بھارت اور چین میں کروڑ پتی افراد کی تعداد بڑھتی ہوئی | معاشرہ | DW | 16.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارت اور چین میں کروڑ پتی افراد کی تعداد بڑھتی ہوئی

بحرالکاہل کے ملکوں میں سکونت پذیر متعدد کروڑ پتی افراد رواں برس کے دوران دنیا کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔ ایسے افراد میں بھارت اور چین کے باشندوں کی تعداد زیادہ ہے۔

Neuschwanstein in China Kuchen-Millionär verwirklicht mit Schloss-Bauten Kindheitsträume

چینی کروڑ پتی لیو چونگ ہاؤ، اپنے محل میں، فائل فوٹو

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بدھ کو جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بحرالکاہل کے ملکوں میں رہنے والی کروڑ پتی شخصیات رواں برس کے دوران 2014ء کی ریکارڈ رقوم 15.8 ٹریلین امریکی ڈالر کی حد کو عبور کر لیں گی۔

یوں یہ ممالک شمالی امریکا کی امیر ترین شخصیات سے آگے نکل جائیں گے۔ شمالی امریکا میں مقیم ایسی شخصیات کا مجموعی زر یا حقیقی آمدنی 16.2 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔ شمالی امریکا فی الحال دنیا کی امیر ترین شخصیات والا براعظم تصور کیا جاتا ہے۔

یہ تحقیق کمپوٹر امور میں مشاورت فراہم کرنے والی کمپنی Capgemini اور RBC ویلتھ منجمنٹ نے کی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق ایشیا پیسیفک کے علاقے میں ایسے افراد کی سب سے زیادہ تعداد آباد ہے، جن کا انفرادی طور پر ذاتی زر یا حقیقی آمدنی ہی 4.69 ملین ڈالر ہے جبکہ شمالی امریکا میں یہ تناسب 4.68 ملین ڈالر بنتا ہے۔

Symbolbild Indien Alleinerziehende Mutter

بھارت میں ایک بڑی آبادی غربت کا شکار بھی ہے

ایشیا پیسیفک ویلتھ رپورٹ 2015ء کے مطابق، ’’اگر مستبقل کا تجزیہ کیا جائے تو بحر الکاہل کے متعدد ملکوں میں امیر افراد کے ہاں حقیقی زر یا آمدنی میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس کی وجہ چین، بھارت، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کی اقتصادی ترقی بھی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے امیر ترین افراد میں بالخصوص بھارت اور چین کے باشندے زیادہ ہیں۔

سال 2014ء کے دوران چین میں آٹھ لاکھ نوّے ہزار افراد کروڑ پتی تھے، جن کا مجموعی زر 4.5 ٹریلین ڈالر کے برابر تھا۔ بتایا گیا ہے کہ 2013ء اور 2012ء میں اس شرح میں بالترتیب 17.5 فیصد اور 19.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کروڑ پتی افراد کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ بھارت میں ہوا ہے۔

RBC ویلتھ منجمنٹ کے ایشیا میں سربراہ بیرنڈ جینسنز کے مطابق ایشیا پیسیفک کے ملکوں کے شہریوں نے دولت جمع کرنے میں مستعدی دکھائی ہے اور مستقبل میں بھی یہ رجحان کم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

اشتہار