بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دوں گا، براہمداغ بگٹی | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دوں گا، براہمداغ بگٹی

بلوچستان ریپبلکن پارٹی کے لیڈر اور علیحدگی پسند رہنما برہمداغ بگٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

کالعدم بلوچستان رپبلکن پارٹی کی سوئٹزرلینڈ شاخ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل عزیز اللہ بگٹی کا اس تناظر میں ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’براہمداغ بگٹی کی بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے حوالے سے انیس ستمبر کو بی آر پی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں براہمداغ بگٹی سمیت شیر محمد بگٹی، منصور بلوچ، جواد بلوچ، اور فاروق بلوچ شریک تھی۔ کمیٹی نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ براہمداغ بگٹی بھارت کی شہریت حاصل کریں گے۔‘‘

براہمداغ بگٹی نے اس کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا،’’میں باقاعدہ طور پر ہندوستان میں سیاسی پناہ کی درخواست دوں گا۔ سوئٹزرلینڈ میں چھ سال تک سیاسی پناہ کی درخواست زیر سماعت رہنے کے باوجود سفری دستاویزات نہیں مل سکیں جس کے باعث بلوچستان میں بلوچوں کی نسل کشی اور مظالم کے حوالے سے بین الاقوامی آگاہی پھیلانے اورعالمی سطح پر اس سلسلے میں راہ ہم وار کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔‘‘ براہمداغ بگٹی نے کہا کہ وہ ان بلوچوں کے لیے بھی بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دیں گے جو اب بھی بلوچستان اور افغانستان میں ہیں۔

Belutschistan - Militär tötet sieben Kämpfer im Dera Bugti Distrikt

براہمداغ بگٹی کے دادا اکبر بگٹی سن 2006 میں بلوچستان میں ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے

براہمداغ بگٹی نے کہا،’’ ہم بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا کام فوری طور پر شروع کر دیں گے، ہم بھارت کے سفارت خانے میں جائیں گے اور جو بھی قانونی طریقہ ہے اسے اختیار کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ براہمداغ بگٹی کے دادا اکبر بگٹی سن 2006 میں بلوچستان میں ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے ۔

DW.COM

اشتہار