بھارت: رکن پارلیمان اورسابق کرکٹر گوتم گمبھیر کو داعش کشمیر کی طرف سے قتل کی دھمکی | حالات حاضرہ | DW | 24.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: رکن پارلیمان اورسابق کرکٹر گوتم گمبھیر کو داعش کشمیر کی طرف سے قتل کی دھمکی

حکمراں بی جے پی کے رکن پارلیمان سابق کرکٹر گوتم گمبھیر نے دعوٰی کیا ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو' آئی ایس آئی ایس کشمیر‘ کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔ دہلی پولیس نے شکایت درج کرکے ان کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

گوتم گمبھیرکرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بی جے پی میں شامل ہوگئے

گوتم گمبھیرکرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بی جے پی میں شامل ہوگئے

ہندو قوم پرست حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پارلیمان میں مشرقی دہلی سے نمائندگی کرنے والے سابق کرکٹ کھلاڑی گوتم گمبھیر نے دہلی پولیس کو شکایت درج کرائی ہے کہ انہیں منگل کے روز آئی ایس آئی ایس کشمیر کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں انہیں اور ان کے خاندان کے افراد کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

مشرقی دہلی کی ڈپٹی کمشنر پولیس شویتا چوہان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،'' گوتم گمبھیر کو آئی ایس آئی ایس کی طرف ای میل کے ذریعہ جان سے مارنے کی دھکمی دی گئی ہے۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ گوتم گمبھیر کی رہائش گاہ کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ‘‘

قبل ازیں گوتم گمبھیر نے ای میل کی تفصیلات کے ساتھ پولیس کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی ایس آئی ایس کشمیر نامی دہشت گرد گروپ نے انہیں اور ان کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔

گمبھیر پہلے بھی ایسی شکایت کرچکے ہیں

 گوتم گمبھیر پہلے بھی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہونے کی شکایت پولیس میں درج کراچکے ہیں۔

دسمبر 2019 ء کے اوائل میں انہوں نے دہلی پولیس سے شکایت کی تھی کہ ان کے موبائل فون پر ایک انٹرنیشنل نمبر سے فون آیا ہے جس میں انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے دہلی پولیس سے ایک کیس درج کرنے اور ان کے خاندان کی سکیورٹی اور سلامتی کو یقینی بنانے کی اپیل کی تھی۔

انہوں نے اس حوالے سے دہلی پولیس کے کئی اعلی افسران سے بھی بات چیت کی تھی۔

گوتم گمبھیر سن  2019 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر مشرقی دہلی حلقے سے پارلیمان کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے 15برس تک بھارتی کرکٹ ٹیم کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کی اور سن 2018 میں ریٹائر ہوگئے تھے۔

گمبھیر دو ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ وہ سن 2007 میں ٹی 20 ورلڈ کپ اور سن 2011 ء میں ایک روزہ ورلڈ کپ جتنے والی بھارتی کرکٹ ٹیم میں شامل تھے۔

شاہد آفریدی اور گوتم گمبھیر 2007 میں ایک میچ کے دوران

شاہد آفریدی اور گوتم گمبھیر 2007 میں ایک میچ کے دوران

گمبھیر، پاکستان کے سخت مخالف

گوتم گمبھیر پاکستان اور بالخصوص کشمیر میں سرحد پارسے ہونے والی مبینہ دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ بیان دیتے رہے ہیں۔

رواں سال فروری میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اس وقت تک کسی طرح کے تعلقات قائم نہیں کیے جانے چاہییں جب تک کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی فوجیوں کی زندگی ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔

گوتم گمبھیر نے گزشتہ برس جموں و کشمیر اور بھارتی وزیر اعظم نریند مودی کے حوالے سے پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کے بیانات کی سخت نکتہ چینی کی تھی۔

شاہد آفریدی نے15مئی 2020 ء کو کشمیریوں کے حق میں دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا،'' کشمیریوں کی اذیت اور تکلیف کو سمجھنے کے لیے کسی مذہبی عقیدے نہیں، دردمند دل کی ضرورت ہے۔‘‘

گوتم گمبھیر نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا تھا،" یہ افسوس کی بات ہے۔ اس طرح کے بیانات آپ(شاہد) اور آپ کے ملک(پاکستان) کی سوچ کو اجاگر کرتے ہیں۔"

گوتم گمبھیر نے گزشتہ دنوں بھارتی سیاست داں اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھوکی طرف سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو ''بڑا بھائی‘‘ کہنے کا بھی بہت برا مانا تھا۔ گمبھیر نے سدھو کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھاکہ سدھو کو اپنے بیٹے یا بیٹی کو پہلے سرحد پر بھیجنا چاہیے اس کے بعد ایک'' دہشت گرد ریاست کے سربراہ ‘‘ کو اپنا بڑا بھائی کہنا چاہیے۔

 گمبھیر قانونی کارروائی کی زد میں

گوتم گمبھیر کو کووڈ انیس کی ادویات کی مبینہ طورپر غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے ایک کیس کا سامنا ہے۔اس کیس میں ان کی والدہ سیما گمبھیر اور اہلیہ نتاشا گمبھیر کو بھی ملزم ٹھرایا گیا ہے۔ ان پر کورونا وائرس کی وبا کے دوران کووڈ انیس کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں کی غیر قانونی طورپر ذخیرہ اندوزی اور انہیں تقسیم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

 دہلی کی ایک عدالت نے کیس کی سماعت فی الحال 8 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ گمبھیر کے ادارے نے ضروری لائسنس کے بغیر غیر قانونی طریقے سے دوائیں اکٹھا اور تقسیم کیں۔ اس کیس میں تین برس قید کی سزا ہے تاہم اسے پانچ برس تک بڑھایا جاسکتا ہے اور جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

گوتم گمبھیر کے وکیل کاتاہم کہنا ہے کہ ان کا مؤکل بے قصورہے کیونکہ اس نے'' دوائیں فروخت نہیں کی تھیں بلکہ مفت تقسیم کی تھیں۔‘‘

جاوید اختر/ ک م

DW.COM