بھارت :جرائم کی تعداد میں اضافہ | معاشرہ | DW | 01.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت :جرائم کی تعداد میں اضافہ

بھارت میں تازہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2015 ء کے مقابلے میں گزشتہ برس جرائم کی تعداد میں 2.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ جرائم کے سب سے زیادہ واقعات اتر پردیش میں رونما ہوئے جب کہ شہروں میں نئی دہلی سے اس لحاظ سے سرفہرست رہا۔

جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے قومی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 2016ء میں جنسی زیادتی، اغوا، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں 2.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ذریعہ جاری این سی آر بی کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2016 میں ملک بھر میں جرائم کے مجموعی طور پر 48 لاکھ 31 ہزار 515 واقعات درج کیے گئے۔ ان میں 29 لاکھ 75ہزار711 انڈین پینل کوڈ کے تحت آنے والے اور 18 لاکھ 55 ہزار 804 واقعات خصوصی اور مقامی قانون (ایس ایل ایل) کے تحت درج کیے گئے۔



رپورٹ کے مطابق جرائم کے لحاظ سے صوبہ اترپردیش سرفہرست رہا۔ یہاں سب سے زیادہ 9.5 فیصد جرائم درج کیے گئے۔ دوسرے نمبرپرمدھیہ پردیش اورتیسرے نمبرپرمہاراشٹر رہا، جہاں ایسے واقعات کی شرح  بالترتیب 8.9 اور 8.8 فیصد رہی۔ ان تینوں صوبوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔

دلتوں یعنی انتہائی پسماندہ سمجھے جانے والی ذاتوں کے خلاف جرائم میں بھی سب سے زیادہ اضافہ اُن پانچ صوبوں میں ہوا، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کی اتحادی جماعت کی حکومت ہے۔

دلتوں کے خلاف جرائم کے لحاظ سے مدھیہ پردیش سرفہرست رہا۔ اس کے بعد راجستھان، گوا، بہار اور گجرات کا نمبرآتا ہے۔ این سی آر بی کے مطابق سن 2015 کے مقابلے سن 2016 میں دلتوں کے خلاف جرائم میں 5.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ سن 2015 میں یہ تعداد 38670 تھی، جو 2016ء میں بڑھ کر40801 ہو گئی۔
بہرحال سن 2015 کے مقابلے سن 2016 میں فسادات کے واقعات میں پانچ فیصد، لوٹ مار کے واقعات میں 11.88 فیصد اور اغوا کے واقعات میں چھ فیصد کی کمی آئی۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کے خلاف مجموعی طور پر جرائم کی تعداد میں 2.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کے سب سے زیادہ 15.5 فیصد (49262) واقعات اترپردیش میں پیش آئے۔ اس کے بعد مغربی بنگال کا نمبر آتا ہے، جہاں 32513 واقعات (9.6 فیصد) درج کیے گئے۔

نئی دہلی: خواتین کے خلاف جرائم، لیڈیز پولیس کا خصوصی اسکواڈ

’یوم اطفال‘ بھارت میں بچوں کا برا حال

بھارتی خاتون کا ’آٹھ سال تک ریپ کرنے والے‘ پنڈت سے انتقام

جنسی زیادتی کے واقعات میں سن 2015 کے مقابلے 2016ء میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ 2015ء میں عصمت دری کے34651 واقعات درج ہوئے، جو 2016 ء میں بڑھ کر 38947 ہو گئے۔ ان میں سب سے زیادہ واقعات (12.4 فیصد) مدھیہ پردیش میں پیش آئے۔ اتر پردیش (12.4فیصد) دوسرے اور مہاراشٹر (10.7فیصد) تیسرے نمبر پر رہا۔ خواتین کے خلاف تشدد کے زیادہ تر واقعات میں شوہر یا قریبی رشتہ دار ملوث تھے۔

قومی دارالحکومت دہلی ملک کے انیس بڑے شہروں میں سب سے غیر محفوظ شہر رہا۔ یہاں خواتین کے ساتھ زیادتی کے تقریباً چالیس فیصد اور خواتین کے خلاف دیگر جرائم کے 33 فیصد واقعات درج کیے گئے۔ خواتین کے خلاف جرائم میں ان کے ساتھ دست درازی، اغوا اور جنسی زیادتی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دہلی میں ہر روز اوسطاً گیارہ خواتین کواغوا کیا گیا۔


یہاں سماجی کارکنوں کا الزام ہے کہ حکومت خواتین اور بچوں کی سلامتی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتی۔ سینٹر فار سوشل ریسرچ کی ڈائریکٹر رنجنا کماری نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ فنڈز کی کمی کے علاوہ قانون کا مناسب نفاذ نہ ہونا بھی تشویش ناک امر ہے۔ اس کے لیے وزارت داخلہ ذمہ دار ہے جو خواتین کے خلاف جرائم کو روکنے کے لیے پولیس کو بہتر طور پر تیار نہیں کر سکی۔ دہلی میں پولیس ضرورت کے لحاظ سے کافی کم ہے اور اس میں خواتین اہلکاروں کی تعداد صرف نو فیصد ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’سن 2012 میں نربھیا کی اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد خواتین کے تحفظ کے لیے جو رہنما خطوط تیار کیے گئے تھے ان پر آج تک عمل نہیں ہو سکا ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف دہلی میں جرائم کے واقعات میں گو کہ کمی آئی تاہم اس کے باوجو دہلی دیگر میٹرو شہروں کے مقابلے سر فہرست رہا۔

 

 

DW.COM

اشتہار