہا”راکششوں، مجھے بہت امید ہے کہ لوگوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔“ 

عالمی شہرت یافتہ سینڈ آرٹسٹ سدرشن پٹنائک نے بھی ہتھنی کے قتل پر اپنے فن کے ذریعہ ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے لکھا”انسانیت پھر شرمسار ہوئی۔ ہاتھیوں کے تحفظ پر میرا ایک سینڈ آرٹ۔“


بالی ووڈ کے متعدد اداکاروں نے بھی اس واقعہ پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان میں انوشکا شرما، شردھا کپور،عالیہ بھٹ، اکشے کمار، ورون دھون، رندیپ ہوڈا، پوجا بھٹ وغیرہ شامل ہیں۔

 اس پورے تنازعے پر مقامی لوگوں اور ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ جانوروں کا غیر قانونی شکار کرنے والے لوگ عام طور پر جنگلی سووروں کے شکار کے لیے پھلوں میں پٹاخے چھپا کررکھ دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہتھنی نے غلطی سے اسی طرح کا کوئی پھل کھالیا ہو۔بعض ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہوسکتا کہ ہتھنی کے ساتھ یہ واقعہ دور کسی جنگل میں پیش آیا ہو اور وہ پریشان ہوکر اس علاقے میں آگئی ہوکیوں کہ ہاتھی ایک دن میں 100کلومیٹر تک کا سفر طے کرسکتے ہیں۔

اس دوران کیرالا کے محکمہ جنگلات نے ایک بیان جاری کرکے کہا”ابھی کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ہتھنی کا جبڑا پٹاخے سے بھرے انناس کی وجہ سے زخمی ہوا تھا حالانکہ اس کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔  اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے۔ مجرموں کے خلاف سخت ترین سزا یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی  جائے گی۔“  دریں اثنا کیرالا کے وزیراعلی پنارائی وجیئن نے قصوروارو ں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:38

چڑیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات