بھارت میں ’بچہ دانی کرائے پر دستیاب‘ نہیں رہے گی | معاشرہ | DW | 06.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت میں ’بچہ دانی کرائے پر دستیاب‘ نہیں رہے گی

دنیا بھر میں بے اولاد جوڑے بھارت میں عورتوں کے رحم کرائے پر حاصل کرتے ہیں، تاہم اب بھارتی حکومت سیروگیسی کی صنعت پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حالیہ کچھ برسوں میں دنیا بھر سے ہزاروں جوڑے بھارت میں عورتوں کے رحم اپنے بچوں کی پیدائش کے لیے حاصل کرتے رہے ہیں اور سیروگیسی کی یہ صنعت کئی ملین ڈالر کی آمدن کا باعث ہے، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے اس عمل پر پابندی کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد بے اولاد جوڑوں نے بھارت جانے سے کترانا شروع کر دیا ہے۔

بھارت کا شمار دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نہایت ماہر ڈاکٹروں اور کم سرمایے کے ذریعے بے اولاد جوڑے اپنے بچے پیدا کرنے کے لیے خواتین کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کا تاہم یہ بھی کہنا ہےکہ اس صنعت سے متعلق باقاعدہ قواعد و ضوابط موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ بحث بھی عام ہے کہ اس کے ذریعے غریب خواتین کا استحصال ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے 25 ہزار غریب خواتین کے استحصال کی خبریں آنے کے بعد حکومت پر بھی دباؤ ہے کہ وہ اس سلسلے میں قواعد و ضوابط وضع کرے۔ اس عمل میں بے اولاد جوڑے اپنے ایمبریو ان خواتین کے رحموں میں رکھوا دیتے ہیں۔

Symbolbild Geschlechterselektion Indien

بھارت میں یہ عمل کئی ملین ڈالر کی صنعت میں تبدیل ہو چکا ہے

گزشتہ ہفتے بھارتی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ وہ ایسے قوانین بنانے میں مصروف ہے، جس کے ذریعے اس عمل کا تجارتی استعمال ممنوع ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں بھارت میں کام کرنے والے 350 کلینکس کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ’غیرملکیوں کو خدمات نہ دی جائیں۔‘

اس حکومتی اعلان کے بعد اس صنعت سے جڑے ماہر ڈاکٹروں کی جانب سے شدید صدائے احتجاج بلند کی جا رہی ہے، جب کے اس عمل میں شامل عورتوں کی جانب سے بھی حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے اور اس صنعت سے متعلق سخت قواعد وضع نہ کرے۔

اس عمل میں معاونت کرنے والے ایک ماہر بھارتی ڈاکٹر نانیا پٹیل کا کہنا ہے، ’’غیرملکیوں کے ساتھ ایسا امتیازی سلوک کیوں؟ ہم سب انسان ہیں۔‘‘

بھارتی ریاست گجرات میں اکانکشا کلینک کے سربراہ پٹیل کا مزید کہنا ہے، ’’میں گزشتہ 11 سال سے یہ خوبصورت انتظام کر رہا ہوں۔ اس پر پابندی تو کوئی حل نہ ہوا۔‘‘

اس بھارتی اعلان کی وجہ سے غیرملکی جوڑے تذبذب کا شکار ہیں اور خصوصاﹰ ایسے جوڑوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے، جو اس عمل کا آغاز کر چکے ہیں اور ان کے بچے مختلف خواتین کے رحموں میں پرورش پا رہے ہیں۔