بھارت: انتخابی میلے میں صحافیوں کی عید | دستک | DW | 09.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

بھارت: انتخابی میلے میں صحافیوں کی عید

آزادی کے بعد جمہوریت کی برکتوں سے سیاسی پارٹیوں اور ورکروں کی ایک پود پیدا ہوچکی ہے۔ ان کی برکتوں سے بھارت میں ایک اور تہوار کا اضافہ ہو گیا ہے اور وہ ہے انتخابات کا فیسٹیول۔

بھارت کو اگر تہواروں کی سر زمین کہا جائے، تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔ دیوالی، دسہرہ، عید، گورو پورب کے علاوہ آسام کا بیہو میلہ، بنگال میں درگا پوجا، کیرالا میں اونم، پنجاب میں بیساکھی اور لوھری، تامل ناڈو میں پونگل وغیرہ، غرض سال بھر ملک کے کسی نہ کسی کونے میں کوئی نہ کوئی جشن منایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں بھارت میں تہوار منانے کے لیے بس ایک بہانہ چاہیے۔ بہانہ حاضر، تو بس پارٹی میں دیر کیوں۔

ایک اور بھی تہوار ہے، جو ہر پانچ سال میں منایا جاتا ہے اور وہ ہے انتخابات کا فیسٹیول۔ عام انتخابات کے علاوہ بھارت کی 28 ریاستوں اور آٹھ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کسی نہ کسی اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کے لیے سیاسی جماعتیں اور امیدوار لنگوٹ کس کر میدان میں قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ جس صوبہ میں انتخابات ہو رہے ہوں وہاں تو مہینہ بھر جشن کا سا سماں ہوتا ہے۔ اگر صوبہ بڑا ہے، تو کیا کہنے، کئی مرحلوں میں انتخابات ہوتے ہیں اور یہ بسا اوقات دو سے تین ماہ تک جاری رہتے ہیں۔
پانچ سال بعد الیکشن کے موقع پر عوام کو بھی اپنی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ امیدوار جو اپنی ناک پر مکھی بیٹھنے نہیں دیتا ہے، بازاروں، گلیوں اور دیہاتوں میں ہاتھ جوڑے کڑی دھوپ اور بارش میں ووٹ مانگنے  کے لیے عام آدمی کا دروازہ کھٹکھٹاتے نظر آتے ہیں۔ کچھ نہیں تو ان کے چیلے وعدوں کی زنبیلیں لے کر وارد ہوتے ہیں۔ شہروں اور قصبوں میں گلیوں کے نکڑ پر، دیہاتوں میں چوپالوں کے پاس عارضی خیمے لگا کر، لاؤڈ اسپیکروں پر امیدواروں کے گن گائے جاتے ہیں۔ چائے، شربت، ناشتہ تقسیم ہوتا رہتا ہے۔ عوام کا بس چلے، وہ الیکشن کمیشن سے یہ تماشہ سال بھر چلنے کی درخواست کریں، کیونکہ اسی بہانے، امیدوار کا چیلہ، جو اکثر کوئی مقامی غنڈہ ہوتا ہے، سیدھے منہ بات تو کرتا ہے، اور نوکروں کی طرح کوئی بھی کام کرنے کے لیے تیار کھڑا ہوتا ہے۔
انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل صوبہ میں ترقیاتی کاموں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے۔ جدھر دیکھو کسی نہ کسی منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے۔ زیر التوا منصوبے حرکت میں آ جاتے ہیں۔

مجھے یاد ہے، 2015 میں، بہار کے انتخابات سے قبل، بہار میں ایک یونیورسٹی کی بنیاد 17ماہ کے درمیان میں دو بار رکھی گئی تھی۔ پہلے کانگریس کی لیڈر اور لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے اور بعد میں اس وقت کی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی نے۔ دونو ں بار مدعو عوام کو ناشتہ پانی پیش کیا گیا اور ایک عالیشان یونیورسٹی کے خواب دکھائے گئے، جہاں سے ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملک اور والدین کا نام روشن کریں گے۔ ووٹ خریدنے کے لیے شراب کی بوتل، چند کلو چاول یا ایل پی جی سلنڈر بھی بانٹے جاتے ہیں۔

