بھارت: ایک تہائی سے زائد قانون سازوں پر جرائم کے مقدمات | معاشرہ | DW | 12.03.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بھارت: ایک تہائی سے زائد قانون سازوں پر جرائم کے مقدمات

بھارتی سیاست میں جرائم کی بڑھتی ہوئی آمیزش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سترہ سو سے زائد قانون سازوں یعنی ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی پر بھارتی عدالتوں میں مختلف جرائم کے لیے مقدمات چل رہے ہیں۔

نریندر مودی حکومت کی وزارت قانون و انصاف نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے بتایا ہے کہ 1765 ارکان  پارلیمان اور ملک کی مختلف ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں جرائم کے3045 مقدمات چل رہے ہیں۔

شمسی توانائی کے منصوبے، فرانس مزید سات سو ملین خرچ کرے گا

بھارت: مرگِ با رَضا کی اجازت کا تاریخی فیصلہ

بھارت میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 4896 ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تہائی سے زائد یا تقریباً 36 فیصد قانون سازوں کے خلاف ایک یا ایک سے زائد مقدمات چل رہے ہیں اور سیاست میں داغدار، بدعنوان اورجرائم میں ملوث رہنماؤں کی تعداد کس حد تک بڑھ چکی ہے۔

ملک میں انتخابی اصلاحات کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے آر ڈی) کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے مارچ 2014میں وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ قانون سازوں کے خلاف جرائم کے معاملات کو نمٹانے کے لیے ’فاسٹ ٹریک کورٹ‘ بنائے اور ان معاملات کو ایک سال کے اندر نمٹا دے۔

وفاقی حکومت نے اس حکم کے بعد بارہ فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا منصوبہ بنایا اور ان کے لیے سات سو اسی کروڑ روپے کی رقم بھی مختص کی۔اس کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں دو رکنی بنچ نے نومبر سن 2017 میں وفاقی حکومت کو یہ بتانے کا حکم دیا کہ کتنے بھاری وفاقی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے کتنے ارکان کے خلاف جرائم کے مقدمات چل رہے ہیں۔

عدالت عظمی کے اسی حکم پر وفاقی حکومت نے حلف نامہ داخل کر کے بتایا کہ سن 2014 سے 2017 کے درمیان 1765 عوامی نمائندوں یا قانون سازوں کے خلاف مقدمات زیرالتوا ہیں۔ حلف نامہ کے مطابق اس فہرست میں اترپردیش پہلے نمبر پر ہے جہاں سب سے زیادہ 248 قانون سازوں کے خلاف معاملات درج ہیں۔ 178معاملات کے ساتھ تمل ناڈو دوسرے نمبر پر، 144 معاملات کے ساتھ بہار تیسرے نمبر پر اور 139معاملات کے ساتھ مغربی بنگال چوتھے نمبر پر ہے۔ قانون سازوں پر جن جرائم کے لیے مقدمات چل رہے ہیں ان میں قتل، اقدام قتل جیسے سنگین الزامات نیز سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے وغیرہ جیسے الزامات شامل ہیں۔

یہاں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم کے معاملات کے ملزم عوامی نمائندوں کے مقدمات کی ترجیحی بنیاد پر سماعت کرکے انہیں نمٹایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے مجرمانہ ذہنیت اور ریکارڈ والے لوگوں کا سیاست میں داخلہ محدود کیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ ذمہ داری سیاسی جماعتوں کی بھی ہے کہ وہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے عناصر کوالیکشن میں ٹکٹ دے کر ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ تاہم ماقدین کا کہنا ہے کہ اس بات پر توجہ نہیں دی جارہی ہے اور اس معاملے میں تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتوں کا معاملہ یکساں ہے۔موجودہ قانون کے مطابق اگر کسی عوامی نمائندے کے خلاف جرم ثابت ہوجتا ہے تو وہ چھ سال تک الیکشن نہیں لڑسکتا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگار بھوپندر سنگھ کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’سیاسی جماعتیں بدعنوانی کے خلاف اور سیاست میں ایمانداری کے حوالے سے تو بڑی بڑی باتیں ضرور کرتی ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ الیکشن کے وقت وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت صرف یہ دیکھتی ہیں کہ اس امیدوار کے اندر الیکشن جیتنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔ اس کے ماضی اور کردار کی چھان بین کبھی نہیں کی جاتی۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ مسئلہ اس لیے اور بھی زیادہ سنگین ہوگیا ہے کیوں کہ ذات پات اور علاقائیت کے چکر میں پھنسے عوام بھی اپنی ذمہ داری اداکرنے سے آنکھیں چراتے ہیں اور وہ خراب امیج اور مجرمانہ ریکارڈ والے امیدواروں کو بھی بڑھ چڑھ کر ووٹ دیتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ سول سوسائٹی کی مسلسل مانگ پر چند سال قبل بھارت کے الیکشن کمیشن نے ووٹنگ مشینوں میں NOTA  (یعنی درج بالا میں سے کوئی نہیں) کا متبادل بھی مہیا کر رکھا ہے۔ یہ متبادل اس لیے رکھا گیا ہے کہ اگر کسی کو تمام امیدواروں میں سے کوئی بھی پسند نہ ہو تو وہ NOTA کا بٹن دبا کر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرسکتا ہے۔

دریں اثنا سپریم کورٹ کے جج جسٹس رنجن گوگوئی سے جب ایک پروگرام کے دوران میڈیا نے بھارت میں سیاست میں جرائم کی بڑھتی ہوئی آمیزش کے حوالے سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا، ’’جب سے سرمایہ دارطبقے کا عروج ہوا ہے، اس کے بعد سے ملک بدعنوانی کی دلدل میں پھنستا چلا جارہا ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام سے سیاست اور معیشت میں بھی جرائم میں اضافہ ہواہے اور اچھے نظام حکمرانی یا گڈگورننس کا بھی زوال ہورہا ہے۔‘‘ جسٹس رنجن گوگوئی کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں عدلیہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

بھارت 2030 ء تک تمام گاڑیوں کو الیکٹرک کارز بنانے کا خواہش مند

DW.COM