بھارت: حراستی مرکز میں ایک اور پاکستانی کی موت | حالات حاضرہ | DW | 14.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: حراستی مرکز میں ایک اور پاکستانی کی موت

بھارتی ریاست گجرات کے حراستی مرکز میں گزشتہ دو ماہ کے اندر چار پاکستانی شہریوں کی موت ہوچکی ہے۔ حکام نے ان تمام افراد کی موت کی ایک ہی جیسی علامات بتائی ہیں۔

عرب عرف ارباز جاٹ کی عمر 60 برس کی تھی جو بھارتی ریاست گجرات میں ضلع کچھ کے بھج میں واقع ایک حراستی مرکز میں قید تھے۔ اس ہفتے کے اوائل میں اسی حراستی مرکز میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کا تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ کے بدین میں جمعہ گام سے تھا۔

بھارتی سکیورٹی فورسز نے سن 2013 میں انہیں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں سرحد کے پاس سے گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق وہ ریاست گجرات کے ضلع بھج میں کچھ کے 'جوائنٹ انٹروگیشن فیسلیٹی' میں قید تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

پولیس کے مطابق وہ ذہنی طور مستحکم نہیں تھے اور سانس لینے میں تکلیف کے بعد انہیں مقامی ہسپتال میں بھرتی کیا گیا، تاہم ہسپتال پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ہی وہ انتقال کر گئے۔

اس حراستی مرکز کے پولیس انسپکٹر جنرل ایم بی جانی کا کہنا تھا، جب سے انہیں اس مرکز میں لایا گیا اسی دن سے انہیں ذہنی بیماری میں مبتلا پایا گیا تھا۔ ان کا اسی وقت سے علاج بھی چل رہا تھا۔ ان کے ساتھی قیدیوں نے ان کی دمے کی بیماری کے بارے میں بتایا تو انہیں ہسپتال میں بھرتی کیا گیا تھا۔'' 

گزشتہ تقریبا ًدو ماہ کی مدت میں گجرات کے اس حراستی مرکز میں چار پاکستانی شہریوں کی موت ہوئی ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ پولیس حکام نے ایسی تمام اموات کے لیے، ذہنی بیماری اور سانس میں تکلیف جیسی ایک ہی طرح کی علامات کا ذکر کیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:48

پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا آپریشن، پاکستان کا ردعمل

اس سے قبل چار نومبر کو اسی حراستی مرکز میں 50 سالہ پاکستانی شہری ریاض کی بھی موت ہوگئی تھی۔ ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع مظفر گڑھ کے کنٹیار گاؤں سے تھا۔ پولیس نے ان پر بھی غیر قانوی طور پر سرحد عبور کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ذہنی طور مستحکم نہیں تھے اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد انہیں ہسپتال میں بھرتی کیا گیا جس کے بعد ان کی موت ہوگئی۔

ریاض کی موت کے بعد 19 نومبر کو اسی حراستی مرکز میں ایک اور پاکستانی شہری عاشق علی صادق علی کا انتقال ہوگیا تھا۔ ان  پر بھی غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کا الزام تھا جنہیں  بھارتی سکیورٹی فورسز نے مارچ 2014 میں حراست میں لیا تھا۔ ریاست گجرات میں وہ گزشتہ تقریبا ًسات برسوں سے حراستی مرکز میں تھے۔

اس کے بعد اس برس یکم جنوری کو اسی مرکز میں قید 32 سالہ سید عبد الرحیم کی بھی موت ہوگئی۔ ان کا تعلق پاکستان میں بگّا سے تھا۔ حکام نے ان دونوں کی موت کے لیے بھی یہی کہا تھا کہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں دمے کی بھی شکایت تھی۔ حکام کے مطابق سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن ہسپتال میں ان کی موت ہوگئی۔''

 پولیس کا کہنا ہے کہ سن 2014 میں 31 مارچ کو بارڈر سکیورٹی فورسز نے انہیں مبینہ طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں پکڑ لیا تھا۔ بعد میں انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا اور پھر انہیں حراستی مرکز میں منتقل کیا گیا تھا۔

قومی سطح پر جرائم کا ریکارڈ رکھنے والی سرکاری ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق دوسری ریاستوں کے مقابلے میں جیل میں قید پاکستانی ملزمین کی سب سے زیادہ اموت ریاست گجرات کی جیلوں میں ہوئی ہیں۔ گزشتہ ایک برس کے دوران بیرونی ممالک کے جن 101 قیدیوں کی موت ہوئی اس میں 66 پاکستانی شہری تھے۔

بھارت اور پاکستان نے یکم جنوری کو ایک دوسرے کی قیدیوں کی ایک فہرست کا تبادلہ کیا ہے۔ بھارت کی فہرست کے مطابق اس کے پاس 265 پاکستانی عام شہری قیدی ہیں جبکہ 97 پاکستانی ماہی گیر اس کی حراست میں ہیں۔ پاکستانی فہرست کی مطابق اس کے پاس جو بھارتی شہری قید میں ان میں سے 54 عام شہری اور 270 ماہی گیر ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 07:01

خار دار تاریں، ناکے اور بنکر: کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار

DW.COM