بھارت سے سکھ یاتری پاکستان پہنچنا شروع | حالات حاضرہ | DW | 05.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت سے سکھ یاتری پاکستان پہنچنا شروع

 حکام کے کہنا ہے کہ اس بار بابا گرونانک کے پانچ سو پچاسویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے پچاس ہزار کے لگ بھگ سکھ یاتری متوقع ہیں۔ 

ننکانہ صاحب کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق ماضی میں تین سے پانچ ہزار تک سکھ یاتری ان تقریبات میں شرکت کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن اس بار یاتریوں کی ریکارڈ تعداد متوقع ہے۔ یورپ سے بس کے ذریعے آنے والا سکھوں کا ایک امن وفد بھی ننکانہ صاحب پہنچ چکا ہے۔

منگل کو جب بھارت سے آنے والے سکھ یاتری واہگہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے تو ان کو چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر عامر احمد کی طرف سے پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔

اس موقعے پر شرمنی گردووارہ پربندھک کمیٹی دہلی کے پارٹی لیڈر گرومیت سنگھ بوس نے کہا کہ انہیں پاکستان آ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور وہ امن اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آئے ہیں۔

    

ننکانہ صاحب کے ڈپٹی کمشنر راجہ منصور نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس سال ان تقریبات کی خاص بات یہ ہے کہ ننکانہ صاحب میں گورو نانک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ان کے بقول اس طرح کی یونیورسٹی بھارت میں بھی نہیں ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ننکانہ صاحب میں اس سال بہت سے ترقیاتی کام مکمل کیے گئے ہیں۔ گوردوارہ جنم استھان کی تزئین و آرائش ہوئی، روڈ نیٹ ورک بہتر بنایا گیا اور نئے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابا گرونانک کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے علاقے میں پانچ سو پچاس درخت بھی لگائے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے پاکستان کی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے تعاون سے سکھ یاتریوں کو رہائش ، لنگر اور دیگر سہولیات کی فراہمی کےخصوصی انتظامات کیے ہیں۔ 

ننکانہ پریس کلب کے نائب صدر قیصر عرفان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات مذہبی سیاحت کا بہت بڑا موقع بن چکی ہیں۔ ان کے بقول یہ مذہبی تہوار دراصل کاروبار کا بھی بڑا موقع بھی بن گیا ہے، یاتریوں کے لیے نئے ہوٹل بن رہے ہیں، ایک ٹینٹ سٹی بنایا گیا ہے، ٹرانسپورٹ اور فوڈ کا کاروبار والے بھی خوش ہیں۔

بھارت سے آنے والے سکھ یاتری منگل کی شام ننکانہ صاحب پہنچ گئے جہاں وہ اگلے دو دنوں تک اپنی مذہبی رسومات ادا کریں گے۔ نو نومبر کو سکھ یاتری کرتار پور صاحب میں ہونے والی مرکزی تقریب میں شرکت کے لیے جائیں گے جہاں وزیر اعظم راہداری کا افتتاح کریں گے۔

بارہ نومبر کو سکھ یاتری بھوگ اکھنڈ پرتھ اور نگر کیترن کی رسومات گوردوارا جنم استھان میں ادا کریں گے اور تیرہ اور چودہ نومبر کو واپس بھارت روانہ ہو جائیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے رکن سردار مہندر پال سنگھ نے بتایا کہ دس نومبر کی رات گردوارے کو غسل دیا جائے گا اور مذہبی گیت گائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آخری دن پالکی کا جلوس بھی ہوگا۔

ننکانہ صاحب کی ایک ادبی تنظیم وجدان نے اس موقعے پر پنجابی مشاعرے کا اہتمام بھی کیا ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی شعرا اپنا کلام سنائیں گے۔ اس موقعے پر گرونانک ادبی ایوارڈ بھی دیے جائیں گے۔

اس موقع پر حکومت پاکستان نے پچاس روپے مالیت کا ایک یادگاری سکہ جاری کیا ہے، جبکہ پاکستان پوسٹ آفیس نے آٹھ روپے مالیت کا ڈاک کا ٹکٹ جاری کیا۔

DW.COM