بھارت: امیت شاہ سمیت حکمراں بی جے پی کے درجنوں رہنما کورونا سے متاثر | حالات حاضرہ | DW | 03.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت: امیت شاہ سمیت حکمراں بی جے پی کے درجنوں رہنما کورونا سے متاثر

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نیز کرناٹک کے وزیر اعلی، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی، تمل ناڈو کے گورنر اوراترپردیش کے ریاستی وزیر سمیت حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے درجنوں سینئررہنما مہلک کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔

Varanasi Narendra Modi Indien (IANS)

فائل تصویر

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ، کرناٹک کے وزیر اعلی یدیورپّا، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی چوہان، تمل ناڈو کے گورنر پروہت، اترپردیش کے ریاستی وزیر مہندر سنگھ سمیت حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے متعدد سینئررہنما مہلک کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔

ادھر بی جے پی کی حکومت والی ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں واحد خاتون وزیر کملا رانی ورون کی کووڈ19کی وجہ سے اتوار کے روز موت ہوگئی۔

ایسے وقت میں جب بھارت میں تمام تر اقدامات کے باوجود کورونا وائرس کی وبا تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بعد دوسرے سب سے طاقت رہنما امیت شاہ کے کورونا سے متاثر ہونے کی خبر نے ملک میں خوف و دہشت پھیلا دی ہے۔ امیت شاہ کو ایک پرائیوٹ ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کرکے بتایا”کورونا کی ابتدائی علامات نظر آنے پر میں نے جانچ کروائی اور رپورٹ پوزیٹیو آئی ہے۔ میری طبیعت ٹھیک ہے لیکن ڈاکٹروں کے مشورے پر ہسپتال میں داخل ہورہا ہوں۔ میری گزارش ہے کہ آپ میں سے جو بھی لوگ گزشتہ دنوں میرے رابطے میں آئے ہیں، برائے کرم وہ خود کو آئسولیٹ کرلیں اور اپنی جانچ کرائیں۔"


 55 سالہ امیت شاہ نے گزشتہ بدھ کو کابینہ کی میٹنگ میں حصہ لیا تھا۔ جس میں وزیر اعظم مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سمیت تمام سینئر وزراء موجود تھے۔ پانچ اگست کو وزیر اعظم مودی اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد بھی رکھنے والے ہیں۔ امیت شاہ بھی اس تقریب میں مدعو ہیں۔

بی جے پی کے ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے امیت شاہ کا کافی مصروف شیڈول تھا۔ انہوں نے متعدد وزراء اور رہنماوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان میں ماحولیات کے وزیرمملکت بابل سپریو، کوئلے کے وزیر پرہلاد جوشی،  رکن پارلیمان اور انڈین کاونسل فار کلچرل ریلیشنز کے صدر ونئے سہسرابدھے، مغربی بنگال بی جے پی کے انچارج کیلا ش وجے ورگیہ،  ہریانہ بی جے پی کے سربراہ او پی دھنکر اور گجرات بی جے پی کے صدر سی آر پاٹل شامل ہیں۔ انہوں نے متعدد عوامی تقریبات میں بھی شرکت کی تھی۔

کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدیورپّا، امیت شاہ کے بعد گزشتہ روز کورونا کا شکار ہونے والے بی جے پی کے دوسرے سینئر ترین رہنما ہیں۔ انہوں نے بھی ٹویٹ کرکے کورونا پوزیٹیو ہونے کی اطلاع دی اور کہا کہ ڈاکٹروں کے مشورے پر ہسپتال میں داخل ہورہے ہیں۔ 77 سالہ یدیورپّا کے ساتھ ان کی بیٹی بھی کورونا پازیٹیو پائی گئی ہیں۔

 اترپردیش کی یوگی حکومت میں تکنیکی تعلیم کی وزیر کمل رانی ورون کی کورونا وائرس کی وجہ سے اتوار کو موت ہوگئی۔62 سالہ کمل رانی یوگی وزارت میں واحد کابینی وزیر تھیں۔

 اترپردیش کے وزیر برائے آبی وسائل مہندر سنگھ اور ریاستی بی جے پی کے سربراہ سوتنتر دیو سنگھ بھی کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ اترپردیش کے دیگر پانچ وزراء راجندر پرتاپ سنگھ، چیتن چوہان، دھرم سنگھ سینی، اپیندر تیواری اور وزیر صحت جے پرتاپ سنگھ کورونا سے پہلے سے ہی متاثر ہیں۔

قبل ازیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ بھی کورونا سے متاثر ہوگئے تھے اور اس وقت بھوپال کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ وہ پچھلے نو دنوں سے ہسپتال میں ہیں اور اگر کورونا کی علامت نگیٹیو آئی تو ہسپتال سے رخصت کیا جاسکتا ہے۔

اس دوران تمل ناڈو کے گورنر80 سالہ بنواری لال پروہت بھی کورونا پازیٹیو پائے جانے کے بعد ہسپتال میں داخل کرادیے گئے ہیں۔ گورنر ہاوس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر ہاوس میں تعینات سیکورٹی اور فائر سروس کے 84 اہلکار بھی کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔

آندھرا پردیش میں بی جے پی اور آرایس ایس کے سینئر رہنما پی مانک یالا راو کی بھی کورونا کی وجہ سے سنیچر کے روز موت ہوگئی۔ راو پارٹی کے قومی سکریٹری سمیت متعدد اہم عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔

Indien Greater Noida | Sharda Hospital (Getty Images/AFP/X. Galiana)

بھارت میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 18 لاکھ اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 38 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

 وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں بی جے پی کے نائب صدرمہیش شرما کی بھی کورونا کی وجہ سے موت ہوگئی۔ وہ گزشتہ ہفتہ کووڈ۔19 پازیٹیو پائے گئے تھے۔ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں حال ہی میں شامل ہونے والے سابق ممبر اسمبلی اکشے پٹیل بھی کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔

بہار میں بھی بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری، نائب صدر اور تنظیمی سکریٹری سمیت پارٹی کے 75 لیڈروں کے کورونا پازیٹیو پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حالانکہ ریاستی پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے والے پارٹی کے لیڈروں کی تعداد صرف 25 ہے۔

دیگر سیاسی جماعتو ں کے کئی رہنما بھی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی تموناش گھوش کی کورونا وائرس کی وجہ سے جون میں موت ہوگئی تھی۔ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے بیٹے کانگریسی رکن پارلیمان کارتک چدمبرم بھی کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ تاہم بی جے پی کے رہنما جتنی بڑی تعداد میں کورونا سے متاثر ہورہے ہیں ان پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا میں طرح طرح کے تبصرے بھی کیے جارہے ہیں۔

 حکومت کی طرف سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 18لاکھ اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 38 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:34

کشمیری نوجوان نے اسکریپ سے وینٹیلیٹر بنا لیا

DW.COM