بھارت، ماکروں کے متعلق پاکستان اور ترکی کے رویے پر برہم | حالات حاضرہ | DW | 29.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت، ماکروں کے متعلق پاکستان اور ترکی کے رویے پر برہم

اسلام کے متعلق فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے بیانات پر پاکستان اور ترکی کے رویے کی بھارت نے سخت مخالفت کی ہے۔اسے انتہائی غیر معمولی سفارتی قدم قرار دیا جارہا ہے۔

ایک فرانسیسی اسکول ٹیچر کے قتل کے بعد اسلام اور شدت پسندی کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے بیانات کے لیے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے انہیں نشانہ بنائے جانے پر بھارت نے ان دونوں سربراہوں کی نکتہ چینی کرتے ہوئے ماکروں کی حمایت کی ہے۔ بھارت کے اس اقدام کو انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

بھارت بھی اب ترکی اور پاکستان کی جانب سے فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں پر ذاتی حملے کے خلاف یورپی ممالک کے ساتھ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ماکروں کے خلاف بیانات کو بین الاقوامی بیانیہ کے بنیادی معیارات کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا”فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے خلاف ذاتی حملے میں جو ناقابل قبول زبان استعمال کی جارہی ہے ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی بیانیے کے انتہائی بنیادی معیارات کے بھی خلاف ہے۔"

 بیان میں کہا گیا ہے "ہم انتہائی ہولناک انداز میں اور بے رحمی کے ساتھ دہشت گردانہ حملے میں فرانسیسی ٹیچر کی ہلاکت، جس نے دنیا کو ہلا کررکھ دیا، کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم متاثرہ کنبے اور فرانس کے عوام کو دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”کسی بھی سبب سے اور کسی بھی حالت میں دہشت گردی کے لیے کوئی جواز نہیں ہے۔"

بھارت کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب بھارتی خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرینگلا آج 29 اکتوبر کو فرانس، جرمنی اوربرطانیہ کے ایک ہفتے کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔ ان تینوں ملکوں کے ساتھ نئی دہلی کے اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔  

'دوسرے کے پھٹّے میں ٹانگ اڑانا‘

بھارتی تجزیہ کار ماکروں کی تائید اور عمران خان اور رجب طیب اردوان کے خلاف مودی حکومت کے بیان پر تعجب کا اظہار کررہے ہیں اور اسے دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی سے تعبیر کررہے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی حربہ بھی ہوسکتا ہے۔

بھارتی سیاسی تجزیہ کار اور سینئر صحافی اسد مرزا نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے خاص بات چیت میں کہا ”بھارت اس پورے تنازع میں کہیں بھی نہیں ہے۔اس سے بھارت کا کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے۔ پھر آپ اس میں دخل کیوں دے رہے ہیں؟  یہ تو دوسرے کے پھٹّے میں ٹانگ اڑانے والی بات ہے۔ دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرح کی مسلم مخالف پالیسی اپنارکھی ہے، حکومت کا موقف بھی اسی کا مظہر ہے۔"

اسد مرزا کا مزید کہنا تھا کہ 'ہوسکتا ہے بی جے پی حکومت اس سے بہار میں جاری اسمبلی انتخابات میں بھی فائدہ اٹھانا چاہتی ہو۔اسے لگتا ہے کہ اس مسئلے کو اٹھانے سے ووٹروں کی صف بندی کرنے میں مدد ملے گی۔ اس لیے بھی حکومت اسے ہوا دے رہی ہے۔"

بھارت میں فرانسیسی سفیر ایمانوئل لینین نے ماکروں کی حمایت میں بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا ”دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرانس اور بھارت ہمیشہ ایک دوسرے پر اعتماد کرسکتے ہیں۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدرکے حق میں بھارت کے بیان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایمانویل ماکروں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ذاتی تعلقات ہیں۔ ماکروں نے گزشتہ برس انہیں بیرز میں منعقد جی۔7 رہنماوں کی چوٹی کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔

اس کے علاوہ بھارت او رفرانس کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات بھی ہیں۔ فرانس کشمیر اور مبینہ پاکستانی اعانت یافتہ دہشت گردی جیسے امور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی حمایت کرتا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماکروں کی حمایت میں بھارت کا اتنا کھل کر بیان دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ فرانسیسی صدر کے خلاف سب سے زیادہ سخت موقف ترکی اور پاکستان نے اپنائے ہیں اور یہ دونوں ممالک کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے واقعات کے لیے بھارت پر مسلسل حملے کرتے رہے ہیں۔

دریں اثنا بھارت کی متعدد مسلم تنظیموں نے بھی فرانسیسی صدر ماکروں کے بیان کی مذمت کی ہے۔

جاوید اختر، نئی دہلی 

DW.COM