بھارت: مدارس میں ہندو طلبہ کی تعداد بڑھ رہی ہے | معاشرہ | DW | 12.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

 بھارت: مدارس میں ہندو طلبہ کی تعداد بڑھ رہی ہے

بھارت میں ہندو شدت پسندوں کی طرف سے مذہبی خلیج بڑھانے کی کوششوں کے دوران صوبہ مغربی بنگال میں ہزاروں ہندو طلبہ اس خیال کو غلط ثابت کر رہے ہیں کہ مدارس میں صرف مسلم بچے ہی پڑھتے ہیں۔

بھارت ریاست مغربی بنگال کے مدرسہ بورڈ کے صدر ابوطاہر قمرالدین نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’دسویں کلاس کے مساوی مدرسہ بورڈ کے امتحانات دس فروری سے شروع ہوئے ہیں اور اس مرتبہ ستر ہزار طلبہ امتحان دے رہے ہیں، گوکہ ہندو طلبہ کی بالکل درست تعداد کا اندازہ ابھی نہیں ہوسکا ہے لیکن ان کی تعداد تقریباً پندرہ فیصد کے قریب ہوگی۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ برس بھی بورڈ کا امتحان دینے والوں میں 12.77فیصد طلبہ ہندو تھے۔

 ابوطاہر قمرالدین کا مزید کہنا تھا، ”خوشی کی بات ہے کہ مغربی بنگال مدرسہ بورڈ کے امتحان میں شامل ہونے والے غیر مسلم طلبہ کی تعداد میں ہر سال دو سے تین فیصد کا اضافہ ہورہا ہے۔“

ابوطاہر قمر الدین کے بقول ہندو والدین خود ہی اپنے بچوں کو مدرسے میں داخلہ دلواتے ہیں اور مدرسہ بورڈ کے امتحان کے لیے اندراج کراتے ہیں، ”کم از کم مغربی بنگال کی حد تک تو یہ بات بالکل غلط ہے کہ مدارس میں صرف مسلمان بچے ہی پڑھتے ہیں۔ پرولیا، بیرو بھوم اور بانکوڑا اضلاع میں تو صورت حا ل یہ ہے کہ وہاں مدارس میں مسلمانوں کے بجائے غیر مسلم طلبہ کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔“

مغربی بنگال مدرسہ بورڈ کے صدر کا کہنا تھا کہ مدارس میں ہندو طلبہ کے داخلہ لینے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا نصاب تعلیم مین اسٹریم کی طرح ہے،’’گوکہ ان مدارس میں عربی اور اسلامی تاریخ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں اسمارٹ کلاسس بھی ہوتی ہیں۔ ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے، جس کی سہولت عام طور پر دیگر اسکولوں میں نہیں ہے۔‘‘

 یہی وجہ ہے کہ بالخصوص غریب طبقے کے ہندو اپنے بچوں کو مدارس میں داخلہ دلواتے ہیں۔ ان مدارس میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ابوطاہر قمرالدین کہتے ہیں ’’گزشتہ برس مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں شامل ہونے والے ہندو اور مسلم طلبہ میں لڑکیوں کی تعداد ساٹھ فیصد سے زیادہ تھی۔ کئی ہندو لڑکیوں نے نوے فیصد سے زیادہ مارکس حاصل کیے تھے۔“

ان مدارس میں تعلیم دینے والے اساتذہ میں ایک خاصی تعداد غیر مسلموں کی ہے۔ تعلیم کا میڈیم بنگلہ، انگریزی اور اردو ہے۔ اس کی وجہ سے ہندو طلبہ کو بھی ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔

ابوطاہر قمرالدین نے بتایا کہ مدرسہ بورڈ کے تحت دو اسٹریم ہیں،’’ہائی مدرسہ اور سینیئر مدرسہ۔ ہائی مدرسہ میں عربی کا مضمون اختیاری ہے جب کہ سینیئر مدرسہ میں تھیولوجی بھی پڑھائی جاتی ہے۔ غیر مسلم عام طور پر ہائی مدرسہ میں داخلہ لیتے ہیں کیوں کہ یہاں سینیئر سیکنڈری بورڈ کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ مدرسہ بورڈ کی سند کو حکومت تسلیم کرتی ہے۔ ریاست میں مدرسہ بورڈ کے تحت مجموعی طور پر 614 مدارس ہیں۔

بنگال میں مدرسہ تعلیم کا سلسلہ سن 1780میں کلکتہ مدرسہ کے قیام کے ساتھ شروع ہوا۔ سن 1915میں اس میں اصلاحات کی گئیں جب کہ سن 1927میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ سن1950 میں اس کا نام بدل کر مغربی بنگال مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کردیا گیا، جو کہ بھارت کا قدیم ترین مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی سرکار نے مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے جسٹس سچر کمیٹی قائم کی تھی، جس نے اپنی رپورٹ میں مدارس کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ سن 2007 میں مغربی بنگال روایتی مدارس کو جدید خطوط پر استوار کرنے والی پہلی ریاست بن گئی۔ اس کی عالمی سطح پر ستائش بھی  ہوئی۔ واشنگٹن کے بروکنگ انسٹی ٹیوشن نے سن 2009 میں مغربی بنگال کے مدارس کو جدید تعلیم کے لیے ماڈل قراردیتے ہوئے پاکستان کو بھی اسے اپنانے کا مشورہ دیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:35

مدرسے میں سیکس ایجوکیشن

جاوید اختر، نئی دہلی

 

DW.COM