1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indien | Proteste gegen Armee-Rekrutierungsprogramm Agnipath
تصویر: ANI/Handout/REUTERS

بھارت: فوج میں بھرتی کے نئے منصوبے کے خلاف ملک گیر ہڑتال

صلاح الدین زین ڈی ڈبلیو، نئی دہلی
20 جون 2022

بھارت میں حزب اختلاف نے فوج میں بھرتی سے متعلق حکومت کی نئی اسکیم 'اگنی پتھ‘ کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ ہڑتال کے باعث کئی ریاستوں میں نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D9%81%D9%88%D8%AC-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A6%DB%92-%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%A8%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%D9%85%D9%84%DA%A9-%DA%AF%DB%8C%D8%B1-%DB%81%DA%91%D8%AA%D8%A7%D9%84-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D8%A6%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%AB%D8%B1/a-62187856

بھارتی حکومت نے مسلح افواج میں بھرتی کے لیے 'اگنی پتھ‘ نام کی جس نئی اسکیم کا گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا، اس کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے پہلے سے جاری تھے، تاہم  20 جون کو حزب اختلاف کی جانب سے اس کے خلاف ملک گیر ہڑتال کے اعلان سے اس میں مزید شدت آ گئی ہے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی کے کارکنان اس ہڑتال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں کے سبب پیر کے روز ملک کے مختلف حصوں میں پانچ سو سے بھی زیادہ ٹرینوں کو منسوخ کرنا پڑا۔ دارالحکومت دہلی اور اس کے مضافات سمیت ملک کے کئی دیگر شہروں میں بھی ٹریفک بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ریاست بہار اور جھار کھنڈ میں انتظامیہ نے ہڑتال کی وجہ سے تمام اسکول اور کالج بند کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ بہت سے شہروں میں تجارتی مراکز بھی بند ہیں۔ دارالحکومت دہلی اور اس سے متصل ریاست ہریانہ، مغربی بنگال، بہار، جھار کھنڈ، پنجاب اور جنوبی بھارت سمیت کئی ریاستوں میں ہڑتال کا کافی اثر دیکھا گیا، جہاں سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

کئی ریاستوں میں پولیس نے مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو حراست میں بھی لیا ہے، تاہم احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز دارالحکومت دہلی میں زبردست بد نظمی دیکھی گئی جہاں مختلف علاقوں میں زبردست مظاہرے ہوئے۔

مودی حکومت کا موقف

اگرچہ کئی حلقے اور دفاعی ماہرین حکومت کے اس نئے منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اس پر کئی جانب سے نکتہ چینی بھی ہوئی ہے، تاہم مودی حکومت نے اپنے تازہ بیان میں اس اسکیم کو واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔

Indien | Proteste gegen Armee-Rekrutierungsprogramm Agnipath
تصویر: ANI/Handout/REUTERS

مودی حکومت میں وزیر اور سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے اپنے تازہ بیان میں، مظاہرین پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں مسلح افواج میں بھرتی کی نئی پالیسی پسند نہیں ہے تو انہیں اس کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔

 کیا یہ اسکیم آر ایس ایس کا خفیہ ایجنڈا ہے؟

 اس دوران جنوبی ریاست کرناٹک کے سابق وزیر اعلی اور مقامی سیاسی جماعت جے ڈی (ایس) کے سربراہ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا ہے کہ مرکز کی اگنی پتھ اسکیم در اصل سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کا ایک 'خفیہ ایجنڈا ہے‘ جس کی مدد سے وہ بھارتی فوج پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بھارت میں، ''نازی تحریک اگنی پتھ سے شروع ہو گی اور اس کے لیے ایسے ہی تربیت یافتہ فوجی استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے تحت آر ایس ایس کے کارکن فوج کے اندر بھی ہوں گے جبکہ اسکیم کے مطابق جلد ریٹائر ہونے والے فوجی تنظیم کا حصہ ہوں گے۔‘‘

اس طرح کے خیالات کا اظہار بعض دیگر حلقے اور ماہرین بھی کرتے رہے ہیں، تاہم کسی سرکردہ سیاست دان نے پہلی بار کھل کر یہ بات کہی ہے۔ 

ادھر ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی 'اگنی پتھ‘ اسکیم کے لیے مودی حکومت پر شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ بی جے پی بھرتی کے اس نئے پروگرام کے ذریعے اپنا خود کا ''کیڈر مسلح‘‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے اس اسکیم کو مسلح افواج کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا  کیا بی جے پی، 'اگنی ویر‘ سپاہیوں کو چار سالہ سروس کی مدت کے بعد، اپنی پارٹی کے دفاتر میں 'چوکیدار‘ کے طور پر بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ممتا بنرجی نے ریاستی اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا، ''بی جے پی اس اسکیم کے ذریعے اپنا مسلح کیڈر بیس بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آخر چار سال بعد وہ کیا کریں گے؟ پارٹی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار دینا چاہتی ہے۔‘‘

Indien | Proteste gegen Armee-Rekrutierungsprogramm Agnipath
تصویر: ANI/Handout/REUTERS

اگنی پتھ اسکیم

اگنی پتھ یعنی 'آگ کی راہ‘ نامی فوجی بھرتی کے اس اسکیم کے تحت  17 سے 21 سال کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو چار برس کے معاہدے پر چھوٹے درجوں کی ملازمتیں مہیا کی جائیں گی۔ چار برس بعد ان میں سے ایک چوتھائی کو طویل دورانیے کے لیے ملازمت پر رکھا جائے گا اور باقی کو نکال دیا جائے گا۔ تاہم  یہ عمل فوجی افسران کی بھرتی پر لاگو نہیں ہو گا۔

بھارتی مسلح افواج میں اس وقت 13 لاکھ سے زیادہ جوان موجود ہیں۔ اگنی پتھ اسکیم کے تحت ہر سال چار برس کی مدت کے لیے 45000 تا 50000 جوانوں کی تقرری کی جائے گی۔ ان میں سے صرف 25 فیصد کو مزید 15 سال کے لیے مستقل کمیشن مل سکے گا۔

یہ تقرریاں 'آل انڈیا، آل کلاس‘ کی بنیاد پر ہوں گی۔ یہ اس حوالے سے کافی اہم ہے کہ بھارتی آرمی میں موجودہ ریجمنٹ سسٹم علاقہ اور ذات کی بنیادوں پر ہے۔ نئی اسکیم سے وقت گزرنے کے ساتھ کوئی بھی شخص مذہب، علاقہ یا مذہبی پس منظر کے بغیر انڈین آرمی کے کسی ریجمنٹ کا حصہ بن سکتا ہے۔

اس منصوبے سے بھارتی فوج میں تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی پر خرچ ہونے والی ایک بڑی رقم کی بچت ہو گی، جو گزشتہ چند برسوں سے بھارتی فوج کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے نہ صرف ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ ملک کی سلامتی بھی مضبوط ہو گی۔ ان کے بقول، ''جس طرح بھارت کی آبادی نوجوان ہے اسی طرح مسلح افواج کو بھی نوجوان بنایا جا رہا ہے۔ نوجوان مسلح افواج کو نئی ٹیکنالوجی کی آسانی سے تربیت دی جا سکے گی۔‘‘

 لیکن مسلح افواج میں بھرتی کے بہت سے خواہشمندوں کا  موقف ہے کہ انہیں چار برس سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔

دہلی میں بھارت کی کشمیر پالیسی پر احتجاج

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

شہباز گل کی گرفتاری، پاکستانی سیاست میں مزید تناؤ کا خدشہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں