بھارت افغان ایئر کارگو سروس کا  آغاز، اعلان آج متوقع | حالات حاضرہ | DW | 03.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت افغان ایئر کارگو سروس کا  آغاز، اعلان آج متوقع

بھارت اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک فضائی کارگو سروس کا آغاز کیا جائے گا۔ دونوں ممالک باہمی تجارت میں کمی کا ذمّہ دار پاکستان سے کشیدہ تعلقات کو ٹھہراتے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھارت کے شمالی شہر امرتسر میں ملاقات کی ہے، جہاں آج بروز ہفتہ مورخہ تین دسمبر سے دو روزہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس افغانستان میں استحکام کے حوالے سے منعقد کی جارہی ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان تین بار جنگ ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دشمنی ہے۔ دوسری جانب افغانستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات بھی مشترکہ ثقافتی اور مذہبی شناخت کے باوصف کشیدہ ہیں۔

 توقع ہے کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان ایئر کارگو سروس کے آغاز کا اعلان آج کسی وقت کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایئر کارگو سروس کا مقصد طالبان سے نبرد آزما اور چاروں جانب خشکی سے گھرے افغانستان کو اہم عالمی تجارتی منڈیوں تک رابطہ فراہم کرنا ہے۔ علاوہ ازیں اس کار گو سروس کی شروعات سے  افغانستان کے پھلوں اور اور قالین کی صنعت کو ترقی دینا بھی مقصود ہے۔

 افغانستان اپنی غیر ملکی تجارت کے لیے پاکستان میں کراچی کی بندر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو زمینی راستے سے محدود تعداد میں تجارتی سامان بھارت بھیجنے کی اجازت دے رکھی ہے تاہم اِسی راستے سے افغانستان کو بھارت سے درآمدات کی اجازت نہیں۔

مالی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے افغان ڈائریکٹر جنرل خالد پائندہ کا کہنا ہے، ’’خطے کی سب سے بڑی تجارتی منڈی بھارت کے ساتھ تجارت کا ممکنہ حجم اُس سے کہیں زیادہ ہے جو  افغانستان  زمینی راستے سے کرتا ہے۔ اِس مشکل پر قابو پانے کے لیے دونوں ممالک نے فضائی راستہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

 پائندہ نے مزید کہا، ’’یہ بھارت اور افغانستان کے درمیان فضائی کارگو سروس کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک میں تجارت کے امکانات وسیع ہیں۔ ہماری جانب سے زیادہ تر پھل اور خشک میوہ جات ہوں گے اور ممکنہ طور پر بھارت کے راستے افغان قالین اور دیگر مصنوعات دوسرے ممالک تک بھی پہنچائے جا سکیں گے۔‘‘

 پائندہ کے بقول دونوں حکومتیں کابل اور نئی دہلی ہوائی اڈوں پر فضائی کارگو سروس کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار گوپال بگلے کا کہنا ہےکہ افغانستان سے تجارت اور نقل و حمل کے ذرائع کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز پر بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مشیر سرتاج عزیز بھی اتوار چار دسمبر کو اِس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ اس سے قبل سرتاج عزیز نے پندرہ نومبر کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ہم ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کثیرالجہتی عمل کا حصہ ہے اور افغانستان ہماری اوّلین ترجیح ہے۔‘‘

 بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اُڑی کی فوجی بیس پر رواں برس ستمبر میں حملے کے بعد سے  اسلام آباد اور نئی دہلی کے مابین تناؤ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ اٹھارہ ستمبر کو لائن آف کنٹرول کے قریب اڑی سیکٹر میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے بھارت کے فوجی اہلکاروں پر ایک حملے میں 19 بھارتی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوئے تھے تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

DW.COM

اشتہار