بھارت اور افغانستان کے مد نظر چین کا نیا سرحدی قانون | حالات حاضرہ | DW | 25.10.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت اور افغانستان کے مد نظر چین کا نیا سرحدی قانون

نئے سرحدی قانون سے چینی فوج کو چودہ ملکوں سے ملحق سرحدوں پر گشت کرنے یا انہیں بند کر دینے کے وسیع اختیارات مل گئے ہیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ کورونا وبا اور سکیورٹی کے اسبا ب کی وجہ سے یہ نیا قانون ضروری ہو گیا تھا۔

چین نے ہفتے کے روز ایک نیا قانون منظور کیا ہے، جسے ملک کی جدید تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون میں ملک کی سرحدوں کے نظم و نسق کے حوالے سے تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس قانون سے چینی فوج کے سرحدوں پر گشت کرنے یا انہیں بند کرنے کے سلسلے میں وسیع تر اختیارات مل گئے ہیں۔

 چین کی ِ22 ہزار 100کلومیٹر کی طویل سرحد 14ملکوں سے ملتی ہیں۔

کیا ہے نیا قانون؟

’لینڈ بارڈرز لا‘  کے نام سے یہ قانون اگلے برس یکم جنوری سے نافذ العمل ہو گا۔ یہ نیا قانون ایسے وقت منظور کیا گیا ہے جب چین کی  طالبان کے کنٹرول والے افغانستان سے ملحق اپنی سرحدوں کی سکیورٹی کے حوالے سے فکر مندی بڑھ گئی ہے، جنوب مشرقی ایشیائی پڑوسی ملکوں سے سرحدوں کو غیر قانونی طور پر پار کرکے ملک میں داخل ہونے والے افراد کی وجہ سے کووڈ 19 میں اضافہ ہوا ہے اور بھارت کے ساتھ سرحد پر گزشتہ برس فوجی جھڑپ کے بعد سے پیدا شدہ تعطل اب تک ختم نہیں ہوسکا ہے۔

مذکورہ نئے قانون کے مطابق چین کی پیپلز لبریشن آرمی کوملک کی کسی بھی سرحد پر پیش آنے والے کسی بھی طرح کے ”حملہ، غیر قانونی قبضہ، دراندازی یا اشتعال" کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کی اجازت ہو گی۔ یہ قانون سرحدوں کو حسب ضرورت سختی کے ساتھ بند کرنے کے لیے فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے۔

چین بھارت سرحد پر تصادم بھی ایک وجہ

بھارتی روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق بیجنگ کے اس نئے قانون سے چینی فوج کو سرحدوں کی فوجی حفاظت کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں میں سماجی اور اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے کے اختیارات مل جائیں گے۔ یہ قانون سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں مثلاً

 بھارت، بھوٹان اور نیپال کے قریب کے گاوں والوں کو ”دفاع کی پہلی صف" کے طور پر اقدام کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان مئی 2020 میں سرحد پر فوجی تعطل شروع ہوا تھا۔ اس کے ایک ماہ بعد دونوں ملکوں کی فوج کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جس میں فوجیوں نے ایک دوسرے کے خلاف تیز دھار والے ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ اس واقعے میں تقریباً 20 بھارتی اور چار چینی فوجی مارے گئے تھے۔

چین کی سرکاری میڈیا کے مطابق نئے قانون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فوج تعینات کرنے سے قبل تمام سفارتی اقدامات بروئے کار لائے جانے چاہئیں۔ چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس قانون سے سرحد کے قریب رہنے والوں کو فائدہ ہوگا۔

بیجنگ کس بات سے پریشان ہے؟

چینی حکام نے صرف بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہی تشویش کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے اسلام پسند انتہا پسندوں کے سلسلے میں بھی فکر مندی ظاہر کی ہے اور کہا ہے وہ سرحد پار کرکے سنکیانگ صوبے میں داخل ہو سکتے ہیں اور ایغور مسلمانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ اس وقت ہزاروں ایغور مسلمانوں کو چینی حکام نے مشقتی کیمپوں میں جبراً رکھا ہوا ہے۔

چین کو اس بات کی بھی فکر لاحق ہے کہ ویتنام اور میانمار سے غیر قانونی مہاجرین اپنے ساتھ کووڈ 19کے کیسز لے کر ملک میں داخل ہوسکتے ہیں۔ ان ملکوں کی سرحدوں سے ملحق چینی صوبوں میں حالیہ دنوں میں کوروناوائرس کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

(ایلزابیتھ شوماکر) ج ا/  ص ز

DW.COM