بھارت: مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ | حالات حاضرہ | DW | 14.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: مسلمانوں کی فیملی پلاننگ پر بی جے پی کا نیا شوشہ

آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما نے مسلمانوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے مناسب طریقے اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ سیاسی اور سماجی تنظیمیں سرما کے اس بیان کو فرقہ وارانہ اور مسلمانوں کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے رہنما اور آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما نے کہا تھا کہ اقلیتی فرقے (مسلمانوں) کو اپنی غربت اور دھرتی پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے خاطر فیملی پلاننگ کے مناسب طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ مسلم سماجی اور سیاسی تنظیموں نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی کے خلاف شرمناک رویہ قرار دیا ہے۔

بی جے پی بالخصوص آسام میں مبینہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مسلمان تارکین وطن کے مسئلے کو ایک بڑے سیاسی، سماجی، اقتصادی اور سکیورٹی کا مسئلہ بنا کر پیش کرتی رہی ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اکثر تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

’سرما کو مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے‘

بھارتی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس)کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہو ئے کہا ”یہ انتہائی شرمنا ک ہے اور ایک وزیر اعلی کی زبان سے اس طرح کا فرقہ وارانہ اور ایک خاص برادری کے خلاف بیان یہ واضح کرتا ہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں میں اب ذرہ برابر بھی ذمہ داری اور آئین کا پاس و لحاظ نہیں رہ گیا ہے۔"

ڈاکٹر منظور عالم کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے سرما نے جو کچھ کہا ہے وہ یقینی طور پر ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور بھارتی آئین کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ مسلمانوں کو ایک طرح سے دھمکی دی گئی ہے۔

مسلم سماجی تنظیم آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری منظور عالم کا مزید کہنا تھا، ”در اصل بی جے پی آسام میں جب این آر سی (شہریوں کا قومی رجسٹر)کے نام پر مسلمانوں کو پریشان کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور مسلمانوں سے زیادہ جب اکثریتی طبقے کا نام اس میں آ گیا ہے تو اب انہیں آبادی کو بنیاد بنا کر پریشان کرنے اور نشانہ بنانے کے لیے یہ مہم شروع کی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ2011ء کی مردم شماری کے مطابق دوسرے صوبوں کی آبادی میں ہونے والے اضافے کی شرح آسام سے زیادہ ہے۔ آسام اس فہرست میں سترہویں نمبر پرہے،''یہ سب دراصل ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے اور وزیر اعلی اپنی کرسی کا خیال رکھنے کے بجائے گھٹیا ترین حرکت کر رہے ہیں۔ ایسے بیان سے گریز کرنا اور تمام مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔"

متنازعہ بیان

وزیر اعلی سرما پہلے بھی متنازعہ بیانات دیتے رہے ہیں جن کے خلاف زبردست عوامی ناراضگی کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ بی جے پی رہنما کا کہنا تھا ”اگر آسام میں مسلم کمیونٹی غربت اور ناخواندگی جیسی سماجی برائیوں پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے خاندانی منصوبہ بندی کا مناسب طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔" سرما کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی قبضوں کے  خلاف حکومتی کارروائیوں پر شکایت کرنے کے بجائے آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ 'خاندان کو چھوٹا کیسے رکھیں۔اس کے لیے آبادی کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ غربت اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی ہے جب تک آپ اپنی آبادی کو کنٹرول نہ کریں۔"

سرما کا مزید کہنا تھا کہ اگر آبادی میں اضافے کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو ایک دن ہندوؤں کے مقدس ترین مندروں میں سے ایک آسام کے کامکھیا مندر کی زمینوں پر بھی قبضہ ہو جائے گا۔"

’سرما  کے تو خود ہی چھ بھائی ہیں‘

آئی او ایس کے چیئر مین ڈاکٹر منظور عالم کا کہنا تھا کہ ہندو قوم پرست رہنما اپنے گھر میں دیکھنے کے بجائے مسلمانوں کو تنبیہ اور نصیحت کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا،”خود ہیمنت بسوا کے چھ بھائی ہیں جب کہ بی جے پی کے سابق وزیر اعلی سونوال کے آٹھ بھائی تھے۔"

مولانا بدرالدین اجمل کی قیادت والی آسام کی سیاسی جماعت آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایم) کے جنرل سکریٹری اور رکن اسمبلی امین الاسلام کا کہنا ہے کہ سرما نے ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ فرقہ وارانہ سیاست ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت کی آبادی پالیسی کی کبھی مخالفت نہیں کی ہے لیکن ریاست میں غربت اور ناخواندگی کا مسئلہ بنیادی طور پر حکومت کی خراب منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔126 رکنی آسام اسمبلی میں اے آئی یو ڈی ایف کے سولہ اراکین ہیں۔

خواتین کی تنظیم نیشنل فیڈریشن آف انڈین وومن کی جنرل سکریٹری اینی راجہ نے سرما کے بیان کو فرقہ وارانہ اور فسطائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا”سرما کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ خطے میں غربت کی بنیادی وجہ آبادی ہے اور مسلمان اس کے لیے واحد ذمہ دار ہیں۔ اس طرح کا بیان دے کر وزیر اعلی نے اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کی ہے۔"

اینی راجہ کا مزید کہنا تھا 'کیا وزیر اعلی کو ایسے بیانات کے مضمرات کا ذرابھی اندازہ نہیں ہیں۔ الفاظ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اقتدار کے بھوکے وزیر اعلی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایسے الفاظ سے نسل کشی بھی ہو سکتی ہے۔"

بھارتی مسلم تنظیموں کی انجمن کل ہند مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرما نے جب سے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا ہے وہ اکثر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے رہے ہیں۔

DW.COM