بھارت میں چوبیس گھنٹوں کے اندر دو صحافیوں کا قتل | حالات حاضرہ | DW | 14.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں چوبیس گھنٹوں کے اندر دو صحافیوں کا قتل

بھارت میں گز‍شتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مختلف واقعات میں مسلح افراد نے دو صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے جنوبی ایشیا کے اس مہلک ترین ملک میں صحافیوں پر ہونے والے یہ تازہ ترین حملے ہیں۔

مقامی اخبار ’’ڈیلی ہندوستان‘‘ کے بیورو چیف راجو رنجن جمعے کی رات گئے ریاست بہار میں موٹر سائیکل پر سوار جا رہے تھے کہ نامعلوم حملہ آوروں کے ایک گروپ نے اُن پرپانچ گولیاں فائر کیں۔ ڈسٹرکٹ سیوان کے پولیس چیف سورب کمار نے اے ایف پی کو ٹیلی فون پر بتایا، ’’اُن پر بہت قریب سے گولی چلائی گئی۔ ہم نے انہیں فوری طور سے ہسپتال منتقل کیا جہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ وہ دم توڑ چُکے ہیں۔‘‘

سورب کمار کے مطابق اس قتل کے پچھے کار فرما عوامل کے بارے میں چھان بین کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں دو افراد سے پوچھ گچھ بھی کی جا رہی ہے۔

سورب کمار کا مزید کہنا تھا، ’’ہم زیادہ توجہ مقتول کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر مبذول کر رہے ہیں۔ بحیثیت صحافی راجو رنجن نے شاید کسی شخص کے خلاف کچھ ایسا لکھ دیا ہو جس کا نتیجہ یہ نکلا۔‘‘

Indien Fotografin in Mumbai von mehreren Männern vergewaltigt Tatort

بھارت میں خواتین صحافیوں کو جنسی تشدد تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

دریں اثناء ٹیلی وژن فوٹیج پر ایسے منظر دیکھنے میں آئے جس میں گاؤں والوں کو سورب کی چتا کی تیاری کے لیے لکڑیاں اکٹھا کرتے دیکھا گیا جبکہ ان کے لواحقین اور دوست احباب بین کرتے اور صدمے کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

قبل ازیں جمعرات کی شب ٹیلی وژن پر کام کرنے والے صحافی اکیلش پرتاب سنگھ کو بھی نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر اُس وقت ہلاک کر دیا تھا جب وہ موٹرسائیکل پر سوار ریاست جھاڑ کھنڈ میں اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔ اس واقعے کی اطلاع مقامی رپورٹرز نے دی۔ جھاڑ کھنڈ ریاست بہار کے پڑوس میں واقع ہے۔ قتل کے اس واقعے کے بارے میں ’انڈین ایکسپریس‘ نے ریاست جھاڑ کھنڈ کی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار اُپندرا پرساد کے حوالے سے لکھا ہے، ’’ہمارے پاس اب تک کوئی عینی شاہد موجود نہیں ہے تاہم ہمیں شبہ ہے کہ حملہ آور بھی موٹر سائیکلوں پر ہی سوار تھے۔ یہ معاملہ ہنوز واضح نہیں ہے کہ آیا ہلاک ہونے والے صحافی کو کسی کی طرف سے دھمکیاں ملی تھیں یا نہیں؟‘‘

Indien Armee Gewalt in Uttar Pradesh 07.09.2013

بھارت میں جہاں کہیں بھی انسانی حقوق کی تلفی ہوتی ہے وہاں صحافی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم انہیں شدید خطرات کا سامنا ہوتا ہے

سنگھ کی فیملی اور ان کے حامیوں نے جمعے کو اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کیے، سڑکیں بلاک کیں ساتھ ہی انہوں نے ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام سے کہا کہ وہ صحافی اکیلش پرتاب سنگھ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔

پیرس میں قائم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے مطابق 2015ء میں صحافیوں کی ہلاکت کے اعتبار سے مہلک ترین ملک بھارت رہا۔ پریس کی بندشوں اور پابندیوں کے حوالے سے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی فہرست میں شامل 180 ممالک میں بھارت 133 نمبر پر ہے۔ کہا گیا ہے کہ دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں صحافیوں کو آئے دن پولیس، سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور جرائم پیشہ گینگز کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور بھارت میں صحافیوں کو انتہائی معاندانہ حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