بھارت میں مذہبی آزادی کی صورت حال تشویش ناک: امریکا | حالات حاضرہ | DW | 12.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت میں مذہبی آزادی کی صورت حال تشویش ناک: امریکا

امریکی انتظامیہ نے بھارت میں مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی مودی حکومت کے اقدامات اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

بھارت کا تاہم کہنا ہے کہ دنیا بھارت کی شاندار جمہوری روایات سے اچھی طرح واقف ہے اورامریکا کو بھارت کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کا ’کوئی حق نہیں‘ ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستوا نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے جاری کردہ ’بین الاقوامی مذہبی آزادی رپورٹ 2019‘ کے حوالے سے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ امریکی پارلیمنٹ کی قانونی ضرورتوں کے لیے شائع کیا جانے والی داخلی دستاویز ہے اور بھارتی شہریوں کو آئین کی طرف سے حاصل اختیارات کے بارے میں کسی غیر ملکی ادارے کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیم ساوتھ ایشیئن ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن کے صدر روی نائر نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم رپورٹ ہے اور بھارت نے اس کی جس طرح پرزور طریقے سے تردید کی ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس رپورٹ کو خود امریکی وزیر خارجہ نے جاری کیا ہے اور اب اسے کانگریس اور اس کی مختلف کمیٹیوں میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس رپورٹ پر کارروائی ہونے میں کچھ وقت لگے لیکن بھارت یہ جانتا ہے کہ اگر اس رپورٹ پر کارروائی ہوئی تو اس کے انتہائی دور رس مضمرات ہوں گے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو کا کہنا تھا”بھارت کی زندہ جمہوری روایات اور طریقہ کار سے دنیا اچھی طرح واقف ہے۔ بھارت کی حکومت اور عوام ملک کے جمہوری روایات پر فخر کرتے ہیں۔ بھارت میں ہمارے یہاں باہمی تبادلہ خیال کی ایک ٹھوس روایت ہے اور آئینی ادارے اور قانون مذہبی آزادی کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔

Indien | Kaschmir | Pakistan | Protest

رپورٹ میں جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کے خاتمےکا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔

حقوق انسانی کے علمبردار روی نائرتاہم کہتے ہیں کہ بھارت میں جمہوریت تو ہے لیکن اقلیتوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بھارت نہیں ہے جہاں ادارے اور تنظیمیں سربراہ مملکت کے حکم کے آگے سربسجود ہوجائیں۔ امریکا کے ادارے آزاد ہوتے ہیں اور ان کی رپورٹوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے مدنظر امریکی کمیٹیاں بھارت کے سرکاری اہلکاروں کو امریکی ویزے نہیں دینے اور بھارت کو مالی امداد دینے پر روک لگانے کی سفارش کرسکتی ہیں۔

لیکن کیا اس طرح کی رپورٹوں پر بھارت کان دھرے گا؟ اس سوال کے جواب میں روی نائر کا کہنا تھا ’موجودہ حکومت سے تو اس کی توقع نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں کان کی بہری ہے۔ اسے شاید کچھ سنائی نہیں دے گا۔  یہ سوجھ بوجھ کی سرکار نہیں بلکہ راہول گاندھی کے بقول ’سوٹ بوٹ کی سرکار‘ ہے۔ لیکن سال دو سال میں اس کے نتائج دیکھنے کو مل جائیں گے اس لیے بہتر ہے کہ وہ اس پر جلد از جلد کان دھرے۔

خیال رہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت ہندو اکثریتی جماعتوں کے ذمہ داروں نے اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی۔ بی جے پی کے حوالے سے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کارروائیوں میں قتل، ہجومی تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد برپا کرنے والوں کو قانونی کارروائی سے بچایا گیا جبکہ متاثرین کے خلاف ہی کارروائی کی گئی۔

رپورٹ میں جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کے خاتمے، پارلیمنٹ کے ذریعے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کی منظوری اوربابری مسجد تنازعہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔

Indien Protest gegen neues Einbürgerungsgesetz

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت ہندو اکثریتی جماعتوں کے ذمہ داروں نے اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے

دفعہ 370 کو ختم کرنے کے حوالے سے رپورٹ میں تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے ’’اس دفعہ کے خاتمے کے خلاف زبردست احتجاج ہوئے، مسلم رہنماوں نے اس پر نکتہ چینی اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں،حقوق انسانی کے کارکنوں اور دیگر لوگوں نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ حکومت نے ہزاروں اضافی سیکورٹی فورسز علاقے میں بھیج دیے، انٹرنیٹ اور فون لائنیں کاٹ دیں اور اس سال کے اواخر تک مواصلاتی خدمات پوری طرح بحال نہیں کی گئیں۔ حکومت نے دسمبر کے وسط تک تمام مساجد بھی بند کردیے،سینکڑوں لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا اور مظاہروں کے دوران 17سویلین اور تین سیکورٹی اہلکار مارے گئے۔“

رپورٹ میں گزشتہ دسمبر میں بھارتی پارلیمان سے منظور شہریت ترمیمی قانون کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قانون پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو شہریت دینے کی وکالت کرتا ہے لیکن مسلمانوں، یہودیوں، لامذہب اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ایسی سہولت دینے سے انکار کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے بھی بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

دریں اثنا بھارت نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی ملک میں اقلیت کو درپیش مسائل کا زمینی جائزہ لینے کی غرض سے دی گئی سفری درخواست مسترد کردی اور کہا کہ غیر ملکی پینل کو بھارتی شہریوں کے آئینی حقوق کا جائزہ لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وزیر خارجہ سبرامنیم جئے شنکر نے حکمراں جماعت کے ایک رکن پارلیمان کو تحریرکردہ خط میں کہا ہے کہ’’ہم نے یو ایس سی آئی آر ایف ٹیموں کے ویزا سے انکار کردیا ہے جو مذہبی آزادی سے متعلق امور کے سلسلے میں بھارت آنے کے خواہاں تھے۔“

ویڈیو دیکھیے 02:27

بھارتی کریک ڈاؤن سے کشمیر میں مذہبی آزادی بھی متاثر

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات