بھارت: انتخابی میلہ ہوا کورونا کا شکار | دستک | DW | 19.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

بھارت: انتخابی میلہ ہوا کورونا کا شکار

آئے دن کے انتخابات کی وجہ سے بھارت میں ایک باضابط الیکشن صنعت قائم ہو چکی ہے، جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ مگر اس بار کورونا وائرس کی تیسری لہر نے اس صنعت سے منسلک افراد کی امیدوں کو ماند کر کے رکھ دیا ہے۔

صحافیوں کی طرح بھارت میں انتخابات، بینر بنانے والوں، پرنٹنگ پریس مالکان، آرٹسٹوں، بھیڑ کا انتظام کرنے والے ٹھیکے داروں اور متعدد دیگر پیشوں سے منسلک افراد کے لیے خوشی کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ آخر وہ خوش  کیوں نہ ہوں، کاروباری اداروں کی تجوریاں کھل جاتی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں اور ان کے امیدوار ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے لیے کروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ ووٹروں کو لبھانے کے لیے رنگا رنگ تقریبات، جلسے، جلوسوں کا اہتمام ہوتا ہے، گلی کے نکڑوں پر سبیلیں لگتی ہیں، لاؤڈ اسپیکر و مائیک والوں کی تو چاندی ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک پارلیمانی حلقے میں انتخابی مہم کے دوران تقریبا پچاس کروڑ روپیہ گردش کرتا ہے۔

حال ہی میں جب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پانچ صوبوں میں انتخابات کا اعلان کیا، ان سے قبل ہی الیکشن انڈسٹری حرکت میں آ چکی تھی۔ بھارت میں انتخابات بڑے پیمانے پر عوامی ریلیوں، انتخابی تقاریر، نعروں و لفاظی کا ایک دلچسپ منظر نامہ ہوتا ہے۔  گراؤنڈ مخصوص کرانا، شامیانہ لگانا اور اسٹیج تیار کرنا، کرسیوں، پوسٹر، بینر، لاؤڈ سپیکر، ریلیوں کو کامیاب بنانے کے لیے لوگوں کو گھروں سے نکالنا، چائے ناشتے کا انتظام کرنا وغیرہ اس صنعت کا ایک حصہ ہے۔ دیہی بھارت سے، ان اجتماعات میں شرکت کے لیے آنے والے زیادہ تر لوگ غریب اور بے روزگار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اجتماعات انہیں بغیر پیسہ خرچ کیے شہروں کی سیاحت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ سیاسی کارکنان ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام بھی کرتے ہیں۔

بھارت میں اب لوگوں کی ایک بڑی تعداد انتخابات کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ متعدد افراد اب باقاعدہ ریلی میں شرکت کے لیے بولی لگاتے ہیں اور اس میں شرکت کے لیے ایک سو سے پانچ سو روپے تک چارج کرتے ہیں۔ ایک ہی شخص ایک دن بھارتیہ جنتا پارٹی کے جلسے میں نعرہ لگاتا ہوا دکھائی دے گا اور وہی شخص اگلے روز کانگریس کے جلسے میں بھی حلق پھاڑ کر زندہ باد کے نعرے بلند کر رہا ہو گا۔ دیہی علاقوں سے جو لوگ ریلیوں میں آتے ہیں، ان میں سے اکثر کی ہیلی کاپٹر کو قریب سے دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔

مگر اس بار کورونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ سے الیکشن صنعت سے وابستہ افراد کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے۔ انتخابی کمیشن نے عوامی اجتماعات کے انعقاد پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے کیونکہ انتخابی ریلیاں کورونا وائرس کو پھیلانے کا مخرج ہو سکتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو گھر گھر مہم چلانے یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ عوامی اجتماعات کی عدم موجودگی، سفر پر پابندی اور وباء کے خوف سے صحافی بھی کچھ خوش دکھائی نہیں دے رہے۔ انتخابات کے دوران میڈیا کے اداروں کے مالکان بھی اپنی تجوریاں کھول دیتے تھے، جس کی وجہ سے صحافیوں کو گراؤنڈ پر جانے کا موقع ملتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ گراؤنڈ پر جانے کی وجہ سے انتخابات کی علاوہ درجنوں دیگر اسٹوریز بھی ملتی تھیں اور اصلی بھارت کی تصویر کو دکھانے  کا موقع ملتا تھا۔

رپورٹرز مایوس تو ہیں، مگر نیوز اینکر، جو اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر جوڑ توڑ کرتے ہوئے ملک کی تقدیر کی پیشن گوئیاں کرتے رہتے ہیں، ان کی اب چاندی ہو گئی ہے۔ چونکہ انتخابی ریلیاں نہیں ہو رہیں، اس لیے پارٹی کا ہر سینیئر لیڈر اپنی کامیابیوں کے بارے میں ٹی وی اسٹوڈیوز اور سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں شکوہ بھی کیا، کہ ان انتخابات میں وہ ان اینکرز کے دست نگر ہو گئے ہیں اور یہ اینکر ان کی پوری بات ختم ہونے سے قبل ہی ویڈیو یا انٹرویو کاٹ دیتے ہیں۔

جو کمپنیاں ڈیجیٹل اشتہاری مہم چلا رہی ہیں اور جن کے پاس ووٹر ڈیٹا بشمول موبائل نمبرز اور ای میلز موجود ہیں وہ اس الیکشن سیزن میں پیسہ کما رہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے کارکناں اب ان کے دفاترکے باہر قطاروں میں کھڑے ہیں اور انتخابی مہم پرکشش بنانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہر ایک پارٹی ڈیجیٹل مہم کے لیے تقریباً 10 سے 15 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس نئے  کھیل میں، حکمراں بی جے پی کو دوسروں پر واضح طور پر برتری حاصل ہے، کیونکہ پارٹی نے سن 2014 میں ہی ایک منظم ڈیجیٹل شعبہ قائم کیا تھا۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عوامی جلسوں پر پابندی کی وجہ سے وہی پارٹیاں گھر گھر مہم چلا پا رہی ہیں، جن کے پاس وسیع کیڈر ہے۔ اس لیے یہاں بھی  ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا منظم کیڈر بی جے پی کی مدد کو آرہا ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ چند سال پہلے تک جو الیکشن عوام کی ترقی، بدعنوانی، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل پر لڑے جاتے تھے، وہ آج مندروں اور ایک طبقہ کے خلاف نفرت پھیلانے کے بل پر لڑے جا رہے ہیں۔ تشویش کی بات ہے کہ بھارت کی تمام سیاسی جماعتیں، جب ہندی زبان بولنے والے علاقوں یعنی شمالی بھارت میں انتخابی دنگل میں اترتی ہیں، تو خود کو زیادہ قوم پرست اور ہندو ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں اور سیکولر کردار اور اقدار کو طاق پر رکھتی ہیں۔ یہ ان انتخابا ت کا ایک تشویش کن پہلو ہے۔ امید ہے ووٹر نفرت کی سیاست کو خیر باد کرکے تعمیری سیاست پر مہر لگا کر ملک کی ترقی و خوشحالی اور تکثیری معاشرے کو زندگی بخشیں گے۔

 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ملتے جلتے مندرجات