بھارت میں صدارتی الیکشن کے لیے ووٹنگ جاری، دونوں امیدوار دلت | حالات حاضرہ | DW | 17.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں صدارتی الیکشن کے لیے ووٹنگ جاری، دونوں امیدوار دلت

بھارت میں آج پیر کے روز صدر پرنب مکھرجی کے جانشین کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ اس منصب کے لیے دونوں امیدواروں کا تعلق سماجی طور پر ہندوؤں کی سب سے نچلی سمجھی جانے والی دلت برادری سے ہے۔

بھارت کی مرکزی پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں صدر کے چناؤ کے لیے رائے شماری شروع ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے قریب پانچ ہزار منتخب نمائندے ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس صدارتی دوڑ میں دو امیدوار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ صدر بننے کے ایک خواہش مند رام ناتھ کووند ہیں، جنہیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے نامزد کیا ہے۔ اس منصب کے لیے دوسری امیدوار سابقہ سفارت کار میرا کمار ہیں۔ میرا کمار بھارتی پارلیمان کی پہلی خاتون اسپیکر بھی رہ چکی ہیں۔

Indien Meira Kumar

میرا کمار بھارتی پارلیمان کی پہلی خاتون اسپیکر بھی رہ چکی ہیں۔

 

ذرائع ابلاغ کے مطابق بی جے پی کی حمایت کی وجہ سے رام ناتھ کووند با آسانی یہ انتخاب جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمان میں سب سے پہلے ووٹ ڈالنے والوں میں شامل تھے۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ وہ کووند کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ’’میری حکومت کووند کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔‘‘

 

 

بھارت کے سابق صدر عبدالکلام کی رحلت

بھارت: آئندہ صدر کم تر سمجھی جانے والی برادری سے

پارلیمانی نظام کے تحت چلنے والے دیگر ممالک کی طرح  بھارت میں بھی صدر کا منصب علامتی ہوتا ہے۔ تاہم آئین کے محافظ کے طور پر صدر کسی غیر یقینی صورتحال میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مثال کے طور پر اگر عام انتخابات میں کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر پائی ہو، تو ایسی صورت میں صدر ہی کو کسی جماعت کو حکومت سازی کی دعوت دینے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ بہّتر سالہ کووند کے صدر بننے سے نریندر مودی کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہو جائے گی۔

اس سے قبل 1997ء سے 2002ء تک دلت برادری ہی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان کے آر نارائن بھی بھارت میں سربراہ مملکت رہ چکے ہیں۔ آج کی رائے شماری کے نتائج کا اعلان آئندہ جمعرات کے روز کیا جائے گا۔

 

مودی کو عارضی راحت تاہم وقار کو زبردست دھچکا

DW.COM

اشتہار