بھارت: مسلم مخالف حملوں پر امریکا کی گہری تشویش | حالات حاضرہ | DW | 27.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: مسلم مخالف حملوں پر امریکا کی گہری تشویش

بھارت نے نئی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادت سے متعلق امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔امریکی بیان کے مطابق عبادت گاہوں اور مسلم شہریوں پر حملے پریشان کن ہیں۔

امریکا میں عالمی سطح پر مذہبی آزدی کے نگراں ادارے’یونائٹیڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم‘ (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بلا امتیاز مذہب و ملت تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات میں اب تک 35 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دو سو سے زائد زخمیوں کا ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف کے سربراہ ٹونی پریکسن نے کہا، ’’دہلی میں جاری تشدد اور مسلمانوں پر حملے، ان کی عبادت گاہوں، مکانات اور دکانوں پر حملوں کی اطلاعات بہت پریشان کن بات ہے۔ کسی بھی ذمے دار حکومت کے سب سے اہم فرائض میں سے بلا امتیاز مذہب و ملت اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ہم بھارتی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مسلمانوں اور ان افراد کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے جنہیں ہجوم نشانہ بنا رہے ہیں۔‘‘

ndien Neu Delhi Proteste gegen Staatsbürgerschaftsgesetz

دارالحکومت دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات میں اب تک 35 افراد ہلاک اور دو سے کے قریب زخمی ہوئے ہیں.

خارجی امور سے متعلق امریکی کیمٹی نے بھی دہلی کے مذہبی نوعیت کے فسادات پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام افراد کے تحفظ کو یقین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا،’’جمہوریت میں احتجاج ایک کلیدی حق ہے لیکن پرامن طریقے سے ہونا چاہیے اور پولیس کو سبھی کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔‘‘

اس سے قبل امریکی سینیٹر ایلزیبتھ وارین نے بھی بھارت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی تھی کہ پر امن مظاہرین کے خلاف تشدد کو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’’بھارت جیسے جمہوری ملک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا اہم ہے۔ لیکن ہمیں مذہبی اور اظہار رائے کی آزادی جیسی اپنی قدروں کے بارے میں سچ بولنے کی بھی سکت ہونی چاہیے اور پر امن مظاہرین کے خلاف تشدد کو کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘    

لیکن بھارت نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب بیانات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا کہ دہلی کے فسادات کے تعلق سے ایسے بیانات میڈیا میں دیکھے گئے ہیں۔ "یہ حقائق کے برعکس ہیں اور بظاہر مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کے لیے ہیں۔ امن و قانون کے لیے ذمہ دار ہماری ایجنسیاں تشدد کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہیں اور امن کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ ہم اس بات پر زور دیں گے کہ اس نازک موقع پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کیا جائے۔"

Indien Neu Delhi | Protest gegen Staatsbürgerschaftsgesetz

خارجی امور سے متعلق امریکی کیمٹی نے بھی دہلی کے مذہبی نوعیت کے فسادات پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام افراد کے تحفظ کو یقین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

 ادھر امریکی صدارتی امید واروں کی ریس میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما برنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے مسائل کے تعلق سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ بھارت پوری طرح سے ناکام تھا۔ صدر ٹرمپ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’تقریبا بیس کروڑ مسلمان بھارت کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد میں تیس سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور ٹرمپ نے اس سے متعلق سوال کے جواب میں کہا، یہ بھارت پر منحصر ہے۔ انسانی حقوق کے تعلق سے یہ قیادت کی ناکامی نہیں تو کیا ہے۔‘‘

امریکی صدر نے دہلی سے روانگی سے قبل ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا، "میں نے ان حملوں سے متعلق سنا ہے لیکن ہم نے مودی کے ساتھ اس پر بات چیت نہیں کی۔ یہ بھارت کا اپنا معاملہ ہے۔‘‘

اس دوران بھارت میں بھی کئی سیاسی جماعتوں نے فسادات کے حوالے سے حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔ حکومت نے گزشتہ رات دہلی ہائی کورٹ کے اس جج کا تبادلہ کر دیا ہے جس نے اشتعال انگیز بیانات دینے والے بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے خلاف کیس درج کرنے کی ہدایات دی دی تھیں۔ کانگریس پارٹی کی رہنما پرینکا گاندھی نے نصف شب میں جج کے تبادلے کو تکلیف دہ اور شرمناک بتاتے ہوئے لکھا،’’لاکھوں بھارتیوں کو لچکدار اور انصاف پسند عدلیہ پر اعتماد ہے، حکومت کی جانب سے انصاف کا مذاق اڑانے اور عوام کے اعتماد کو ٹھوس پہنچانے کوششیں قابل مذمت ہیں۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM