بھارت: مشہور گینگ ریپ کیس کا فیصلہ، تین کو دس دس سال قید | معاشرہ | DW | 11.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت: مشہور گینگ ریپ کیس کا فیصلہ، تین کو دس دس سال قید

بھارتی شہر کولکتہ کی ایک عدالت نے تین مردوں کو دس دس سال کی سزائے قید کا حکم سنایا ہے۔ اُن پر اُس خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہو گیا تھا، جس نے حوصلے سے کام لیتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر کر دی تھی۔

Indien Frauenrechtsaktivistin Suzette Jordan

سُوزیٹ جورڈن کا اس سال کے شروع میں گردن توڑ بخار کے باعث چالیس سال کی عمر میں انتقال ہو چکا ہے

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے کولکتہ سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ تینوں ملزمان کو یہ سزا جمعہ گیارہ دسمبر کے روز سنائی گئی ہے۔ عدالت نے انہیں ایک ہی روز قبل سُوزیٹ جورڈن نامی خاتون کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے لیے قصور وار قرار دیا تھا۔

سُوزیٹ جورڈن کے ساتھ گینگ ریپ کا یہ واقعہ فروری 2012ء میں پیش آیا تھا۔ بھارت میں عام طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی اور خود خواتین بھی اپنی بدنامی کے ڈر سے سامنے آنے سے گبھراتی ہیں لیکن جب حکام نے جورڈن کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو جان بوجھ کر تراشی ہوئی کہانی قرار دے دیا تو اُس نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کا جرأت مندانہ فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا تھا۔

اس واقعے کے وقت سُوزیٹ جورڈن کی عمر سینتیس برس تھی۔ اُس روز وہ کولکتہ کے پارک سٹریٹ ایریا میں واقع ایک نائٹ کلب سے نکلی تو مردوں کے ایک گروپ نے اُسے اُس کے گھر چھوڑنے کی پیشکش کی۔ بعد ازاں یہ لوگ اُسے کہیں اور لے گئے اور یکے بعد دیگرے اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد اُسے سڑک پر پھینک کر چلے گئے۔

اس واقعے کی تفصیلات منظرِ عام پر آئیں تو احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔ اُس زمانے میں ممتا بینر جی مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ تھیں۔ اُنہوں نے ابتدا میں اس واقعے کو ایک ایسا من گھڑت واقعہ قرار دیا، جس کا مقصد محض اُن کی حکومت کو بدنام کرنا تھا۔

ایسے میں سُوزیٹ جورڈن نے، جو دو بچوں کی ماں تھیں، ایک غیر معمولی فیصلہ کیا اور اپنی شناخت ظاہر کر دی۔ اُنہوں نے انٹرویوز میں بتایا کہ اُن کے پاس اپنی شناخت کو مخفی رکھنے کا کوئی جواز اس لیے نہیں تھا کیونکہ خود اُن سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی تھی۔

Indien junge Frau Vergewaltigung Opfer Gewalt Singapur

دسمبر 2012ء میں نئی دہلی میں ایک چلتی بس میں گینگ ریپ کے واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئی تھی

سُوزیٹ جورڈن کے اقدام سے پولیس کی تفتیش کو نئی تحریک ملی اور بالآخر تین مردوں ناصر خان، رومان خان اور سُمیت بجاج کو گرفتار کر لیا گیا۔ اِنہی تینوں کو اب دس دس سال کے لیے قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دیگر دو ملزمان ابھی تک مفرور ہیں۔

کولکتہ کی سیشن کورٹ کے باہر تینوں ملزمان کے وکیل اشوک بخشی نے بتایا کہ ملزمان اپنی سزاؤں کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سُوزیٹ جورڈن کا اس سال کے شروع میں گردن توڑ بخار کے باعث چالیس سال کی عمر میں انتقال ہو چکا ہے۔

Protest nach Gruppenvergewaltigung und Ermordung zweier Mädchen in Indien 30.05.2014

بھارت کے مختلف شہروں میں گینگ ریپ اور خواتین کے ساتھ پیش آنے والے پُر تشدد واقعات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں

دسمبر 2012ء میں نئی دہلی میں ایک چلتی بس میں ایک لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے کے بعد سے بھارت بھر میں خواتین کے خلاف پُرتشدد واقعات پر بحث میں تیزی آئی ہے۔ اس مشہور واقعے کی متاثرہ لڑکی بعد ازاں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئی تھی۔ بھارتی قانون کے تحت گینگ ریپ کی شکار خواتین کے نام محض اُن کی مرضی سے ہی منظرِ عام پر لائے جاتے ہیں ورنہ اُن کی موت کے بعد بھی ظاہر نہیں کیے جاتے۔