بھارت: فوجی نے صحافی کو گولی مار دی | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت: فوجی نے صحافی کو گولی مار دی

بھارت میں ایک فوجی نے ایک سنیئر صحافی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران بھارت میں کسی سنیئیر صحافی کے قتل کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ پولیس کے مطابق گولی چلانے والے فوجی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بائیس نومبر بروز بدھ بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ قتل کی یہ واردات منگل کے دن تری پورہ ریاست میں اس وقت رونما ہوئی، جب کرائم رپورٹر سدیپ دتا بھومیک ایک پیراملٹری بیس میں موجود تھا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ بھومیک کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ ایک فوجی سے کسی بات پر الجھ پڑے۔ گولی چلانے والی فوجی کے مطابق یہ کرائم رپورٹر اس سے بندوق چھیننا چاہتا تھا۔

بھارت: ایک ماہ میں دوسرا صحافی ہلاک

معروف بھارتی صحافی گوری لنکیش قتل

بھارت میں چوبیس گھنٹوں کے اندر دو صحافیوں کا قتل

مقامی میڈیا کے مطابق بھومیک ریاست تری پورہ کے دارالحکومت اگرتلا کے نواح میں واقع پیرا ملٹری فورس کے ایک دفتر پہنچے اور انہوں نے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار سے ملنے کی درخواست کی۔ اسی دوران کسی بات پر تنازعہ ہوا اور ڈیوٹی پر موجود ایک فوجی نے فائرنگ کر کے بھومیک کو ہلاک کر دیا۔

مقامی پولیس اہلکار ابھیجت سپٹارشی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ’’اس صحافی کو فوجی کمانڈر کے دفتر کے اندر ہی گولی ماری گئی۔ صحافی ایک فوجی سے الجھ پڑے تھے، جس کے نتیجے میں فوجی نے گولی چلا دی۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے فوری بعد گولی چلانے والے فوجی کو حراست میں لے لیا گیا۔ حکام کے مطابق اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔

بھومیک تری پورہ ریاست میں بنگلہ زبان کے ایک معروف اخبار سے منسلک تھے۔ یہ وہی ریاست ہے، جہاں مقامی نسلی جنگجو گروہ بنگلہ زبان بولنے والے تارکین وطن کے انتہائی خلاف ہیں۔ اگرتلا میں بیس نومبر کو ایک صحافی کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ جلا دیا گیا تھا، جب وہ متحارب سیاسی پارٹیوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں کی کوریج کے لیے وقوعے پر پہنچا تھا۔

بھارت میں گزشتہ تین ماہ کے دوران کسی معروف صحافی کے قتل کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ رواں برس بھارت میں صحافیوں کو قتل کرنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں، جس کے باعث نہ صرف میڈیا برادری بلکہ عوام بھی شدید غم وغصے میں ہیں۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرام ایک ادارے (سی پی جے)  کے مطابق بھومیک کی ہلاکت کے بعد سن انیس سو نوے کے بعد سے اب تک بھارت میں قتل کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد تیس ہو گئی ہے۔

DW.COM

اشتہار