بھارت: معاشی ترقی کی قيمت، نوجوانوں ميں موٹاپا اور ذيابيطس | معاشرہ | DW | 02.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: معاشی ترقی کی قيمت، نوجوانوں ميں موٹاپا اور ذيابيطس

بھارت ميں پچھلی قريب دو دہائيوں سے جاری اقتصادی ترقی کے سبب شہری علاقوں ميں رہائش پذير لوگوں کے طرز زندگی ميں کافی تبديلياں آئی ہيں۔ نتيجتاً کم عمری ميں موٹاپے اور ذيابيطس جيسے امراض کے کئی نئے کيسز سامنے آ ئے ہيں۔

روہن سارن نويں جماعت کا طالب علم ہے۔ ايک دن کلاس کے دوران اسے اچانک چکر آنے لگے۔ اس نے خاموشی کے ساتھ اپنے بستے سے انسولين کا انجکشن نکالا اور خود کے لگا ليا اور ساتھ ہی طاقت فراہم کرنے والی ايک انرجی بار کا ايک لقمہ بھی لے ليا۔ روہن ہر روز چار مرتبہ انسولين کا انجکشن لگاتا ہے۔ يہ پندرہ سالہ طالب علم کلاس کے دوران اس عمل سے اتنی مرتبہ گزر چکا ہے کہ اب تو اس کے ساتھيوں کو اس بات پر تعجب تک نہيں ہوتا کہ سارن آخر کر کيا رہا ہے۔ سارن کا شمار بھارت کے ان نوجوانوں ميں ہوتا ہے، جو کم عمری ميں ہی ذيابيطس کے مرض ميں مبتلا ہو گئے ہيں۔ اس جنوبی ايشيائی ملک ميں جواں عمری ميں ذيابيطس کے کيسز دن بہ دن بڑھ رہے ہيں۔

بھارت ميں پچھلی قريب دو دہائيوں سے جاری اقتصادی ترقی کے سبب مقامی افراد کے طرز زندگی ميں کافی تبديلياں آئی ہيں۔ نہ صرف لوگ زيادہ کھاتے ہيں بلکہ وہ پيزا اور برگر جيسے مغربی طرز کے کھانوں کو ترجيح ديتے ہيں جبکہ دال، سبزی وغيرہ جيسے روايتی کھانے اب ان نوجواں کو نہيں بھاتے۔ کھانے پينے کی عادات کے علاوہ ان کے لائف اسٹائل ميں ورزش اور جسمانی حرکت بھی کم ہو گئی ہے۔ اکثريتی نوجوان پيدل چلنے کے بجائے گاڑی يا پھر بس اور ريل گاڑی پر سفر کو فوقيت ديتے ہيں۔ فارغ اوقات ميں چہل قدمی يا سائیکل چلانے کی جگہ بھی نوجوان گھروں ميں بيٹھ کر ٹيلی وژن ديکھتے ہيں۔ بھارت ميں شہريوں کے بدلتے ہوئے طرز زندگی کے نتيجے ميں پہلے کے مقابلے اب زيادہ لوگ موٹاپے کا شکار ہوتے جا رہے ہيں۔ اس کے ساتھ ہی ذيابيطس جيسے امراض کے پھيلاؤ ميں بھی اضافہ ريکارڈ کيا گيا ہے۔

بھارتی پبلک ہيلتھ فاؤنڈيشن سے تعلق رکھنے والی ماہر ڈاکٹر مونيکا ارورہ کے بقول پچھلے بيس برسوں کے دوران کم عمر لوگوں ميں ذيابيطس بہت بڑھ گئی ہے۔ بھارت کے تقريباً تيس فيصد ٹين ايجرز موٹاپے کا شکار ہيں۔ سن 2010 ميں يہ تعداد اس کے نصف سے بھی کم تھی۔ اس وقت بھارت ميں قريب ستر ملين افراد ذيابيطس کے شکار ہيں اور متعلقہ حکام کو خدشہ ہے کہ آئندہ آٹھ برسوں ميں يہ تعداد ايک سو بيس ملين سے تجاوز کر سکتی ہے، جو اس کی مجموعی آبادی کے تقريباً دس فيصد کے برابر ہے۔

اس پيش رفت کے نتيجے ميں اب نئی دہلی حکام بھی فعال دکھائی ديتے ہيں۔ حکومت کے ايک منصوبے کے تحت سن 2019 تک تيس سال يا اس سے زيادہ عمر کے پانچ سو ملين افراد کی اسکريننگ کا عمل مکمل کر ليا جائے گا۔ بعد ازاں ہدف يہی ہے کہ ملک کے تمام ايک اعشاريہ تين بلين عوام کی ذيابيطس کے ليے اسکريننگ کی جائے۔ وزير صحت جگت پرکاش نے بتايا ہے کہ حکام مختلف اسکولوں کی انتظاميہ کے ساتھ بھی رابطے ميں ہيں تاکہ بچوں کو ذيابيطس کے مرض ميں مبتلا ہونے سے پہلے ہی مشاورت فراہم کی جائے۔ يہ امر اہم ہے کہ يہ رجحان زيادہ تر اچھی آمدنی والے گھرانوں کے اور شہری علاقوں ميں رہنے والے بچوں ميں ديکھا گيا ہے۔

DW.COM

اشتہار