تامل ناڈو کے ا نتخابات میں تو سبھی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ ایک آزاد امیدوار کو کوئی بھاری بھرکم انتخابی نشان عطا کیا جائے۔ کیونکہ پچھلی بار اسکو پریشر کوکر بطور انتخابی نشان دیا گیا۔ اس نے اپنے حلقے میں ووٹروں کو لبھانے کے لیے پریشر کوکر بانٹ دیے اور اس میں کوپن بھی رکھے، جن کے بدلے اس کی کامیابی کی صورت میں روپے ملنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بس کیا تھا اس نے اپنے حریفوں کو چت کر کے بازی مار لی۔ انتخابی جلسوں میں شرکت کے لیے دور دور سے لوگوں کو بسوں میں لایا جاتا ہے۔ بدلے میں انہیں چند روپے، مفت کھانا اور قریب سے ہیلی کاپٹر دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بس یہ دن ان معصوم لوگوں کے لیے عید کا دن ہوتا ہے۔ مگر بس جونہی آپ پولنگ بوتھ سے ووٹ ڈال کر باہر نکلے، تو بس ووٹر کی وقعت اگلے پانچ سال تک ختم۔ امیدوار ہو یا اس کا چیلہ اب کوئی سیدھے منہ بات نہیں کرتا ہے اور جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہوتا ہے، ان پر کام بھی اگلے انتخابات تک ملتوی ہوجاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں اورعوام کے علاوہ صحافیوں کے لیے بھی انتخابات عید سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب ایڈیٹر حضرات رپورٹروں کو ملک کے دو درازعلاقوں میں انتخابی نبض کی تلاش میں بھیجتے ہیں۔ بھارت کی صحافتی دنیا میں یہ ایک نادر موقع ہوتا ہے، جب صحافی دہلی کی سرکاری غلام گردشوں سے خبروں کے حصول سے چھٹکارا حاصل کر کے اصلی بھارت کے روبرو ہوتا ہے۔ اب یہ اس کی اپنی اہلیت اور قابلیت پر منحصر ہے کہ وہ اس اصلی بھارت کو کس طرح اپنے قارئین تک پہنچائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت (جو دیہات ہے) اور انڈیا (شہری بھارت) ایک طرح سے اب دو الگ ممالک کی طرح ہیں اور ان دونوں کی تقدیر ایک دوسرے سے متصادم معلوم ہوتی ہے۔ دہلی اور بڑے شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں کو اس دیہی بھارت کا بالکل ہی ادراک نہیں ہوتا ہے۔ شاید پہلی بار ان کو احساس ہوتا ہے کہ جمہوریت کی دیوی کے ظہور کے بعد بھی عام آدمی کا کس طرح استحصال ہوتا ہے۔
میڈیا میں گراؤنڈ رپورٹنگ تو اب تقریباً ختم ہو چکی ہے، کیونکہ اس کے لیے مالی و انسانی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ چونکہ انتخابات میں سیاسی جماعتیں زر کثیر تشہیر وغیرہ پر خرچ کرتی ہیں، تو اس کا ایک حصہ نشریاتی ادراروں تک بھی پہنچتا ہے، جو رپورٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔کئی میڈیا اداروں کو تو پارٹیاں یا حکومت بھی بسا اوقات سیاسی نبض معلوم کرنے کے لیے منجھے ہوئے رپورٹرز کو گراؤنڈ پر بھیجنے کی درخواست کرتی ہے۔ ایک اچھے رپورٹر کی پہچان ہے کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر انتخابات میں جیت و ہارسے ہٹ کر ایسی اسٹوریز ڈھونڈے اور ان کی ایسی منظر کشی کرے، جو دیگر حالات میں ممکن نہ ہو۔ چونکہ گراؤنڈ پر جانے کے اب بہت کم مواقع صحافیوں کو نصیب ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ نیوز روم میں جب الیکشن کوریج کاپلان بنتا تھا، تو ہر رپورٹر باہر جانے کا متمنی ہوتا ہے اور اس کے لیے کبھی کھبی تو لڑائی جھگڑے تک کی نوبت آجاتی ہے۔

نیوز رومز میں ایڈیٹر حضرات اپنی انتخابی حکمت عملی طے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اگر اخبار ہو تو انتخابی کوریج کے لیے صفحات کی تعداد کا تعین ہوتا ہے، نامہ نگاروں کو گراؤنڈ پر بھیجنے سے قبل وارننگ دی جار ہی ہوتی ہے کہ وہ اگر دور دراز کے سفر اور اخبار کے پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی بھڑکتی خبر نہ لا سکے، تو ان کی خیر نہیں۔ بہرحال ہر کوئی آؤٹ اسٹیشن اسائنمنٹ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ عام طور پر شہروں میں مقیم صحافیوں کو دیہی و دور دراز مقامات تک جانے کے زیادہ مواقع نہیں ملتے ہیں۔
مجھے یاد ہے کی 2014ء کے عام انتخابات سے پہلے، میں نے اپنے مدیر سے کہا تھا کہ وہ مجھے انتخابی کوریج کے لیے جھارکھنڈ بھیجیں، جہاں میری پیدائش ہوئی ہے اور بچپن گزرا ہے۔ پھر میں نے گزارش کی کہ مجھے پنجاب بھیجا جائے، کیونکہ سکھ ہونے کے ناطے اس صوبہ سے بھی میرا ناطہ ہے۔ کافی بحث و مباحثے کے بعد دفتر نے مجھے اتر پردیش میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے انتخابی حلقے رائے بریلی اور امیٹھی جانے کا موقع دیا گیا۔ گو کہ یہ دونوں وی وی آئی پی حلقے تھے، مگر کھیتوں، کھلیانوں اور  پگڈنڈیوں سے گزر کر واقعی احساس ہوا کہ فیلڈ اسائنمنٹ دنیا کو ایک دوسرے ہی زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ایسے تجربات سے آگاہی ہوتی ہے، جو کسی کتاب میں موجود نہیں ہوتے ہیں۔ کسی شہر سے باہر بس چند کلومیٹرکے بعد دنیا ہی بالکل بدل جاتی ہے۔

امیٹھی ضلع میں فرصت گنج کے مقام پر راجیو گاندھی نیشنل ایوی ایشن یونیورسٹی میں پائلٹ ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ کھیتوں میں کام کر رہے مزدوروں کے سروں پرکے نزدیک سے نیچی پرواز کرنے والے طیارے گزرتے ہے۔ مگر اسی یونیورسٹی سے بس کچھ فاصلے پر ہی غربت کی شکار بستیاں ہیں، جہاں پانی، بجلی اور صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ یہ فیلڈ اسائنمنٹ ان تمام کامیابیوں کی حقیقت کی بھی جانچ کرنے کا سامان مہیا کرتا ہے، جو آئے دن دہلی میں وزیروں اور ان کے مشیروں کے ذریعے سننے کو ملتی ہیں اور جس کو کور کرتے ہوئے ہم اپنے آپ کو صحافی سمجھنے لگتے ہیں۔