بھارتی یوم جمہوریہ: مظاہروں کی نذر | حالات حاضرہ | DW | 26.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارتی یوم جمہوریہ: مظاہروں کی نذر

بھارت میں آج یوم جمہوریہ کی سالانہ فوجی پریڈ کے مہمان خصوصی برازیل کے صدر جیئر بولسونارو تھے۔ ممبئی میں بولسونارو کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ جبکہ دوسری جانب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

بھارت میں آج چھبیس جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر خصوصی سالانہ فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔ نئی دہلی میں ہزاروں فوجی اہلکاروں نے ملکی صدر رام ناتھ کووند کو سلامی دی۔ بھارت نے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزائل، ٹینکس، رفائل جیٹ، چینوک اور اپاچی ہیلی کوپٹر بھی اس پریڈ میں پیش کیے۔ اس کے علاوہ پریڈ میں بھارتی علاقوں کے روایتی رقص بھی پیش کیے گئے، جس میں سینکڑوں مرد، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔

دو قوم پرست رہنماؤں کی ملاقات
یوم جمہوریہ کی اس فوجی پریڈ کو دیکھنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ برازیل کے صدر جیئر بولسونارو بھی موجود تھے۔ دونوں قوم پرست رہنماؤں نے گزشتہ روز دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط  بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔


واضح رہے گزشتہ برس برازیل نے  بھارت کی جانب سے چینی کی برآمدات پر سبسڈی دینے پر  عالمی تجارتی تنظیم سے شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عالمی منڈی میں مسابقت کو نقصان پہنچے گا۔ دنیا بھر میں گنے کی کاشت میں برازیل کے بعد بھارت کا نام آتا ہے۔
علاوہ ازیں بھارت کے ساحلی شہر ممبئی میں جمعے کے روز انتہائی دائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے اور سابقہ فوجی کپتان جیئر بولسونارو کے بھارتی دورے کے خلاف ریلی بھی نکالی گئی۔ مظاہرین نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بولسونارو کے موقف پر تنقید کی اور ان کی جانب سے خواتین سیاستدانوں کے خلاف ’سیکسسٹ‘ بیانات پر بھی سوالات اٹھائے۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر مظاہرے
دہلی میں آج اتوار کے روز یوم جمہوریہ کی تقریبات کے ساتھ ساتھ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی جاری رہے۔ اطلاعات کے مطابق  'Save the constitution' یعنی ’آئین کے تحفظ‘ کے عنوان سے بینگالورو، حیدرآباد، پونے، کولکتہ اور ممبئی میں بھی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جنوبی کیرالا میں 620 کلومیٹر طویل ایک انسانی زنجیر بھی بنائی جائے گی۔

بھارتی حکومت نے شہریت سے متعلق جو نیا قانون منظور کیا ہے، اس میں پڑوسی ممالک، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ایسے تمام تارکین وطن کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جو وہاں اقلیت میں ہیں لیکن مسلمان اس میں شامل نہیں ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ عمل بھارتی آئین کے سیکولر نظریات کے برعکس ہے۔

یوم جمہوریہ پر سخت سکیورٹی انتظامات
بھارت میں یوم جمہوریہ منانے کا سلسلہ سن 1950 میں نئے دستور کے نفاذ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ آج اس موقع پر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں میں بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں دستی بم پانچ دھماکوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ پولیس کے مطابق  اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور شبہ ہے کہ اس میں ملیشیا گروہ  ملوث ہو سکتے ہیں۔
ع آ /ع ا (ڈی پی اے / اے ایف پی)

DW.COM