بھارت: خواتین کے لیے سیاست، ایک وادی پُرخار | معاشرہ | DW | 16.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بھارت: خواتین کے لیے سیاست، ایک وادی پُرخار

بھارت میں خواتین یوں تو وزیر اعظم اور صدر جیسے اعلٰی ترین آئینی عہدہ پر فائز ہوچکی ہیں تاہم آبادی کا تقریباﹰ نصف ہونے کے باوجود قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی کا تناسب انتہائی کم ہے۔

سیاسی جماعتیں بھی خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی دینے کے اپنے وعدوں کے تئیں مخلص نہیں ہیں جب کہ ذاتی صلاحیت کی بنیاد پر سیاست کی وادی پرخار میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں خواتین کو متعدد محاذوں پر زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سال 2011ء کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں خواتین کی آبادی 479 ملین یعنی مجموعی آبادی کا اڑتالیس فیصد تھی۔ لیکن 543 رکنی موجودہ پارلیمان کے ایوان زیریں(لوک سبھا) میں ان کی تعداد صرف 64 یعنی صرف 11.8فیصد ہے جب کہ 245 رُکنی ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں صرف 27 خواتین ارکان ہیں۔ ریاستی اسمبلیوں میں صورت حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔

Indien Parteien Smriti Irani von Bharatiya Janata Party

وفاقی وزیر اسمرتی ایرانی کوان کے حریف ٹیلی وژن کی اداکارہ سے زیادہ نہیں سمجھتے۔


کانگریس کی قیادت والے متحدہ ترقی پسند اتحاد نے اپنے دور حکومت میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مختص کرنے کے لیے خواتین ریزرویشن بل 2008ء پیش کیا تھا۔ یہ بل ایوان بالا میں منظور کرلیا گیا تھا تاہم ایوان زیریں میں بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت نہیں کی جس کی وجہ سے یہ بِل خارج ہوگیا۔
خواتین کے حقوق اور قانون ساز اداروں میں انہیں خاطر خواہ سیاسی نمائندگی دلانے کے لیے کوشاں غیر حکومتی تنظیم ’شکتی‘ کی شریک بانی تارا کرشنا سوامی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم گزشتہ 70 برس سے اس انتظار میں ہیں کہ سیاسی جماعتیں خواتین کو بھی الیکشن میں مقابلہ کرنے کے لیے ٹکٹ دیں گی لیکن وہ صرف آٹھ فیصد خواتین کو ہی ٹکٹ دیتی ہیں جب کہ بانوے فیصد ٹکٹ مرد امیدواروں کو دیے جاتے ہیں۔‘‘ کرشنا سوامی کا مزید کہنا تھا کہ کسی پارٹی کا انتظار یا اس پر انحصار کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے: ’’عوام کو چاہیے کہ و ہ سیاسی پارٹیوں پر خواتین امیدواروں کو پچاس فیصد ٹکٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ خواتین کو درپیش مسائل اسی صورت میں حل ہو سکیں گے جب انہیں بھی یکساں تناسب میں نمائندگی کا حق دیا جائے گا۔‘‘
تارا کرشنا سوامی نے ورلڈ انسٹیٹیوٹ فار ڈیویلپمنٹ اکنامک ریسرچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’خواتین امیدواروں کے خلاف مرد امیدواروں کے مقابلے میں جرائم کے الزامات کم ہوتے ہیں۔ وہ مردوں کے مقابلے میں کم بدعنوان ہوتی ہیں اور مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کو نافذ کرنے میں مردوں کے مقابلے زیادہ سنجیدہ اور اہل ہوتی ہیں۔‘‘
بھارتی خواتین سیاسی جماعتوں کے رویے سے بھی سخت نالاں ہیں، جو خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے تو انتہائی بلند بانگ دعوے کرتی ہیں تاہم عملی طورپر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتیں۔

Indien Mayawati in Neu-Delhi

اترپردیش میں چار مرتبہ وزیر اعلٰی رہ چکیں مایاوتی کو بھی اکثر طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔


آ ل انڈیا ڈیموکریٹک وومن ایسوسی ایشن کی صدر مالنی بھٹاچاریہ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’وزیر اعظم مودی نے 2014ء کی انتخابی مہم میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد اور دیہی پنچایتوں میں 50 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ حکومت نے خواتین ریزرویشن بل کو پانچ سال تک جان بوجھ کر کنارے رکھا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں پنچایتوں میں خواتین کی شراکت پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے۔ مودی حکومت نے پنچایتوں میں خواتین کی نمائندگی کو کم کرنے کے لیے سازش کر کے انتخاب میں ان کے حصہ لینے کے لیے کم از کم تعلیمی صلاحیت اور صرف دو بچے جیسے شرائط شامل کردیے۔‘‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں خواتین کو سماجی اور سیاسی لحاظ سے زیادہ با اختیار بنانے کے لیے انہیں قانون ساز اداروں میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی دینی چاہیے لیکن سیاست میں خواتین کے ساتھ جس طرح سلوک کیا جاتا ہے اسے دیکھ کر اس شعبہ میں کیریئر بنانے کی خواہش مند دیگر خواتین بھی پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ خواتین خواہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتی ہوں انہیں خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ مردوں کے غلبے والے بھارتی سماج میں خواتین سیاست دانوں کو زیادہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ حتٰی کہ مرد سیاست داں اپنی پارٹی کی خواتین سیاست دانوں کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔

Indien Priyanka Gandhi

بی جے پی کے سینئر رہنما کیلاش وجے ورگیا کا کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی کو ’چاکلیٹی چہرے والی‘ اور وفاقی وزیر مہیش شرما کا ’پپو کی پپی‘ تک کہہ دیا۔


اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جب کوئی مرد سیاست داں جلسہ عام میں کسی خاتون سیاست داں کی توہین کرتا ہے تو سامعین ناراضگی کا اظہار کرنے کے بجائے تالیاں بجاتے ہیں۔ بی جے پی کے سینئر رہنما کیلاش وجے ورگیا کا کانگریس کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی کو ’چاکلیٹی چہرے والی‘ اور وفاقی وزیر مہیش شرما کا ’پپو کی پپی‘ کہنے پر لوگوں کا ردعمل اس کی ایک مثال ہے۔

ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بھی ان کے حریف ایک زمانے میں ’’گونگی گڑیا‘‘ کہتے تھے۔ وفاقی وزیر اسمرتی ایرانی کوان کے حریف ٹیلی وژن کی اداکارہ سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ ایک قومی پارٹی کے صدر نے راجستھان کی سابق وزیر اعلٰی وسندھرا راجے کے موٹاپے پر طنز کیا تھا جب کہ بہار کے سابق وزیر اعلٰی لالو پرساد یادو نے بہار کی سڑکوں کو فلم اداکارہ اور بی جے پی کی رکن پارلیمان ہیما مالنی کی گال سے تشبیہ دے کر ان کا مذاق اڑایا تھا۔

اترپردیش میں چار مرتبہ وزیر اعلٰی رہ چکیں مایاوتی کو بھی اکثر طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنرجی بھی توہین آمیز تبصروں کا شکار ہوتی رہی ہیں۔ رام پور سے بی جے پی کی امیدوار فلم اداکار ہ جیا پردا کے خلاف سینئر رہنما محمد اعظم خان کا ناشائستہ تبصرہ اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

DW.COM